Tuesday, 5 September 2017

کمال کے جج , مثال کے فیصلے

" کمال کے جج , مثال کے فیصلے "
یقین کرتے ہوئے شرم بھی آ رہی ہے اور حیرانی بھی کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ جج ایسے بھی فیصلے کیا کرتے ہیں . جیسے بینظیر کو قتل کیے جانے میں سزا ایک کمشنر کو ہو گئی . اور وہ بھی پورے سترہ سال کی . قصور کیا تھا کہ جہاں خون گرا تھا وہ جگہ کیوں دہونے کا کہا . یہ تو اللہ جانتا ہے کہ اس لاوارث کمشنر نے آرڈر دیا تھا کہ نہیں . جج نے بس گردن کا ناپ کیا ہو گا , اسکی گردن پھندے پہ فٹ  آ گئی ہو گی . بس چڑھا دیا . عدل کا بول بالا ہو گیا .
میں سوچ رہا ہوں کہ کل اسی جج کی گردن کو کوئی پھندہ فٹ آگیا تو کیا ہو گا . اس کمشنر نے بھی کرسی پر اکڑی گردن سے نہ جانے کتنے بے گناہ رگڑے ہونگے , اسے تو گنتی بھی یاد نہیں ہو گی . اب ایک ایک کا حساب یاد کر رہا ہو گا . یہی مکافات عمل ہے . ایسے کتنے فیصلے ہونگے جو ہماری  عدلیہ کی تاریخی داستانیں ہونگی . ان گنت بےقصور پھانسی پہ جھولے ہونگے, ان گنت مجرم ہوکر بھی معززین ٹھہرائے گئے ہونگے .
تعجب یوں بھی ہے کہ ایسے فیصلوں پہ بولنا بھی توہین عدالت ہے . جج جیسی بھی حماقت کر ڈالے , نہ احتساب , نہ گرفت اور نہ کوئی سوال کرنے کی اجازت . یہ اسکا صوابدیدی حق ہے . جج کی نااہلی , صوابدید , کسی بے قصور کی پھانسی اسکا نصیب , کسی طاقتور کی کاسہ لیسی مستقبل کی ترقی . یہ ہے عدل , یہ ہے نظام , یہ ہے قانون اور یہ رہے عوام .
واہ جی واہ . 
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment