Monday, 5 June 2017

ایک اور جاہل محقق

" ایک اور جاہل محقق "
میڈیا پہ ایک عرصے سے جاوید غامدی نام کے ایک عالم بڑے طمطماق سے اسلام پر اپنی تحقیقات سے مسلمانوں کو اگاہی دے رہے ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ بہت ساری تحقیقی کتب بھی لکھ چکے ہیں ۔ اس میں علمیت کے لحاظ سے نہایت اعلی مواد موجود ہے ۔ انکی یہ کاوش بہت سارے پرستار پیدا کر چکی ہے ۔ اور یہی انکا مشن تھا ،
اسلام کا المیہ یہی ہے کہ تحقیق کے نام پر کام کرنے والے آہستہ ایسا زہر گھول جاتے ہیں ، جس کے اثرات پھر کبھی ختم نہیں ہوتے ۔ اسی سے کئی فرقے ، کئی گروہ جنم لے چکے ہیں ۔ اب سمجھ ہی نہیں آتا کہ اصل کیا ہے ۔ ان تمام محققین نے قران سے دور رکھنے کا ہر ممکن جتن کیا ۔ جس وجہ سے مسائل اور نئی نئی سوچ جنم لیتی رہی ۔ اب غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ رمضان کو کسی دوسرے مہینے پر منتقل کیا جا سکتا ۔ یعنی اگر بہت گرمی ہے اور روزے جون میں آجائیں تو انہیں دو تین ماہ آگے کر کے بھی روزے رکھے جا سکتے ہیں ۔ جاہل محقق کو یہ علم ہی نہیں کہ اس خیال کو قران میں سختی سے رد کیا گیا ہے ۔ یہ عبادات کے مہینے بدلتے رہنا ، بہت ساری امتوں میں رائج ہو گیا تھا اور اللہ نے ان امتوں کی سختی سے سرزنش بھی کی اور سزا بھی دی ۔ قران میں واضع حکم ہے کہ تم پہلی امتوں کی تقلید کر کے ایسا مت کرنا ۔ اور غامدی نے سراسر قران کا انحراف کیا ہے ۔
اصل مسئلہ ہی یہی ہے کہ لوگوں کو قران سے دور رکھنے اور اپنی تحقیق بیچتے رہنے والے یہ دانشور اسلام میں مسلسل رخنے ڈالتے رہتے ہیں ۔
حیرانی اس بات کی ہے کہ ایسے سنگین مسائل پر کوئی ملا ، کوئی مفتی ، کوئی علامہ اور کوئی پیر زبان نہیں کھولتا ۔ یوں لگتا سب کے سب ایک ہی مشن پر گامزن ہیں کہ اسلامی احکامات کی وہ شکل بنا دو کہ مسلمان تقسیم در تقسیم ہو جائیں ۔ یہود کے علماء کیطرح اللہ کی کتاب سے دور رکھو ،
اسے سمجھنا صرف ایک مخصوص طبقے کا حق ہے ۔
یہ تبلیغ کی بڑی بڑی جماعتیں ، اگر یہ سمجھ لیں کہ فرض تبلیغی کورس کو عام کرنا نہیں ، قران کو عام کرنا ہے ۔ قران سیکھنے اور سکھانے کا حکم ہے ۔ اگر لوگ قران جان لیں تو کوئی غامدی انکو احکامات ربی سے انحراف کی راہ نہیں دکھا سکے گا ۔
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment