" جس نظام کی بات کرتا ہوں "
جب بھی لکھا کہ جمہوریت کے نظام سے اللہ اور اللہ کے حبیب کا نظام بہتر ہے تو جمہوریت کے شیدائی شور مچانے لگتے ہیں . اسلامی نظام کے زوال کو نظام کی خامی کہنے میں ذرہ برابر تامل نہیں کرتے . جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اسلامی نظام کیوجہ سے اسلامی ریاست کی سرحدیں کتنی طویل ہو گئیں . تو انکے پاس کئی ایک توجیہ ہوتی ہیں . اپنی پوری کفر نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے باور کراتے ہیں کہ اسلام ناقابل عمل نظام ہے . کل ایک پوسٹ لکھی " عمران خاں کے نام " . اس کی تنقید کرتے ہوئے ایک محقق لکھتے ہیں , کہ
"اسلامی فتوحات کو کامیابی مان لیا جائے تو سکندر اعظم اور برطانیہ کی فتوحات خلفاء سے کہیں زیادہ تھیں . اور خلفاء کی ناکامی تھی کہ سب کے سب شہید کئے گئے . اسلئے اسلام کا.نظام قابل عمل ثابت نہیں ہوتا"
اسے ایمان کی کمزوری ہی نہیں , تاریخ اور حقائق سے نا واقفیت کہا جا سکتا ہے .
سکندر اعظم , ایک جنونی شخص تھا جسے فتوحات کا خبط تھا . کوئی فلاحی سوچ نہیں تھی . برطانیہ نے کبھی کوئی علاقہ فتح نہیں کیا , ہمیشہ سازش اور مکاری سے اکھاڑ پچھاڑ کی . اسے ایک برائی کہا جا سکتا ہے . فتوحات کا نام نہیں دیا جا سکتا .
اب آتے ہیں , اسلام کے نظام کی طرف . جب اسلام کے نظام کی بات ہوتی ہے تو یہ اللہ اور اللہ کے حبیب صل اللہ علیہ وسلم کا نظام ہے , صحابہ کا نہیں . آپ ص کی حیات طیبہ میں اسکی کامیابی کی کوئی دوسری رائے نہیں کہ یہ ایک مثالی نظام ثابت ہوا . صحابہ کی فتوحات اسی نظام کی ترویج تھیں حکمرانی کا جنون نہیں تھا . صحابہ کے دور میں امن , معیشت , انسانوں کے بنیادی حقوق , عدل و انصاف , تحفظ , مساوات کی آج تک کوئی نظام مثال پیش نہیں کر سکا . رہ گئی شہادت کی بات , تو کسی کا اللہ کی راہ میں جان دینا اعزاز ہے , سزا نہیں . اللہ یہ اعزاز صرف اسے عطا فرماتا ہے , جس سے بہت محبت فرماتا ہے . اور اللہ اسی سے محبت کرتا ہے جو اسکے احکامات کو من و عن تسلیم کرتا ہے . شہادتوں کے پیچھے کیا عوامل تھے , یہ ایک الگ موضوع بحث ہے . اور تاریخ سے بخوبی اگاہی ہو تو یقینی سمجھ آ جاتی ہے کہ ان شہادتوں کے پیچھے وہی اقتدار کی ہوس تھی , اور وہ کون لوگ تھے . کربلا کا واقعہ اس سازش کی پردہ دری کر دیتا ہے .
شکریہ
ازاد ھاشمی
Sunday, 17 September 2017
جس نظام کی بات کرتا ہوں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment