Thursday, 1 November 2018

اصل ضرورت کیا ہے

" اصل ضرورت کیا ہے ؟ "
قانونی سقم ہے کہ کچھ عدالتیں اس بات سے متفق تھیں اور انہوں نے سزا دی ۔ انہوں نے کن شواہد پر سزا دی ، ظاہر ہے وہ فیصلے کے ساتھ لکھے ہونگے ۔ انکے پاس ٹھوس ثبوت ہونگے ۔ اب جس عدالت نے بری کر دیا ہے ، اس کے  پاس بھی ٹھوس ثبوت ہیں ۔ اب جو ثبوت سامنے آئے ہیں ، ان پر ہر جاہل اور  دانا شخص قائل ہو جائے گا کہ سزا ناجائز تھی ۔ مگر وہ دلائل بھی تو سامنے آنے چاہیں جو ماتحت عدالتوں نے سزا کے ساتھ لکھے تھے ۔ تاکہ یہ فیصلہ ہو سکے غلط کون تھا اور صحیح کون ۔ یہ ساری کہانی بالکل اسی طرح ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدالت کے حاکم نے ہسپتال سے خود شراب پکڑی اور اگلے دن وہ زیتون کا تیل اور شہد تھی ۔ کہاں گئی عدالت ، کہاں گیا قانون اور کیا ہوا اس کھیل کا ؟ اس  قانون کے تحت کسی بے قصور کو پھانسی اور کسی قاتل کو با عزت رہائی کوئی بڑی بات نہیں ۔
اصل مخمصہ یہ ہے کہ چیف صاحب کو آسیہ کی بریت کے ساتھ ، ماتحت عدالتوں کے غلط فیصلوں پر ججوں کو مجرم قرار دینا چاہئیے تھا ۔ یہ بات انسانی حقوق کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں ۔ قانونی سقم میں ایسا کبھی نہیں ہوتا ۔ جج جو لکھ دے اسے اختیار ہے ۔ اسی پر نہ جانے کتنے لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہیں اور کتنے مجرم آزادی سے گھوم رہے ۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ یہ قانون ، یہ نظام حکومت ، یہ عدالتیں ، یہ جج ، یہ انتظامیہ اور یہ قانون سازی کرنے والے ناکام ہو چکے ہیں ۔ اس سب کچھ کی اصلاح کیلئے نظام بدلا جانا چاہئے ۔ جب تک نظام نہیں بدلے گا ، جس  کے پاس لاٹھی ہے بھینس بھی اسی کی ہے ۔ آج چیف جسٹس حکمران ہے ، جو دل میں آتا ہے کرتا ہے ۔ اسکے اثرات کیا ہونگے ، اسکی بلا سے ۔ کون ہے جو پوچھ سکے کہ جناب آپکی حدود کہاں تک ہیں ۔ یہ آپ نے ڈنڈا ہر کسی پہ کیوں اٹھا رکھا ۔ یہ پوچھنے کیلئے نظام بدلنا ہوگا ۔ اور یہ قومی طور پر سوچنا ہو گا ۔
آزاد ھاشمی
یکم نومبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment