" کیا ہم نے اپنا وقار کھو دیا "
ایک ایسا سوال ، جو ہم سب کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیئے ۔ آئیے سوچتے ہیں ۔
اللہ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا اور ہمارے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کو خلعت خلافت بخشی ۔ کیا ہم اشرف المخلوقات کہلانے کے حقدار رہے ۔ ہماری کتنی عادات و اطوار حیوانوں سے بھی بد تر ہیں ، کبھی سوچا ۔
ہدایت کے عمل کی وہ شمع ہماری رہنمائی کے لئے روشن کر دی ، جس کی روشنی سے پوری کائنات منور ہے ، اور ہمیں اپنے حبیب کی امت بنا دیا ۔ ہمارے لئے فلاح اور بھلائی کی راہیں کھول دیں ، کیا ہم نے اللہ کے حبیب کی امت ہونے کا حق ادا کیا ۔ کیا ہم نے وہ راستہ اپنایا جس کی ہمیں ہدایت کی گئی ۔ ہم نے ایک امت ہونے کی بجائے مسالک کی تفریق کا راستہ چن لیا ۔ ہم نے ایک مسلمان امت ہونے کی بجائے الگ الگ مسالک کے نام رکھ لئے اور اس پر سختی سے کاربند ہو گئے ۔
اللہ کی رحمت سے ہمیں ایک سر زمین میسر آئی ، جس وطن کے لئے ہمارے اباو اجداد نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا ، ہم پاکستانی ہونے کی بجائے ، سندھی ، پنجابی ، بلوچ ، مہاجر اور پختون بننے کو ترجیح دینے لگے ۔ اجتماعی سوچ ، جو قوموں کی شان ہوتی ہے ، دفن کر دی ۔ ہم نے زبان کو اپنی شناخت بنا ڈالا ، جبکہ زبان صرف اظہار کا طرز ہوا کرتی ہے ۔ ہم بہکی ہوئی ، حونک قوم بن کر رہ گئے ۔ ہمیں مغضوب ، سرکش اور گمراہ دانشوروں کے اقوال یاد ہوگئے اور ہم اپنے اسلاف کی باتوں کا مذاق اڑانے لگے ۔ ہم نے اپنا وقار داوٴ پر لگا دیا اور ہر میدان میں شکست ، ہزیمت اور شرمندگی کے سوا ہمارے پاس کچھ نہیں رہا ۔ اب جس کا دل چاہتا ہے ، بھونکتا ہے ، جس کا دل چاہتا ہے غراتا ہے ، جس کا دل چاہتا ہے کاٹتا ہے ، جس کا دل چاہتا ہماری ناموس سے کھیلتا ہے ۔ کیا یہ سب سوچنے ، سمجھنے ، اور فکر کرنے کی باتیں نہیں ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
Tuesday, 21 February 2017
کیا ہم نے اپنا وقار کھو دیا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment