" کیسی امیدیں "
میں بھی اسی قوم کا حصہ ہوں , جسے بھولی بھالی قوم کہنا مناسب لفظ نہیں رہا . اسے احمق قوم کہا جائے تو معقول اظہار ہے . ہر چڑھتے سورج کی پوجا , ہر چکا چوند سے عقیدت اور دن کی روشنی میں خواب دیکھنا . کبھی بھی با شعور معاشرے کی روایت نہیں ہوا کرتے . ہم کبھی سیاسی پنڈتوں سے امیدیں لگا بیٹھتے ہیں , کبھی سر پہ پگڑی یا ٹوپی کی امامت میں سیاست کھیلنے لگتے ہیں . کبھی کسے جبہ کیش سے اسلام کا نظام جوڑ دیتے ہیں . کبھی جج کی قلابازیاں ورغلا دیتی ہیں . کبھی جنرلوں کی روایتی حب الوطنی کا گیت سننے لگتے ہیں . کھلاڑی بھی اچھے لگتے ہیں - ستر سال سے یہی سوچ , یہی خواب , یہی امیدیں اور یہی ڈگر جاری ہے .
ہم بھول ہی گئے ہیں کہ اللہ نے جس پیارے کا دامن دیا تھا , جس دستور کو ہمیں بخشا تھا , جس رحمت سے ہمیں ہمیں مسلمان بنایا تھا . سب چھوڑ چھاڑ کر ہم کافروں کے دیوانے ہو گئے . اللہ کے سر کشوں کی ہر ادا اچھی لگنے لگی . ہر امید انہی سے جوڑ لی . تعجب اس وقت شدت اختیار کر جاتا ہے جب ہم زانی , شرابی , بدقماش اور خائن شخصیات کو اپنا لیڈر , قائد اور رہنما مان لیتے ہیں . جب ہم ان ملاوں سے اسلامی سوچ کی امید لگا لیتے ہیں , جنہوں نے فرقہ پرستی کی تلوار سے قوم کے اتنے ٹکڑے کر ڈالے ہیں کہ اب اکٹھا کرنا یا ان کو جوڑنا ممکن ہی نہیں رہا .
جب اقتدار کے بھوکے کتوں کو ہم قوم کا درد رکھنے کی بات پر یقین کر لیتے ہیں , تو ہماری حماقت کی انتہا ہو جاتی ہے .
کیا ایسا ممکن نہیں کہ ہم اسی رہنما , اسی ہادی , اسے قائد , اسی دستور کی طرف منہ موڑ لیں . جو اللہ نے اپنی رحمت سے ہمیں دیا . کیا ممکن نہیں اسی سے امیدیں جوڑ لیں جو امیدوں کو پورا کرنے کی قدرت رکھتا ہے . کیا ممکن نہیں اس کتاب سے جڑ جائیں جس کی ہدایت کے مشرک اور کافر بھی معترف ہیں . جس کا ایک ایک لفظ اللہ رضا انعام کرتا ہے .
ازاد ھاشمی
Sunday, 17 September 2017
کیسی امیدیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment