" ایک دعا باقی ہے "
میں ان خوش نصیبوں میں سے ہوں , جن کے لئے دعا کو ان گنت ہاتھ اٹھتے ہیں . ایسے بھی دعا کرتے ہیں جن سے کوئی دنیاوی رشتہ بھی نہیں . ان پر خلوص دعاوں کی طفیل , نہ جانے کتنی بلائیں , کتنے فتنے , کتنی برائیاں ٹل رہی ہیں . ان پر خلوص دوستوں کا احسان ہے ورنہ کون اس دور میں کسی کے لئے مطلب کے بغیر دعا کرتا ہے . کئی کئی بار موت کو سامنے دیکھا اور پھر ٹل گئی . نہ جانے وہ کونسی دعائیں ہیں , جو میری ڈھال بنی ہوئی ہیں .
پھر بھی تشنگی ہے ,کہ ایک دعا باقی نہیں رہ گئی , وہ دعا جسے اللہ کبھی نہیں ٹالتا تھا . جس کی طفیل میں ساری زندگی کٹھن سے کٹھن امتحان میں سرخرو ہوتا رہا . جس کے سہارے پہ کبھی نہ دل ہلا نہ قدم لرزاں ہوئے . وہ دعا میرے اللہ نے مجھ سے دور کر دی . اب بھی جب دل بوجھل ہوتا ہے , جب اس دعا کی تڑپ ہوتی ہے . میری ماں , جنت کی ٹھنڈی چھاوں سے آ کر اسی طرح بولتی ہے .
" کیا پریشانی ہے . کیوں اداس لگ رہا ہے . کچھ چاہئے . جا سو جا . صبح سب ٹھیک ہو جائے گا "
اور میرا خوف دور بھاگ جاتا ہے . اس دعا کے چلے جانے سے میں بزدل ہو گیا ہوں , ڈرا ڈرا سا رہتا ہوں . اب پتہ چلا , میری بہادری کا سارا زعم , سارا بھرم تو میری ماں تھی .
یہ میری ماں تھی , جس کی دعا سے مجھے وہ سب ملا , جس کا ہر شخص ارمان کرتا ہے . اب پتہ چلا کہ ماں کیا ہوتی ہے . اے کاش ! میری عمر میری ماں کو لگ جاتی . اے کاش ! !
ازاد ھاشمی
Monday, 17 July 2017
ایک دعا باقی ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment