Sunday, 17 September 2017

آل رسول پر ستم کیوں

" آل رسول پر ستم کیوں "
علی کرم اللہ وجہہ کی شہادت  , حسن  علیہ السلام کی زہر خورانی , حسین علیہ السلام پر کربلا کی تپتی ریت پر مظالم , آل  رسول صل اللہ علیہ وسلم کی پردہ دار بیبیوں پر جبر کے پہاڑ توڑنے تک ہی بات محدود رہ جاتی . تو سمجھا جا سکتا تھا کہ ھندہ کے خاندان کو صرف آل رسول سے بدلہ چکانا مقصود تھا . انکے اندر کا کینہ اور اقتدار کی ہوس انکے حواس پر سوار تھی . وہ سب کر گذرے جو دنیا کی پوری تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا . جو نہ عربوں کی روایت تھی اور نہ مزاج . یہ کون لوگ تھے , کیوں ایسا چاہتے تھے . یہ وہ سوال ہے , جس پر کبھی دھیان نہیں گیا . تمام اماموں کی یکے بعد دیگرے شہادتیں اس بات کی عملی گواہی ہے کہ انکو اصل بیر علم سے تھا , اس روشنی سے تھا جس کا نور دنیا پہ غالب آرہا تھا . اس ہدایت سے تھا  جو اللہ کے حبیب صل اللہ علیہ وسلم کی آل سے ممکن تھی . اس راستے کو روکنا اسی طور ممکن تھا کہ اسلام کی نئی ترویج پر توجہ دی جائے . اسی کوشش کا نتیجہ آج ہم دیکھ رہے ہیں . جب نظام اسلام کی بات کرتے ہیں تو پہلا اعتراض یہی ہوتا ہے کہ یہ نظام کبھی کامیاب نہیں رہا . فتنہ اور فساد ہی جاری رہا  . حالانکہ حقیقت یہی ہے کہ قاتلان آل رسول چاہتے ہی نہیں تھے کہ اسلام کی وہ شکل سامنے آئے , جو اللہ کے احکامات  کی اتباع میں ہو . انکے سامنے ملوکیت کا خواب تھا جو انکی نسلوں تک محدود رہتا . اگر حضرت حسین علیہ السلام کربلا کی ریت پر قربانی نہ دیتے . اور مصلحت کی راہ اختیار کر لیتے . تو آج اسلام کی شکل مختلف ہوتی . اس عظیم ہستی کی عظمت کو  سلام , کہ جس نے چودہ سو سال پہلے ملوکیت کے بانیوں کے ارادے بھانپ لئے . اور اپنی ساری  متاع عزیز قربان کر کے اللہ کے دین کو بچا لیا . میں اور آپ , میری اور آپ کی نسلیں اس احسان عظیم کی مقروض ہیں .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment