" گمراہی کیا ہے ؟ "
سورہ فاتحہ میں ، ہم اللہ سبحانہ تعالی سے چند دعائِیں اور التجائیں کرتے ہیں کہ
" اے مالک یوم الدین ! ہم تیری عبادت کرتے ہیں ، اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں "
کیا مدد مانگتے ہیں ؟
" ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت فرما ، رہنمائی کر کہ ہمیں سیدھا راستہ مل جائے "
وضاحت کرتے ہیں کہ وہ سیدھا راستہ ، جس پر ہم چلنا چاہتے ہیں ۔
" وہ ان لوگوں کا راستہ ، جن پر تیرے انعامات ہوئے ۔ "
پھر کہتے ہیں کہ
" ان لوگوں کے راستے پر نہیں چلنا چاہتے ، جو تیرے غضب کا شکار ہوئے اور نہ ہی انکے راستے پر جو گمراہ ہوئے "
ہم یہ ساری باتیں ایک تسلسل سے کرتے جاتے ہیں ۔ نہ معلوم ہوتا ہے کہ کیا مانگ رہے ہیں اور نہ جانتے ہیں کہ کیوں مانگ رہے رہیں ۔ گمراہ صرف ان قوموں کو سمجھتے ہیں ، جو اسلام کے حلقہ سے دور ہیں اور ان قوموں کو جو گئے وقتوں میں تھیں ۔
گمراہی ، وسیع المطلب اور نہایت آسان فہم لفظ ہے ۔ جو بھی اپنے راستے سے بھٹک گیا ، یا جو بھی اپنی منزل کو بھول گیا ، گمراہ ہے ۔ ہمارا راستہ اور ہماری منزل کیا ہے ؟ ہمارا راستہ وہی ہے ، جو اللہ نے مقرر فرمایا اور ہادئی کائنات نے اگاہی دی ۔ قرآن میں جس سے منع کیا گیا اور جو کرنے کی تاکید کی گئی ۔ جس سے دوستی سے روکا گیا اور جس سے قربت کا حکم ہوا ۔ یہی وہ راستہ ہے ، جو سیدھا بھی ہے اور فلاح کا راستہ بھی ۔ اگر ہم اپنا اپنا محاسبہ کریں تو ہم انہی کے راستے پر چل رہے ہیں ، جن کے راستے سے بچنے کی دعا مانگتے ہیں ۔ یہی گمراہی ہے ۔ مگر گمراہی سے بچنے کی بار بار دعاوں کے بعد گمراہوں کے راستے پر چلنے کو فخر سمجھتے ہیں اور راہ راست پر چلنے کو قدامت پسندی خیال کر بیٹھے ہیں ۔ اللہ پاک کے دستور کو چھوڑ کر اپنی ناقص عقل سے خود دستور بنا لیا اور اس پر چل کر ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نے صحیح راستہ تلاش کرلیا ۔ گویا ہم نے اپنا راستہ کھو دیا ، راستہ کھو دینا ، بھول جانا اور منزل کے تعین کے بغیر چلتے رہنا ، گمراہی ہے ۔ اپنے اپنے عمل پر غور و فکر کئے بغیر ، اسے زندگی کا حصہ بنا لینا گمراہی ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣ نومبر ٢٠١٩
سورہ فاتحہ میں ، ہم اللہ سبحانہ تعالی سے چند دعائِیں اور التجائیں کرتے ہیں کہ
" اے مالک یوم الدین ! ہم تیری عبادت کرتے ہیں ، اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں "
کیا مدد مانگتے ہیں ؟
" ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت فرما ، رہنمائی کر کہ ہمیں سیدھا راستہ مل جائے "
وضاحت کرتے ہیں کہ وہ سیدھا راستہ ، جس پر ہم چلنا چاہتے ہیں ۔
" وہ ان لوگوں کا راستہ ، جن پر تیرے انعامات ہوئے ۔ "
پھر کہتے ہیں کہ
" ان لوگوں کے راستے پر نہیں چلنا چاہتے ، جو تیرے غضب کا شکار ہوئے اور نہ ہی انکے راستے پر جو گمراہ ہوئے "
ہم یہ ساری باتیں ایک تسلسل سے کرتے جاتے ہیں ۔ نہ معلوم ہوتا ہے کہ کیا مانگ رہے ہیں اور نہ جانتے ہیں کہ کیوں مانگ رہے رہیں ۔ گمراہ صرف ان قوموں کو سمجھتے ہیں ، جو اسلام کے حلقہ سے دور ہیں اور ان قوموں کو جو گئے وقتوں میں تھیں ۔
گمراہی ، وسیع المطلب اور نہایت آسان فہم لفظ ہے ۔ جو بھی اپنے راستے سے بھٹک گیا ، یا جو بھی اپنی منزل کو بھول گیا ، گمراہ ہے ۔ ہمارا راستہ اور ہماری منزل کیا ہے ؟ ہمارا راستہ وہی ہے ، جو اللہ نے مقرر فرمایا اور ہادئی کائنات نے اگاہی دی ۔ قرآن میں جس سے منع کیا گیا اور جو کرنے کی تاکید کی گئی ۔ جس سے دوستی سے روکا گیا اور جس سے قربت کا حکم ہوا ۔ یہی وہ راستہ ہے ، جو سیدھا بھی ہے اور فلاح کا راستہ بھی ۔ اگر ہم اپنا اپنا محاسبہ کریں تو ہم انہی کے راستے پر چل رہے ہیں ، جن کے راستے سے بچنے کی دعا مانگتے ہیں ۔ یہی گمراہی ہے ۔ مگر گمراہی سے بچنے کی بار بار دعاوں کے بعد گمراہوں کے راستے پر چلنے کو فخر سمجھتے ہیں اور راہ راست پر چلنے کو قدامت پسندی خیال کر بیٹھے ہیں ۔ اللہ پاک کے دستور کو چھوڑ کر اپنی ناقص عقل سے خود دستور بنا لیا اور اس پر چل کر ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نے صحیح راستہ تلاش کرلیا ۔ گویا ہم نے اپنا راستہ کھو دیا ، راستہ کھو دینا ، بھول جانا اور منزل کے تعین کے بغیر چلتے رہنا ، گمراہی ہے ۔ اپنے اپنے عمل پر غور و فکر کئے بغیر ، اسے زندگی کا حصہ بنا لینا گمراہی ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣ نومبر ٢٠١٩
No comments:
Post a Comment