Sunday, 17 September 2017

غریب اور امیر

" غریب اور امیر "
بوڑھی عورت  نے اس نوجوان کے آگے ہاتھ پھیلایا , جو لمبی سے لش پش کار سے اترا تھا . اس امارت زدہ کو توفیق نہیں ہوئی کہ اس  بیچاری  کی طرف دیکھ ہی لے .
" بے عقل بڑھیا , بھوکے ننگے سے مانگ رہی ہے . کسی اللہ کے نوازے ہوئے سے مانگتی تو مل بھی جاتا "
بابا جی آنسو پونچھتے ہوئے خود کلامی کر رہے تھے .
" ارے بابا جی , وہ امیر آدمی ہے بھوکا ننگا کیسے ہو گیا " میں نے حیرانی سے پوچھا .
" بیٹا ! یہی بات تو سمجھنے کی ہے . اللہ کا پیارے  نبی , میرے لاکھوں درود و سلام اس مبارک ہستی پر , نے فرمایا ہے کہ غنی وہ.جس کا دل غنی . ان دولت والوں کی تو بھوک اور ہوس کا یہ عالم ہے کہ پیٹ پھٹ بھی رہا ہو تب بھی ٹھونستے چلے جاتے ہیں . جتنی دولت کی ہوس بڑھتی جاتی ہے , انسان اتنا ہی غریب ہوتا جاتا ہے . مفلسی اسکی روح میں اتر جاتی ہے . اللہ کی ذات سے توکل اٹھ جاتا ہے اور دولت سے جڑ جاتا ہے .جب  انسان دولت کو پوجنے لگتا ہے . اس کا ایمان , دین , قبلہ و کعبہ دولت بن جاتی ہے . وہ کسی کا دوست , کسی کا رشتہ دار نہیں رہ جاتا . اندھا اور کنگلا ہو جاتا ہے . پیسہ گندگی کے ڈھیر پہ بھی پڑا ہو , چوم کر جیب میں ڈال لیتا ہے . نیکی کوڑیوں میں ملے نہیں خریدتا . "
" بابا جی ! پیسہ وقت کی اہم ضرورت ہے . اس سے آنکھیں چرانا حماقت ہے . آپ کے پاس بھی پیسہ ہوتا تو اس عمر میں پکوڑے تو نہ بناتے . کسی بڑی سی بلڈنگ کے مالک ہوتے "
میں نے لقمہ دیا تو بابا جی نے قہقہ لگایا .
" اوہ پگلے  ! تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ میری غربت نے مجھے کیا دیا . میرا ایمان روز بروز پکا ہوتا ہے . میں اللہ کے شکر کو ادا کر کے اللہ کی رضا سمیٹتا ہوں . اللہ کے رسول نے فرمایا . الکاسب حبیب اللہ . مزدور , ہاتھ سے کام کرنے والا اللہ کا دوست ہے . ارے یہ دولت کم ہے کیا . ایسی دولت جس کو زوال ہی نہیں . سکون اور اطمینان قلب اصل دولت ہے اور وہ میرے پاس ہے . الحمدوللہ . میری اس غربت نے مجھے اللہ کو بھولنے نہیں دیا . یہ پیسے کی ریل پیل والوں کو اللہ کی یاد بھی اس وقت آتی ہے جب کوئی آفت سر پر چپت لگاتی ہے . جو چیز سکون چھین لے اسے دولت تو نہیں کہا جا سکتا , زحمت کہا جاتا ہے . یہ پیسہ کی خواہش پہلے سکون ہی چھینتی ہے "
بابا جی کا فلسفہ کبھی تو سمجھ آ جاتا ہے اور کبھی ابہام بن جاتا ہے .
" مانگنے والی بڑھیا کے ہاتھ پہ وہی دو سکے رکھے گا , جس کی جیب میں اللہ نے اسکے لئے رکھے ہونگے . دعا کیا کرو اللہ وہ جیب تیری اور میری کردے , جسے وہ اپنے بندوں کی ضرورت پوری کرنے کیلئے بھرتا رہے . اور ہم اسکی رضا پر خالی کرتے رہیں . یہ تجوریوں کی دولت آگ ہے آگ "
ازاد ھاشمی 

No comments:

Post a Comment