Friday, 16 November 2018

یہ لگن ہے یا خبط؟

" یہ لگن ہے یا خبط ؟ "
میرے قریبی رفقاء اکثر کہتے ہیں کہ میں جو سوشل میڈیا پہ مغز ماری کرتا رہتا ہوں ، سب فضول ہے ، خبط ہے اور کچھ تو اسے پاگل پن بھی کہتے ہیں ۔ شاید وہ درست ہی کہتے ہیں ۔ کئی بار سوچتا ہوں کہ سیاست کی بساط کی ساری گندگی میرے الفاظ کے تانے بانے سے کبھی صاف نہیں ہوگی ۔ مذہب سے دوری کو علماء حل نہیں کرنا چاہتے اسی میں انکی دوکانداری قائم ہے ، دانشور خاموش ہیں ، محفلوں میں فلسفے جھاڑنے پر مطمن ہیں ۔  دھیرے دھیرے اسلامی اقدار لبرل ازم تلے دبتی جا رہی ہیں ۔ اسلام کی بات کرنے والا ان لبرلز کے بے ربط سوال سن سن کر حواس باختہ ہو جاتا ہے اور سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ میں نے تو وہ کچھ کہا ہی نہیں ، جس کا سوال مجھ سے پوچھا جا رہا ہے ، جس نے اسلام کے بارے ایک بات کہہ دی اس پر پورے یورپ میں بیٹھے ہوئے دانشور ٹوٹ پڑتے ہیں ، جن کی نظر میں مسلمانوں کی پستی مذہبی سوچ کی وجہ سے ہی ہے ۔
کئی بار سوچتا ہوں کہ کیوں نہ میں بھی لطیفے لکھنا شروع کر دوں ، پھر کوئی نہ کوئی پخ نکل آتی ہے ۔ میرے جیسا خبطی سمجھتا ہے کہ میرا فرض ہے کہ قوم کو بہکنے سے بچانے کا جتن کروں ۔ نئی نسل کا قرض میرے ذمہ باقی نہ رہ جائے ۔ مذہب کی بات کہنے والوں کو خاموش دیکھتا ہوں ، اور مذہب سے فرار چاہنے والوں کی دھما چوکڑی دیکھتا ہوں تو پھر دل کا غبار نکالنے بیٹھ جاتا ہوں ۔ میرے ساتھ سوشل میڈیا پہ کچھ میرے جیسے خبطی ہیں ۔ حوصلہ ملتا ہے کہ میں اکیلا نہیں ہوں ۔ ابھی کچھ دیوانے باقی ہیں ، جو ہر بگڑتی بات پر بول اٹھتے ہیں اور کچھ تو چیخنے بھی لگتے ہیں ۔ محسوس کرتا ہوں کہ جن کو لوگ دانشور مانتے ہیں ، جن کو عالم ہونے کا اعزاز حاصل ہے ، جن پر لوگ یقین کر لیتے ہیں ، وہ کیوں خاموش ہیں ؟ کیا انہوں نے اپنا واجب فرض پورا کر دیا ہے ۔
سوچتا ہوں کہ شاید میرے جیسے خبطی بھی اس یلغار میں ضروری ہیں اور پھر شروع ہو جاتا ہوں ۔
آزاد ھاشمی
١٦ نومبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment