Tuesday, 21 February 2017

حقوق نسواں



 حقوق نسواں "
مغربی تہذیب کا فطری رحجان یہ ہے کہ ہر فعل کو منافقت کے لبادے میں لپیٹے رکھتے ہیں ۔ امن کی بات کرتے ہیں ، جانوروں کے حقوق پر متحرک رہتے ہیں ، ہر کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کو بد تہذیبی کہتے ہیں ۔ مذاہب کے جھنجھٹ سے نالاں رہتے ہیں ۔ سب سے زیادہ عورت کی آزادی کے مبلغ بنتے ہیں ۔ مغرب کی عورت بھی خود کو آزاد تصور کرتی ہے۔ اور اپنے آپ کو مرد کے ہم پلہ خیال کرتی ہے ۔ حقیقت کیا ہے۔  یہ سب افسانوی باتیں ھیں ۔  دنیا میں بد امنی ، فساد ،
کینہ پروری ، مذہبی انتشار کے اصل محرک یہی منافق لوگ ہیں ۔ عورت کی آزادی اور مساویانہ اقدار بھی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔
آزاد خیالی ، آوارہ مزاجی اور بے راہروی کو اگر آزادی مان لیا جائے تو درست ہے کہ مغرب کی اکثریت آزاد ہے ۔ اس جنگل کی طرح جہاں ہر زندہ جانور آزاد رہتا ہے صرف اسوقت تک جب تک طاقتور جانور کو بھوک نہ لگے ۔ عورت کے حقوق کا داعی معاشرہ عجیب ہے ۔ عورت آزاد ہے اپنی ضروریات کی تگ و دو کیلئے ۔ کہ وہ اپنے شوہر کے کندھوں کا بوجھ نہ بنے ۔ وہ تیار ہے ہر اس کام کےلیے جو مرد عموماً پسند نہیں کرتے ۔ دن بھر کی مشقت عورت کو گھر ، شوہر  اور بچوں کی ذمہ داری سے قطعاً آزاد نہیں کرتی ۔  عورت ایک مجسمہ ہے جسے جہاں ، جب اور جیسے سجا لیا جاتا ہے ۔ اپنی عزت ، توقیر اور سوچ کو بیچ کر کبھی مساویانہ حقوق کی بات نہیں کی جا سکتی کیونکہ ہر بار دام لگانے اور خریدنے والا ہی بلندی پہ ہوتا ہے ۔  بکنے والا وجود اور خریدنے والا خریدار کبھی مساوی نہیں ہوتے ۔  اگر یہ کہا جائے کہ مغرب کا حقوق نسواں عورت کے مقام کا انحراف ہے ، تو غلط نہ ہو گا ۔ عورت کے مقام کا اگر کسی معاشرے اقرار کیا ہے تو اسلام ہے ۔ جس میں عورت کا وہ مقام  ہے جو اسکا حق ہے ۔ ماں ،بہن ، بیٹی اور بیوی کا جو درجہ اسلام نے قائم کیا ، وہ ہے حقوق نسواں کی تصویر ۔
شکریہ
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment