" کربلا اور اسلام "
وصال رسول صل اللہ علیہ وسلم , کے بعد ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو جانا باعث تعجب نہیں . اسلام سے وابستہ دو طرح کے لوگ موجود تھے . ایک وہ جن کے دلوں میں ایمان کی روشنی عروج پر تھی اور دوسرے وہ جن کے اندر اندھیرا تھا اور باہر اسلام کا لیبل . وہ بھی تھے جو ویسے ہی صاحب ایمان تھے جیسے اللہ چاہتا ہے , اور جن سے اللہ راضی تھا . دوسرے وہ جن کے اندر عربوں کا روایتی کینہ تھا . اور منافقت سے سیاہ تھے .
اسلام کی تعلیمات کے مطابق کسی بھی شخص کے ایمان پر رائے دینے کا حق کسی کو نہیں . یہ اللہ اور اسکے بندے کے درمیان کا معاملہ ہے . عمل اور کردار سے پتہ چلتا ہے کہ ہر شخص کس نہج پہ کھڑا ہے . اعمال کو اچھائی کے لبادے میں چھپائے رکھنا , منافقت کا ہنر خاص ہوا کرتا ہے .
یہی ہوا کہ جن کے اندر منافقت تھی , انہوں نے اسلام کے اوائل ہی میں فساد کی بنیادیں استوار کرنا شروع کر دیں . یکے بعد دیگرے خلفاء کی شہادتیں اور آل رسول کے خلاف نفرت کی دیوار چننا شروع کردی .
یہ منافقت کی آگ اس وقت پورے جوبن پر سامنے آ گئی , جب حسین علیہ السلام کو پورے اہل و عیال اور ساتھیوں کے ساتھ کربلا پر گھیر کر کھڑا کر دیا . آپ ع نے ہر ممکن کوشش کر ڈالی کہ کلمہ گو ایک دوسرے کے خون سے ہاتھ نہ رنگیں . مگر جن لوگوں نے اقتدار کی ہوس میں اتنے پاپڑ بیلے تھے , وہ آل رسول کو ختم کرنے اور رسوا کرنے کے درپے تھے . سو وہ اپنی کرہیہ خواہش کی تکمیل کرنا چاہتے تھے . ادھر حسین علیہ السلام اللہ کی رضا کے تابع مجبور کھڑے تھے . وہ کسی بھی قیمت پر جبر , رعونت اور منافقت کے سامنے سر جھکانے پر آمادہ نہ تھے . انہیں جان سے زیادہ ایمان عزیز تھا . اگر ایک فاسق اور فاجر کی بیعت کر لی جاتی , جو اپنی مرضی کی حکمرانی پر تلا بیٹھا تھا تو کربلا بھی نہ ہوتی اور آج اسلام کی موجودہ شکل بھی مختلف ہوتی . لوگ آل رسول کو بھی بھول جاتے اور رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ بھی محو ہو جاتا . یوں کہہ لیا جائے کہ کربلا اور اسلام لازم و ملزوم ہو گئے تھے . تو غلط نہ ہو گا .
ازاد ھاشمی
Sunday, 17 September 2017
کربلا اور اسلام
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment