" متاثرین بیگمات یونین "
شہر کے تمام پبلک مقامات پر ، گرلز کالجوں کے سامنے ، کارٹون زدہ پوسٹر چسپاں تھے ۔ کارٹونوں میں بیگمات کے تشدد کے نئے نئے طریقے واضع تھے ۔ چند " بیگمات کے ستائے " ہوئے شوہروں کے نعرے درج تھے ۔ جلی حروف میں لکھا تھا ۔
" شہر سے اکثریت ہماری ممبر بن چکی ہے "
اسکے ساتھ ہی درج تھا ۔
" یہ پوسٹر مذاق نہیں ۔ ایک درد کی آواز ہے ۔ اسلئے دانت نکالنے کی نہیں سوچنے کی گھڑی ہے "
احتجاج کی تاریخ ، وقت اور جگہ بھی درج تھی ۔ سرخ رنگ سے نوٹ لکھا ہوا تھا ۔
" خواتین کا داخلہ ممنوع ہے "
شہر کا شاید ہی کوئی شیر شوہر ہو گا ، جس نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ اچھی بات نہیں ۔ صد فی صد اس یونین کے ہم آواز تھے ۔ ہم خیال دوستوں کے اجلاس جاری تھے ، تجاویز پر تجاویز آ رہی تھیں ۔ کچھ خوش تھے کہ چلو اب پکا پکایا کھانے کو ملے گا ۔ کچھ بغلیں بجا رہے تھے کہ اب گھر میں حکمرانی کی کرسی انکا نصیب ہو گی ۔ اب وہ ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے آواز لگائیں گے ۔
" کہاں مر گئی ہو ۔ چائے لے آو " تو کچن سے کانپتی آواز آئے گی ۔
" جی ابھی لا رہی ہوں "
ایسے بہت سارے خواب جاگتی آنکھوں سے دیکھے جا رہے تھے ۔ ہر کوئی خوش تھا کہ بس چند روز بعد ہر گھر میں مردوں کے دھاڑنے کی آوازیں آیا کریں گی ۔ کوئی بیوی فرمائش کرنے سے پہلے سو سو بار سوچے گی ۔ شوہر کے موڈ کو دیکھے گی ۔ شہر کا داروغہ بھی خوش مزاج سا نظر آنے لگا تھا ۔
آخر وہ دن آگیا ۔ سٹیج سج گیا ، کرسیاں لگ گئیں ۔
کون جانے کہ تقدیر ابھی ساتھ دینے کو تیار نہیں ۔ کون جانے کہ ہر گھر کی اسٹیبلشمنٹ پوری طرح باخبر بھی ہے اور منظم بھی ۔ کسی کو خبر بھی نہیں تھی اور وقت سے آدھا گھنٹہ پہلے چند بیگمات کرسیوں پر آکر بیٹھ گئیں ۔ اب دھیرے دھیرے بیگمات جلو در جلو کرسیوں پر براجمان تھی ۔ یونین بنانے کے بہادروں میں سے کوئی قریب قریب نہیں تھا ۔ کوئی نہیں تھا تو آگے بڑھ کے بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے ۔ تھوڑی دیر میں " تنظیم تحفظ حقوق خواتین " کا نام تجویز ہوا ، اور " متاثرین بیگمات یونین " کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے ۔
آزاد ھاشمی
١٨ جون ٢٠١٨
Tuesday, 18 June 2019
متاثرین بیگمات یونین
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment