" جو دینا ہے ، جلد دے دو "
" بیٹا ! جو آپ کسی کو دیتے ہو ، وہ آپکا ہوتا ہی نہیں ۔ وہ اللہ نے صرف آپ کی جیب میں کسی کی امانت رکھی ہوتی ہے ۔ کبھی مت سوچنا کہ تم نے اپنے مال میں سے کچھ بانٹا ہے ۔ تم وسیلہ تھے اور تم پر اللہ کا احسان تھا کہ تمہیں وسیلہ بنایا . وہ یہ ذمہ داری کسی اور کو بھی دے سکتا تھا ۔ صرف امانت لوٹانے پہ کسی زعم میں مت آ جانا "
بابا جی ! بڑے پیارے انداز میں سمجھا رہے تھے ، حالانکہ انہیں ہر بات دو ٹوک اور سخت لہجے میں کہنے کی عادت ہے ۔
" بیٹا ہم لوگوں کی عادت ہے کہ خیرات اور صدقہ اسوقت کرتے ہیں ، جب کسی الجھن ، مصیبت یا مشکل سے دوچار ہو جاتے ہیں ۔ کبھی سوچتے ہی نہیں کہ تقویٰ تک پہنچنے کیلئے اپنے مال میں سے خرچ کرنا لازم ہے ۔ احسان کرتے ہیں حاجتمندوں پر ، چند سکے انکی ہتھیلی پر رکھ کر ۔ حالانکہ ان چند سکوں سے نہ انکی ضرورت پوری ہوتی ہے ، نہ شکم سیری ۔ اپنے پھٹے پرانے کپڑے ، بچا ہوا کھانا اور ضرورت سے زائد چیزیں بانٹنا کوئی خیرات نہیں ۔ مذاق ہے غریب کی غربت کا ، اسکی مفلسی کے زخم کو تازہ کرنے کی انجانی کوشش ہے ۔ حاجتمند کو اسکے سوال سے پہلے دینا اور اس طریقے سے دینا جیسے قرض کی ادائیگی کر رہے ہو ۔ احسن طریقہ ہے ۔ انتظار مت کرو کہ کوئی حاجتمند تمہارا دروازہ کھٹکھٹا کے بھیک مانگے ۔ مت انتظار کرو کہ عید آئے تو فطرہ ادا کرو گے ۔ جلدی دے دو تاکہ غریب بھی اپنے بچوں کی عید کا سامان کر لے ۔ فطرے کی رقم کا استفسار مت کرو ، دو جتنا دے سکتے ہو "
بابا جی ! آج اس موضوع پر کیوں زور دے رہے تھے ۔ میری سمجھ سے باہر تھا ۔
" بیٹا ! پتہ ہے ہم غربت کی لکیر پر کیوں کھڑے ہیں ۔ ہم نے اپنے اپنے ہاتھ باندھ رکھے ہیں ۔ اگر آج ہر کوئی ہاتھ کھول دے تو نہ غربت رہے گی نہ پریشانی ۔ ہم توکل سے دور ہو گئے ہیں اور حرص کو قریب کر لیا ہے ۔ آج اپنے اپنے ہاتھ کھول دیں ، پھر دیکھیں چند دنوں میں فقیر نظر آنا بند ہو جائیں گے "
بابا جی کی بات میں وزن تھا
ازاد ھاشمی
Sunday, 11 June 2017
جو دینا ہے ، جلد دے دو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment