Tuesday, 18 June 2019

ڈھنگ کا کام

"بابا  ! زندگی میں کوئی ڈھنگ کا کام بھی کیا یا پکوڑے ہی بناتے رہے "
خوش پوش نوجوان , لش پش گاڑی سے اترا اور پہلی بات جو کی , وہ اس کے دماغی خلجان جاننے کے  لئے کافی تھی -
" نہیں بیٹا کوئی بھی ڈھنگ کا کام سمجھ ہی نہیں آیا - یہی کرتا رہا " بابا جی نے مسکراتے ہوے جواب دیا -
" بیٹا جی ! آپ کیا کرتے ہو "
" کچھ نہیں , جاگیردار ہوں , والد صاحب پولیس میں افسر ہیں - مجھے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں - سوچتا ہوں سیاست کروں "
بابا  جی نے قہقہ لگایا -
" شکر ہے میرا اندازہ ٹھیک نکلا - میں سمجھ گیا تھا کہ تمھاری تربیت میں کمی ہے یا پھر دولت کا نشہ ہے - تمھارے آباؤ اجداد نے ڈھنگ کا کام کیا کہ انہیں جاگیر ملی , میرے باپ دادا نہ ضمیر فروش تھے نہ دھرتی کے غدار - اپنے رزق حلال پہ زندہ رہے اور یہی میری تربیت کی - مجھے کوئی ندامت نہیں یہ بے ڈھنگا کام کر کے - میرے الله کو ہاتھ سے کام کرنے والے سے محبت ہے - میرے  لئے یہی کافی ہے - میں کسی کا حق نہیں کھاتا , کسی کی دل آزاری نہیں کرتا , جو مل جاتا ہے شکر کرتا ہوں - یہ بے ڈھنگا کام میرے ضمیر کا سکون ہے "
بابا جی فاتحانہ انداز میں خوش تھے اور امیر زادہ تلملا رہا تھا -
" یہ میری غربت میرا اعزاز ہے - الله کا کرم ہے کہ یہ غربت مجھے میرے رب سے قریب کرتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ مجھے اپنے قریب رکھے - تیری یہ دولت تجھے تکبر پہ آمادہ رکھتی ہے اور الله نہیں چاہتا کہ تو اسکے قریب ہو - الله سے توبہ کر , اپنی عاقبت کی فکر کر - تیرا پولیس افسر باپ , تیری جاگیر تجھے بہکا رہے ہیں - قبر میں تو بھی میری طرح ہو گا "
یہ کہتے ہی بابا جی نے امیر زادے کو گلے سے لگایا , دونوں کی آنکھیں نم تھیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment