" قران اور نئے مفکر "
ایک صاحب ، جن کا تعلق کسی مذہبی مکتبہ فکر سے ہے ۔ سوشل میڈیا پہ لکھتے ہیں کہ
" اگر قران سے مکمل استفادہ کر کے اللہ کے احکامات کو سمجھنے پر انحصار کیا جائے ، تو ہدایت سے زیادہ بہکنے کا امکان ہے "
یہ تحریر نئی نہیں ، ایسے بہت سارے خیالات دیکھنے اور پڑھنے کو ملتے ہیں ۔ قران کے بارے میں یہ رائے اسقدر پختہ ہو چکی ہے کہ ایسے الفاظ پر کوئی رائے زنی بھی نہیں کرتا ۔ اس رائے کا مسلمانوں کو ، اسلام کو اور اسلام سے ہدایت کے تصور کو ، کیا فائدہ ہوا اور کیا نقصان ۔ بہت غور طلب ، فکر انگیز اور مذہب کا بنیادی معاملہ ہے ۔
احادیث کی اہمیت سے انکار بھی ممکن نہیں ، مگر قران کو احادیث کے طابع کر دینا بھی قران کی تعلیمات سے انحراف ہے ۔ اس بات پر ہر مسلک کے لوگ متفق ہیں کہ احادیث ضعیف بھی ہیں ، متنازعہ بھی ، مشکوک بھی ، منسوخ بھی اور مستند بھی ۔ مگر قران کا ایک نقطہ بھی منسوخ یا مشکوک نہیں ۔ قران کی سند اللہ کی ذات دیتی ہے ، جبکہ احادیث کی سند انسان ہے ۔ جو تو اللہ کے رسول ص نے کہا ، اس سے انکار تو کفر ہے ، اور جو اللہ کے رسول سے منسوب کر دیا گیا ، اس پر یقین کر لینا بھی ایمان کے خلاف ہے ۔
قران سمجھنے کیلئے فکر کی ضرورت ہے ، قران کی معراج یہ ہے کہ قاری جیسے جیسے فکر سے کام لیتا ہے ، اسکے رموز کھلتے جاتے ہیں ، کیونکہ اللہ کا دعویٰ ہے کہ اس میں ہر ہر معاملہ کھول کھول کر بیان کر دیا گیا ہے ۔
پھر کسی انسان کی رائے پر اپنی سوچ کو تبدیل کرنا بھی قرین عقل نہیں ۔ اس تحریک کو باطل کرنا ہو گا کہ قران کو عام سوچ سے جاننے پر بہکنے کا امکان رہتا ہے ۔
ازاد ہاشمی
Wednesday, 22 March 2017
قران اور نئے مفکر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment