" ماں کی یاد "
اسکی آنکھیں ڈبڈبا گئیں - اور بھرائی ہوئی آواز میں کچھ کہتے کہتے رک گیا - میں نے کبھی اس روپ میں اسے نہیں دیکھا - میرے اسرار پہ بولا -
" یار آج ماں کو دیکھے آٹھ سال ہو گئے ہیں - کیا کرنا ایسی عید کا جو ماں کے گلے لگے بغیر گزرے "
میری آنکھیں بھی بھیگ گیں - تریسٹھ سال کی عمر میں ماں کی یاد کا یہ عالم -
" آج کا دن ہی ایسا ہے کہ اپنوں کی بہت یاد آتی ہے "
میں نے فلسفہ جھاڑنے کی کوشش کی "
تو وہ چھوٹے سے بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا -
" آٹھ سال کا کوئی بھی دن تو ایسا نہیں کہ ماں کے بغیر جو سو سال سے کم تھا - یار تو سوچ تو سہی کہ میری ماں کے دل کا کیا حال ہو گا - اس کے حلق سے سویاں کیسے اتری ہوں گا - وہ دل ہی دل میں کتنا روئی ہوں گی - کیسے دروازے کی طرف بار بار دیکھا ہو گا - کیسے خیالوں ہی خیالوں میں مجھے گلے لگایا ہو گا "
وہ ٹھیک کہ رہا تھا - پردیس کتنا بھی پر فریب کیوں نہ ہو - عید اگر ماں کے گلے سے لگے بغیر گزرے تو درد کا احساس ہونا فطری سا عمل ہے -
آزاد ھاشمی
Wednesday, 19 June 2019
ماں کی یاد
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment