Thursday, 23 February 2017

ردالفساد

" ردالفساد "
مرض کی تشخیص کے بغیر علاج ممکن ہی نہیں ہوتا ۔ چند بہکے ہوئے لوگوں کو مار  دینے سے فساد کا خاتمہ محض ایک مذاق ہے ۔ کچھ حقوق کے نام پر تشدد کی راہ پر چل پڑے ، کچھ سیاسی مداریوں کے بہکاوے کا شکار ہو گئے ، کچھ کو علاقائی اور لسانی تعصب نے گمراہ کر دیا ۔ ان سب کو ایک ایک کر کے مار بھی دیا جائے ، تو کیا فساد ختم ہو جائے گا ۔
ان ججوں کا کیا ہو گا ، ان وکیلوں کا کیا ہو گا ، جنہوں نے عدالتوں میں فساد کی بنیاد کو مضبوط کیا ۔ ان پولیس افسران کا کیا ہو گیا ، ان انٹیلیجنس افسران کا کیا ہو گا ، جن کی غفلت کے باعث فسادی مضبوط ہوتے رہے ۔ ان وڈیروں ، چوہدریوں ، سرداروں اور خانوں کا کیا ہو گا ، جو غنڈوں کی پناہ گاہیں ہیں ۔ ان سیاستدانوں کا کیا ہو گا ، جن کی ایماء پر دہشت نے جنم لیا ۔ ان مذہبی رہنماوٴں کا کیا ہو گا ، جنہوں نے اسلام کو مسالک کے فساد سے آلودہ کر دیا ۔ ان صحافیوں کا کیا ہو گا ، جو دانش کے نام پر نسلوں کو گمراہ کر رہے ہیں ۔ ان جرنیلوں کا کیا ہو گا ، جو وطن کے اندر دہشت کے اڈوں سے بھی بے خبر رہے اور سرحد پار سے آنے والوں کی خبر نہ رکھ سکے ۔کہاں سے شروع کرو  گے اور کہاں ختم کروگے ۔ وہ اشرافیہ طبقے کے رشتے توڑے بغیر ، ردالفساد ختم کرنے کی کہانی تو پھر سے ایک دلاسہ ہے ۔ انہی دلاسوں نے مکتی باہنی کو طاقت دی اور وطن چیر ڈالا ۔ تم سب تو اشرافیہ ہو ، رشتوں سے بندھے ہو ایک دوسرے کے ۔ خاندانوں کی زنجیریں پہنے بیٹھے ہو ۔ شفارشوں اور رشوتوں کی بیساکھیوں سے اوپر آتے ہو ۔ مسالک پر وارفتگی کو ایمان جانتے ہو ۔ کیسے کروگے فساد ختم ۔ اپنے جسم کا حصہ کیسے کاٹو گے ۔ 
فساد کو ختم کرنا مسیحائی ہے ، اگر ارادہ کیا ہے تو کر گزرو ۔ بلا امتیاز ، جڑیں کاٹو ، شاخیں کاٹ بھی ڈالیں تو پھر اگ آئیں گی ۔ ہزاروں شاخیں کاٹنے سے بہتر ہے کچھ درخت کاٹ ڈالو ۔ لاکھوں شاخیں خود بخود سوکھ جائیں گی ۔ 
شکریہ
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment