Monday, 5 June 2017

علماء کرام کے نام

" علماءکرام کے نام "
نہایت ادب و احترام سے علماء کرام سے چند گذارشات کی جسارت کر رہا ہوں ۔اگر کسی کی دل آزاری ہو ، یا کسی کی طبع پر ناگوار گزرے تو معذرت چاہوں گا ۔
چھوٹے چھوٹے فروعی اختلافات نے امت مسلمہ کو جس قدر نقصان پہنچایا ہے ، اسکی تلافی ممکن نہیں رہی ۔  اب آپ علماء کے پاس وقت ہی نہیں بچا کہ اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کی راہ روک سکیں ۔ آپ نے اپنا سارا علم مسالک کی آبیاری پر لگا رکھا ہے ۔ مساجد میں بیٹھ کر مسالک کی تقویت پر ریسرچ کو اسلام کی خدمت سمجھ لیا ہے ۔ اسلام کی پوری تعلیم کو نماز ، روزے ، حج ، زکوٰة ، جنت دوزخ کی نقشہ آرائی ، میاں بیوی کے تعلقات ، پردہ اور دیگر مسائل سے آگے نکلنے ہی نہیں دیا ۔ جمہوریت نے نظام اسلام کی جگہ لے لی ، اب اسکے حق میں فتوے دیے جاتے ہیں کہ یہ عین اسلام ہے ۔ سود نے معیشت پر قبضہ کر لیا اور اسی سود سے میں اور آپ مسفید ہو رہے ہیں ۔ میڈیا پر ثقافت کے نام پر بے حیائی عام ہے ۔ انگریز کا قانون ، انگریز کی تعلیم ہمارا مستقبل ہے ۔ اسلام پر قدامت پرستی کی مہر ثبت ہوئی ، ہر داڑھی والے کو دہشت گرد کی نظر سے دیکھا جانے لگا ۔ کیوں ؟ .
اب وہ لوگ اسلام کے سکالر ہیں ، جو سراسر لبرل ہیں ۔ جن کے نزدیک اللہ کی حدود کے تمام تعین ، تبدیل ہو سکتے ہیں ۔ جو بے سروپا کی کہانیاں سنا رہے ہیں ۔
اور آپ کیا کر رہے ہیں ؟ کیا ایسے تمام فتنوں پر آپ کی خاموشی ، ان فتنوں کی کھلی اعانت نہیں ۔  کیا اسلام کو اس سازش سے اگاہ کرنا ضروری ہے ، یا مسالک کی ترویج ضروری ہے ۔ آج ان لبرل سکالرز کے ماننے والے آپ کی بات سننے والوں سے زیادہ ہیں ۔ زہر دور تک اثر کر چکا ہے ۔
اسکا ازالہ چاہئے ، لبرل مقلدین پوچھتے ہیں کہ اگر جدید سکالر غلط ہیں تو ملا باہر آکر سامنا کیوں نہیں کرتا ۔
خدا را ان فتنوں کو روکنا بھی جہاد ہے ۔ توجہ فرمائیں ۔
والسلام
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment