Wednesday, 22 February 2017

اللہ کا کرم

"اللہ کا کرم  "
اگر ہم اپنے اعمال اور اللہ کی عطاوں کو دیکھیں ، تو اندازہ ہو گا کہ ہمارا رب ، کس قدر مہربان ، کریم ، رحیم اور اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے ۔ شرک ، کفر ، گناہ ، عیب جوئی ، جھوٹ ، حرص و ہوس ، دوسروں کی دل آزاری ، عبادت میں ریا کاری ، نفاق اور بےشمار خرابیاں ، ہم انسانوں کا معمول ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ جن برائیوں پر شرم آنی چاہئے ، ان برائیوں پر فخر ہونے لگا ہے ۔ رات کی تاریکی میں کئے گئے گناہ ، دن کے اجالے اور محفلوں میں موضوع گفتگو ہونے لگے ہیں ۔  اپنے ہی بھائی بندوں کی دل آزاری پر استراحت محسوس ہونے لگی ہے ۔ گویا انسان پستی کی اس سطح کو چھونے لگا ہے ، کہ الامان ، شیطنت بھی پیچھے رہ جاتی ہے ۔ 
میں اور آپ بھی ، کہیں نہ کہیں ،  اخلاقیات کی اس پستی کا حصہ بھی ہیں اور معاونت بھی کرتے ہیں ۔ ہم سب برائی کو پروان چڑھانے میں ، کہیں نہ کہیں معاون ہیں ۔ غور ہی نہیں کرتے ۔
یہ وہ برائیاں ہیں ،  جن پر کئی قومیں اللہ کے عتاب کا شکار ہو گئیں ۔ مگر اللہ نے اپنی رحمتوں کے سارے دروازے ہم پر کھول رکھے ہیں ۔ یہ اسکا کرم ہے کہ ہم اسکی طرف ایک قدم بڑھتے ہیں تو وہ کئی قدم ہماری طرف آجاتا ہے ۔ یہ اسکا کرم ہے کہ جب بھی توبہ کا دروازہ کھٹکھٹاو ، دروازہ کھل جاتا ہے ۔ یہ اسکا کرم ہے کہ وہ ہمارے عیب شمار ہی نہیں کرتا ، ایک ندامت کے آنسو پر  ساری بیاض کو صاف کر دیتا ہے ۔
بس دئیے جاتا ہے ، دامن پھیلاتے جاو ، بھرتا جاتا ہے ۔ اور جب ایک آزمائش ڈال دیتا ہے تو ہم اسکی ساری رحمتیں بھول کر شکایات کا پنڈورا کھول لیتے ہیں ۔
اگر ہم اسے راضی رکھیں اور اسکی رضا پہ راضی ہو جائیں تو جو قرب ملے گا ، اسکا اندازہ کبھی ممکن نہیں ۔ اسکو جانچنے کا پیمانہ ہی نہیں ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment