ایک کمانڈر ، جرنیل ، گورنر،کو پکڑ کر لایا گیا،
مسجد نبوی میں ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا،
رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے گئے،، دیکھا، خوبصورت چہرہ، لمبا قد، توانا جسم، بھرا ہوا سینہ، اکڑی ہوئی گردن، اٹھی ہوئی نگاہیں، تمکنت، شان و شلوہ، سطوت، شہرت ہے،
حکمرانی کے جتنے عیب ہیں سارے پائے جاتے ہیں،
سرور رسولاں صلی اللہ علیہ و سلم آگے بڑھے، کہا
ثمامہ! کیسے ہو؟
ثمامہ بولا :گرفتار کرکے پوچھتے ہو کیسا ہوں،
رسول پاک نے فرمایا :کوئی تکلیف پہنچی ہو؟
کہتا ہے :نہ تمہاری تکلیف کی کوئی پرواہ، نہ تمہاری راحت کا کوئی خدشہ، جو جی چاہے کر لو،
رسول پاک نے فرمایا :بڑا تیز مزاج آدمی ہے،
اپنے صحابہ کو دیکھا، پوچھا، اس کو دکھ تو نہیں پہنچایا؟
عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! گرفتار ہی کیا ہے دکھ کوئی نہیں پہنچایا،
پیکر حسن و جمال نے فرمایا :ثمامہ ذرا میری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھو تو سہی،
ثمامہ کہتا ہے :کیا نظر اٹھا کر دیکھنے کی بات کرتے ہو، جا نہیں دیکھتا، مجھ کو مارا جائے گا تو میرے خون کا بدلہ لیا جائے گا،
جبرائیل بھی غیظ و غضب میں آ گئے ہوں گے، عمر فاروق کی پیشانی سلوٹوں سے بھر گئی، تلوار کے میان پر ہاتھ تڑپنے لگا،
اشارہ ابرو ہو اس کی گردن ہو محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے قدم ہوں، یہ کیا سمجھتا ہے،
لیکن رحمۃ للعالمین کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہے، فرمایا، جتنا غصہ ہے جی چاہے نکال لو، لیکن ہمارا چہرہ تو دیکھ لو
ثمامہ نے کیا جواب دیا :اس نے مدینے والے کو دیکھا ہی نہیں تھا، اس نے کہا، تمہارا چہرہ کیا دیکھوں کائنات میں تجھ سے بد صورت کوئی نہیں ہے (نعوذباللہ)
فرمایا :کوئی بات نہیں، میری بستی کی طرف تو نگاہ ڈالو،
اس نے کہا :میں نے روم و یونان ایران و مصر کی بستیاں دیکھیں مگر تمہاری بستی کائنات کی سب سے بدصورت بستی ہے (نعوذباللہ)
اس بستی کو کیا دیکھوں؟
رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم نے کہا کوئی بات نہیں،
دوسرے دن آئے پھر وہی جواب،
تیسرے دن پاک پیغمبر آئے فرمایا :ہم تجھ سے کچھ نہیں مانگتے، ذرا دیکھ تو لو،
کہتا ہے :نہیں دیکھتا، اب؟
ہمیشہ مسکرانے والے پاک پیغمبر مسکرائے، فرمایا :جاؤ! ہم نے اسے چھوڑ دیا ہے چلے جاؤ، ہم نے ایسے رہا کر دیا ہے، ہم تجھے کچھ نہیں کہتے تو بڑا آدمی ہے، بڑے ملک کا حکمران ہے تو نہیں دیکھتا ہم تجھے کیا کہیں گے، جاؤ
اور اپنے صحابہ کرام کو جن کی تلواریں ثمامہ کی گردن کاٹنے کے لیے بے تاب تھیں، انکو کہا،
بڑا آدمی ہے عزت کے ساتھ لے جا کر اس کو مدینہ سے رخصت کر دو،
انہوں نے چھوڑا، پلٹتے ہوئے اس کے دل میں خیال آیا، بڑے حکمران بھی دیکھے، محکوم بھی دیکھے، جرنیل بھی دیکھے کرنیل بھی دیکھے، صدر بھی دیکھے کمانڈر بھی دیکھے، اتنا حوصلہ والا تو کبھی نہ دیکھا،
پھر دیکھتا ہے، دیکھ کر سرپٹ بھاگا، دوڑ لگا دی، اور پھر دگنی رفتار سے واپس پلٹ آیا،
وہ ماہ تمام ننگی زمین پہ اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا
صحن مسجد پر ننگے فرش پر
نبی کریم نے نگاہ ڈالی سامنے ثمامہ کھڑا ہے، فرمایا ہم نے تو تجھے چھوڑ دیا تھا پھر آ گئے؟
کہا، مجھ کو اپنا بنا کر چھوڑ دیا، کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے،
گیاتب تھا جب آپ کا چہرہ نہیں دیکھا تھا، اب آپ کا چہرہ دیکھ لیا، اب زندگی بھر کے لیے آپ کا غلام بن گیا ہوں،
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ میرے اس دعا کے بعد __!
اہل یمامہ کے سردار حضرتِ ثمامہ بن اثال نے ایمان لا کر کہا:" یا رسول اللہ !ﷺ میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ آج سے پہلے روئے زمین پر کوئی چہرہ مجھے آپ کے چہرے سے زیادہ مبغوص نہ تھا مگر آج وہی چہرہ مجھے روئے زمین کے سب چہروں سے زیادہ محبوب ہے۔") بخاری شریف: باب وفد بنی حنیفہ(
Thursday, 8 June 2017
اسوہ حسنہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment