Tuesday, 21 February 2017

علاج میں دیر کیوں



" علاج میں دیر کیوں "
شیخ مجیب الرحمن بیمار ھوا ، اور وطن کے حکیم سوچتے رہے ، انتظار کرتے رھے کہ شائد از خود ٹھیک ہو جائے ۔ مرض ٹھیک نہیں ھوا ۔ اچھوت مرض نے پورے مشرقی پاکستان کے بچے بچے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ بالآخر وطن کا ایک بازو کٹ گیا۔
خبریں آتی رہتی ہیں کہ مجیب والی بیماری اس لیڈر کو بھی لگ گئی ہے ، اس لیڈر پر بھی حملہ ہو رھا ہے اور ہلکا ہلکا بخار قرب و جوار میں بھی شروع ہو گیا ہے ۔
سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہمارے حکیم علاج کرنے میں اتنی دیر کیوں کر دیتے ہیں ، کہ ناخن کاٹنے سے ٹھیک ہو جانے والے زخم کو بازو کاٹنے کی نوبت پر کیوں لے جاتے ہیں ۔  یا تو پیشہ ورانہ مہارت میں کمی ہے کہ اچھے معالج نہیں ، یا مرض کے جراثیم پھیلانے والوں سے کوئی مفاد ہے ، یا پھر  کاہلی ہے ۔  کتنے ہی مریض ہو گئے ہیں اور وہ پورے جتن سے اپنے مرض کے جراثیم دوسروں تک پہنچا رہے ہیں ۔ معالجوں نے ہوش نہ کیا تو مرض نا قابل علاج ہو جائے گا۔ جسم سے ایک بازو تو کاٹ چکے ہو ، اور کون کون سا حصہ کاٹو گے۔ مرض پھیلنے کے اسباب پر غور کرو اور علاج ابتدائی مرحلے پر کرو گے تو آسانی رہے گی۔
شکریہ
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment