Tuesday, 21 February 2017

کیا ہم نے اپنا وقار کھو دیا

" کیا ہم نے اپنا وقار کھو دیا "
ایک ایسا سوال ، جو ہم سب کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیئے ۔ آئیے سوچتے ہیں ۔
اللہ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا اور ہمارے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام  کو خلعت خلافت بخشی ۔ کیا ہم اشرف المخلوقات کہلانے کے حقدار رہے ۔ ہماری کتنی عادات و اطوار حیوانوں سے بھی بد تر ہیں ، کبھی سوچا ۔
ہدایت کے عمل کی وہ شمع ہماری رہنمائی کے لئے روشن کر دی ، جس کی روشنی سے پوری کائنات منور ہے ، اور ہمیں اپنے حبیب کی امت بنا دیا ۔ ہمارے لئے فلاح اور بھلائی کی راہیں کھول دیں ، کیا ہم  نے اللہ کے حبیب کی امت ہونے کا حق ادا کیا ۔ کیا ہم نے وہ راستہ اپنایا جس کی ہمیں ہدایت کی گئی ۔ ہم نے ایک امت ہونے کی بجائے مسالک کی تفریق کا راستہ چن لیا ۔ ہم نے ایک مسلمان  امت ہونے  کی بجائے الگ الگ  مسالک کے نام رکھ لئے اور اس پر سختی سے کاربند ہو گئے ۔ 
اللہ کی رحمت سے ہمیں ایک سر زمین میسر آئی ، جس وطن کے لئے ہمارے اباو اجداد نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا ، ہم پاکستانی ہونے کی بجائے ، سندھی ، پنجابی ، بلوچ ، مہاجر اور پختون بننے کو ترجیح دینے لگے ۔ اجتماعی سوچ ، جو قوموں کی شان ہوتی ہے ، دفن کر دی ۔ ہم نے زبان کو اپنی شناخت بنا ڈالا ، جبکہ زبان  صرف اظہار کا طرز ہوا کرتی ہے ۔  ہم بہکی ہوئی ، حونک قوم بن کر رہ گئے ۔ ہمیں مغضوب ،  سرکش اور گمراہ  دانشوروں کے اقوال یاد ہوگئے اور ہم اپنے اسلاف کی باتوں کا مذاق اڑانے لگے ۔  ہم نے اپنا وقار داوٴ پر لگا دیا اور ہر میدان میں شکست ، ہزیمت اور شرمندگی کے سوا ہمارے پاس کچھ نہیں رہا ۔ اب جس کا دل چاہتا ہے ، بھونکتا ہے ، جس کا دل چاہتا ہے غراتا ہے ،  جس کا دل چاہتا ہے کاٹتا ہے ، جس کا دل  چاہتا ہماری  ناموس سے کھیلتا ہے ۔ کیا یہ سب سوچنے ، سمجھنے ، اور فکر کرنے کی باتیں نہیں ۔ 
شکریہ
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment