وہ دوست جن کا تعلق کسی دیہات سے رہا ہو , تو انھیں یاد ہو گا کہ دیہاتوں میں تانگے ہوا کرتے تھے - تانگوں کو کھینچنے والے گھوڑے کی آنکھیں اسطرح سے بند کی ہوتی تھیں کہ وہ صرف سامنے دیکھ سکتا تھا - دائیں بائیں نہیں دیکھ سکتا تھا - کچھ ایسی ہی کیفیت ھل میں جوتے ہوۓ بیلوں کی بھی ہوا کرتی تھی , جو آپس میں سدھے ہوۓ نہیں ہوتے تھے - اس کنٹرول کو " کھوپے " کہا جاتا تھا -
یہ ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے , کہ ہمارے بیورو کریٹس کی کچھ یہی کیفیت ہوتی ہے - بیچارے جب تک ڈیوٹی پہ ہوتے ہیں تو صرف سامنے دیکھ سکتے ہیں یا پھر بالکل دیکھ ہی نہیں سکتے - ایک چابک یا ایک سیٹی کے اشارے پہ چلتے رہتے ہیں - نہ کوئی اپنی راۓ ہوتی ہے نہ کچھ سوچنے سمجھنے کی اجازت -
اور جب نوکری کا وقت ختم ہو جاتا ہے , تو پھر سوچنے لگتے ہیں اور قوم کا درد بہت شدت سے انکے سینے میں ہونے لگتا ہے - پھر قانون بھی یاد آنے لگتا ہے , اور ایمان کے تقاضے بھی ازبر ہو جاتے ہیں -
یہ بیورو کریٹ ایسا کیوں کرتے ہیں , اسکی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان میں اکثر سفارشی ہوتے ہیں , کچھ سیاسی لوگوں کے عزیز رشتہ دار ہوتے ہیں اور کچھ راشی -
یہ ہے وہ دیمک جس نے پورے سسٹم کی بنیادیں کھوکھلی کر دی ہیں - نہ کوئی عدل ہے نہ کوئی انصاف - عدالتوں میں اکثر فیصلے قانون کی کتابوں سے نہیں ججز کی صوابدید سے ہوتے ہیں - یہی سبب ہے کہ قصور وار چھوٹ جاتا ہے اور بے قصور کو لٹکنا پڑتا ہے -
کون ہے جو اس ساری دیمک کو مٹا سکے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
Wednesday, 22 March 2017
ہمارے بیوروکریٹ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment