|
سچ کیا ہے
پاکستان کے بہترین کارکردگی کے حامل افسر نے چند ماہ پہلے ایک ایسا تیر مارا کہ پورے معاشرے میں بلے بلے ہو گئی ۔ دنیا میں ملک کی گرتی ہوئی ساکھ بچ گئی ۔ جعلی ڈگریاں ایک ایسا جرم جو نا قابل قبول تھا۔ جو ملک لوٹنے ، ملک کو مردہ باد کہنے اور مردہ باد کرنے کی کوششوں سے بھی سنگین جرم ہے ۔ ان جرائم سے کیا ملک کی عزت اور توقیر میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ایسے معاملات میں یہ آفیسر کہاں چلے جاتے ہیں ۔ ایک عام درجے کا آدمی اپنی قابلیت پر ترقی کر جائے ، تو وہ نا کردہ گناہ پر بھی گرفت میں آ جاتا ہے ۔ اگر وہ مجرم تھا اور ساری تحقیقات درست تھیں تو پھر عدالت مجرم ہے ، جس نے ایسے گناہ گار کو چھوڑ دیا ۔ اگر عدالت کا فیصلہ درست ہے تو اس اعلیٰ کارکردگی والے آفیسر کے خلاف کیا کاروائی ہو گی ۔ کیا وہ یوں ہی جاھل حکمرانوں کے اشاروں پر جبر کا ڈنڈا تھامے رہے گا ۔ دنیا کی روایت یے کہ ہر جابر کو اسکی رعونت کی سزا ملتی ہے اور بالآخر وہ ذہنی قرب کا شکار ہو کر زندگی بھر کے تکبر کا حساب چکاتا ھے۔ جو بھی کرسی کے فریب کا شکار ھوا اسے خمیازہ بھی بھگتنا پڑا۔ یہی سچ ہے کہ کرسی کے تکبر نے ایک ترقی کیطرف بڑھتے ھوئے نوجوان کو رسوائی دینا چاہی ، نہیں دے سکا ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ایک خود سر افسر نے اپنی انا کی تسکین کی خاطر ایک قابل اور ذہین نوجوان کی حوصلہ شکنی کی کوشش کی ۔ نہ صرف یہ کہ کئی گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر ڈالے۔ کیا اسکا حساب نہیں ہو گا ۔ الله حساب لینے پہ قادر ہے۔ جو بھی غلط تھا ، ابھی حساب باقی ہے ۔شکریہ آزاد ہاشمی |
|
Friday, 24 February 2017
سچ کیا ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment