" قران کہاں ہے "
اللہ پاک نے انسان کی اصلاح کیلئے انبیاء اور رسول بھی بھیجے , کتابیں بھی اور صحیفے بھی . تمام امتوں نے اللہ کی کتابوں اور صحیفوں کو پیچھے کیا اور مذہبی رہنماوں , مبلغوں , کلیساوں اور گرجوں کے وارثوں کی تقلید شروع کر دی . مذہب ذاتی سوچ اور فکر کے تابع ہوتے رہے . یہ انسان کے عقائد کی مختصر سی تاریخ رہی . اللہ کو انبیاء اور رسولوں کے ساتھ کتابیں اور صحیفے بھیجنے کی کیا ضرورت پڑی تھی , اس اہمیت پر غور کیوں نہیں کیا جاتا رہا . اسے انسان کے اندر شیطنت سے دوستی کہنا بھی غلط نہیں .
تخلیق انسانیت سے حبیب خدا صل اللہ علیہ وسلم تک مذاہب کی یہی روش رہی .
ہم مسلمان , اللہ کو مانتے ہیں , رسول کو مانتے ہیں , احادیث کو سنتے بھی ہیں سناتے بھی ہیں , ایک ایک سنت کا اپنی ذات پر اطلاق بھی کرنا چاہتے ہیں . اپنے اپنے عقائد کی ایک ایک کتاب پڑھ لینا چاہتے ہیں . دوسرے عقائد میں بھی عیب جوئی کی مہم کرتے رہتے ہیں . قصائص الانبیاء بھی از بر ہیں , روایتیں اور حکایتیں بھی سناتے اور سنتے ہیں . ہر قول کو سونے کے پانی سے زریں بنا لیتے ہیں . اپنی پوری کاوش اور قابلیت سے اپنے قانون اور دستور ترتیب دے رہے ہیں . موعظین اور مبلغین با ربط اور بے ربط کہانیاں گھنٹوں سناتے ہیں . اپنے اپنے پیروں کی کرامات کی تشہیر کرتے ہیں . مشکل سے مشکل زبان پڑھ بھی لیتے ہیں , سمجھ بھی لیتے ہیں . ارسطو , لینن , سقراط , بقراط , حتی کہ گاندھی , چرچل , ماوزے تنگ , ایوب خان , بھٹو کی نگارشات پڑھنے کو علمیت کا معیار بنا رکھا ہے .
پتہ نہیں کیا بات ہے کہ ہم کو اگر یاد نہیں آتا تو قران , سمجھ سے بالاتر ہے تو قران , محو ہو گیا ہے تو قران , مشکل ہے تو قران . کیوں . اللہ نے تو ہدایت کیلئے بھیجا , ہم نے ذہن نشین کر لیا کہ اسکو سمجھنے کی کوشش کی تو بہکنے کا امکان ہے . کیوں . اللہ نے کہا " اس کتاب سے دین کو مکمل کر دیا ہے " ہمیں سمجھ ہی نہیں آیا کہ " دین " سے کیا مطلب تھا . ہم بھاگے بھاگے مولوی کے پاس گئے , عالم کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ ہمیں دین سمجھا دو . اس نے اپنی اور اپنے پیشرو کی کتابیں ہمیں پکڑا دیں وہی کیا جو یہود کے عالموں نے کیا , جو عیسائی پادریوں نے کیا . انہوں نے اللہ کی کتابیں چھڑوا دیں اور اپنی کتابیں پکڑوا دیں .
ہمارے علماء نے ہمارا قران غلاف میں بند کرا دیا . اسے دیکھنا , چومنا اور ختم کرنا ثواب بنا دیا . بنا سمجھے پڑھنے پر ایک ایک لفظ پر دس دس نیکیوں کی نوید سنا دی . اب دیکھیں کہ عملی زندگی میں قران کہاں ہے تو یقینی طور پر نظر نہیں آتا . مبلغین نے اپنے اپنے تبلیغی کورس بغلوں میں دبا لئے ہیں . صرف ثواب کی باتیں بتا رہے ہیں عمل کی نہیں . زندگی کے نظام کی نہیں . ان سب سے پوچھنا ہو گا " قران کہاں ہے "
ازاد ھاشمی
Sunday, 17 September 2017
قران کہاں ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment