Thursday, 1 November 2018

عبداللہ بن ام مکتوم

" عبداللہ بن ام مکتوم  "
اللہ سبحانہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ 
عبد اللہ ابن ام مکتوم کو اپنے حبیبؐ کا صحابی ہونے کا اعزاز نصیب کیا ۔ آپ مادر زاد نابینا تھے ۔ آپ نے ابتدائے  بعثت میں اسلام قبول کیا ۔ آپ
حضرت خدیجہ الکبریٰ کے ماموں زاد  بھائی تھے ۔ مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے والے صحابہ میں آپ دوسرے نمبر پر تھے ۔
 ایک بار حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روسائے قریش کو تبلیغ فرما رہے تھے کہ ابن اُم مکتوم آ گئے۔ وہ حضور سے کچھ عرض کرنا چاہتے تھے لیکن حضور قریش کو سمجھانے میں اتنا منہمک تھے کہ توجہ نہ دے سکے ۔
اس پر سورہ عبس نازل ہوئی ۔
اللہ نے فرمایا ۔
" وہ جو محنت کرکے تمہارے پاس آیا ہے ، اور جو دل میں خوف رکھتا ہے ، اسکی طرف تم بے پرواہی برتتے ہو "
ان آیات کے نزول کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاص طور پر ابنِ اُم مکتوم کا لحاظ فرماتے۔
ہجرت کے بعد مسجد نبوی کے نائب موذن کا اعزاز ابن مکتومؓ کو نصیب ہوا ۔ جب حضور غزوہ تبوک میں جانے لگے تو علی کو اہل مدینہ کی حفاظت پر اور عبد الله ابن مکتوم کو نماز کی جماعت کرانے پر مقرر فرمایا۔ اسکے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کبھی مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تو اکثر امامت کا شرف ابنِ اُم مکتوم کو حاصل ہوتا۔ یہ ایک بڑا اعزاز تھا کیونکہ آپ عملی طور صرف نماز کی امامت ہی نہیں بلکہ دوسرے امور کی نگرانی کی ذمہ داری بھی پوری فرماتے ۔
آپ قرآن مجید کے حافظ اور مدینہ منورہ میں لوگوں کوقرات سکھاتے تھے۔
آپ کے انتقال پر دو رائے ہیں ، اول یہ کہ آپ نے مدینہ میں  وفات پائی ، دوم یہ کہ آپ کو جنگ قادسیہ میں شہادت نصیب ہوئی ۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے خلیفہ وقت کو یہ کہہ کر قائل کر لیا تھا کہ جنگ قادسیہ کی جنگ کے دوران جھنڈا میرے ہاتھ میں دے دیں ۔  میں جھنڈا لیکر میدان میں کھڑا ہو جاونگا ۔ میں نابینا ہوں ، مجھے کیا پتہ کون فاتح ہو رہا ہے اور کس کو شکست ہو رہی ہے ۔ میرے جھنڈے کو ایک جگہ استقامت سے کھڑے دیکھ کر کفار کی ہمت ٹوٹ جائیگی اور مسلمانوں کی فتح یقینی ہو جائے گی ۔ اور آپ اسی استقامت کے ساتھ کھڑے گھوڑوں سے کچل دئیے گئے ۔ شہادت کی طلب تھی اللہ نے قبول فرمائی ۔
آزاد ھاشمی
٣١ اکتوبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment