حقوق نسواں "
مغربی تہذیب کا فطری رحجان یہ ہے کہ ہر فعل
کو منافقت کے لبادے میں لپیٹے رکھتے ہیں ۔ امن کی بات کرتے ہیں ، جانوروں کے حقوق
پر متحرک رہتے ہیں ، ہر کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کو بد تہذیبی کہتے ہیں ۔
مذاہب کے جھنجھٹ سے نالاں رہتے ہیں ۔ سب سے زیادہ عورت کی آزادی کے مبلغ بنتے ہیں
۔ مغرب کی عورت بھی خود کو آزاد تصور کرتی ہے۔ اور اپنے آپ کو مرد کے ہم پلہ خیال
کرتی ہے ۔ حقیقت کیا ہے۔ یہ سب افسانوی باتیں ھیں ۔ دنیا میں بد امنی
، فساد ،
کینہ پروری ، مذہبی انتشار کے اصل محرک یہی
منافق لوگ ہیں ۔ عورت کی آزادی اور مساویانہ اقدار بھی حقائق سے مطابقت نہیں
رکھتے۔
آزاد خیالی ، آوارہ مزاجی اور بے راہروی کو
اگر آزادی مان لیا جائے تو درست ہے کہ مغرب کی اکثریت آزاد ہے ۔ اس جنگل کی طرح
جہاں ہر زندہ جانور آزاد رہتا ہے صرف اسوقت تک جب تک طاقتور جانور کو بھوک نہ لگے
۔ عورت کے حقوق کا داعی معاشرہ عجیب ہے ۔ عورت آزاد ہے اپنی ضروریات کی تگ و دو
کیلئے ۔ کہ وہ اپنے شوہر کے کندھوں کا بوجھ نہ بنے ۔ وہ تیار ہے ہر اس کام کےلیے
جو مرد عموماً پسند نہیں کرتے ۔ دن بھر کی مشقت عورت کو گھر ، شوہر اور بچوں
کی ذمہ داری سے قطعاً آزاد نہیں کرتی ۔ عورت ایک مجسمہ ہے جسے جہاں ، جب اور
جیسے سجا لیا جاتا ہے ۔ اپنی عزت ، توقیر اور سوچ کو بیچ کر کبھی مساویانہ حقوق کی
بات نہیں کی جا سکتی کیونکہ ہر بار دام لگانے اور خریدنے والا ہی بلندی پہ ہوتا ہے
۔ بکنے والا وجود اور خریدنے والا خریدار کبھی مساوی نہیں ہوتے ۔ اگر
یہ کہا جائے کہ مغرب کا حقوق نسواں عورت کے مقام کا انحراف ہے ، تو غلط نہ ہو گا ۔
عورت کے مقام کا اگر کسی معاشرے اقرار کیا ہے تو اسلام ہے ۔ جس میں عورت کا وہ
مقام ہے جو اسکا حق ہے ۔ ماں ،بہن ، بیٹی اور بیوی کا جو درجہ اسلام نے قائم
کیا ، وہ ہے حقوق نسواں کی تصویر ۔
شکریہ
ازاد ھاشمی
No comments:
Post a Comment