" دکھیارے شوہر ، مظلوم بیویاں "
میاں بیوی کا سفر ، بہت طویل اور بہت ہمت کیش ہوتا ہے ۔ دونوں زندگی کے اس سفر کی شروعات بہت سارے خوابوں اور ارمانوں سے کرتے ہیں ۔ دونوں میں سے جس کا بھی دوسرے پر دل آجائے تو پھر دنیا اسی سے شروع ہوتی ہے اور اسی پر ختم ہو جاتی ہے ۔اسکے علاوہ تو سب جھمیلہ ہی جھیلہ نظر آتا ہے ۔ اگر وہ ہم سفر بن جائے تو پھر استراحت کے سارے سامان اسی ہم سفر کے ساتھ منسوب ہو جاتے ہیں ۔ پھر کچھ ہی عرصے کے بعد سارےچونچلے چٹکیاں کاٹنے لگتے ہیں ، نہ عشوے باقی رہتے ہیں اور نہ ادائیں دل کو بھاتی ہیں ۔
بیوی کو دنیا بھر کے عیب شوہر کی ذات میں نظر آنے لگتے ہیں ۔ جب جی چاہے جو جی چاہے ، شوہر کا نام رکھ دے ۔ جب چاہے شوہر کیلئے عدالت لگا لے ۔ شوہر باہر کتنا بھی سورما کیوں نہ ہو ، گھر کی چار دیواری میں سر جھکائے جھڑکیاں سننے والا ہوجاتا ہے ۔ اگر کوئی مرد شادی کے چند سال بعد بھی بیوی کو " جانو ، ہنی یا ڈارلنگ " کہہ کر بلا رہا ہے تو صرف تین وجہ ہو سکتی ہیں ، ایک یہ کہ دماغی توازن کھو بیٹھا ہے یا کمال کی منافقت رکھتا ہے یا پھر بہت خوفزدہ ہے ۔
اگر شوہر کی اندرونی کیفیت کا بخوبی اندازہ کرنا ہو تو اسکے سامنے بیگمات کے بارے میں کوئی لطیفہ سنا کر دیکھیں ، اگر تو باچھیں کھل جائیں تو سمجھ لیں کہ اسکے دل کی عکاسی ہوئی ہے ۔
کچھ ایسا ہی حال ، بیگمات کا بھی ہے ۔ اگر ایک نے کہا اور اپنے شوہر کے بارے میں چند منفی جملے بول دئیے تو مجموعی ریمارک ہوتا ہے ۔
" بہن یہ مرد ذات ہوتی ہی بے وفا اور منافق ہے " پھر جو خرابیاں ایک موصوفہ کے شوہر میں تھیں ، سب کے شوہروں میں آجائیں گی ۔ نکمے ،چڑچڑے ، چریا ، ٹھرکی اور نہ جانے کیا کیا تمغات دےڈالتی ہیں ۔ جو بہت سگھڑ یا انتہائی مکار ہوتی ہیں ، وہ القاب دینے سے گریز کر لیتی ہیں مگر مسکرا کر اقرار ضرور کرتی ہیں کہ جو بھی کہا گیا ہے
" سچ ہےاور سچ کے سوا کچھ نہیں "
گویا دونوں طرف ایک جیسی آگ کا دھیما دھیما الاو دونوں طرف ہوتا ہے ۔
آزادھاشمی
٢۵ دسمبر ٢٠١٩
میاں بیوی کا سفر ، بہت طویل اور بہت ہمت کیش ہوتا ہے ۔ دونوں زندگی کے اس سفر کی شروعات بہت سارے خوابوں اور ارمانوں سے کرتے ہیں ۔ دونوں میں سے جس کا بھی دوسرے پر دل آجائے تو پھر دنیا اسی سے شروع ہوتی ہے اور اسی پر ختم ہو جاتی ہے ۔اسکے علاوہ تو سب جھمیلہ ہی جھیلہ نظر آتا ہے ۔ اگر وہ ہم سفر بن جائے تو پھر استراحت کے سارے سامان اسی ہم سفر کے ساتھ منسوب ہو جاتے ہیں ۔ پھر کچھ ہی عرصے کے بعد سارےچونچلے چٹکیاں کاٹنے لگتے ہیں ، نہ عشوے باقی رہتے ہیں اور نہ ادائیں دل کو بھاتی ہیں ۔
بیوی کو دنیا بھر کے عیب شوہر کی ذات میں نظر آنے لگتے ہیں ۔ جب جی چاہے جو جی چاہے ، شوہر کا نام رکھ دے ۔ جب چاہے شوہر کیلئے عدالت لگا لے ۔ شوہر باہر کتنا بھی سورما کیوں نہ ہو ، گھر کی چار دیواری میں سر جھکائے جھڑکیاں سننے والا ہوجاتا ہے ۔ اگر کوئی مرد شادی کے چند سال بعد بھی بیوی کو " جانو ، ہنی یا ڈارلنگ " کہہ کر بلا رہا ہے تو صرف تین وجہ ہو سکتی ہیں ، ایک یہ کہ دماغی توازن کھو بیٹھا ہے یا کمال کی منافقت رکھتا ہے یا پھر بہت خوفزدہ ہے ۔
اگر شوہر کی اندرونی کیفیت کا بخوبی اندازہ کرنا ہو تو اسکے سامنے بیگمات کے بارے میں کوئی لطیفہ سنا کر دیکھیں ، اگر تو باچھیں کھل جائیں تو سمجھ لیں کہ اسکے دل کی عکاسی ہوئی ہے ۔
کچھ ایسا ہی حال ، بیگمات کا بھی ہے ۔ اگر ایک نے کہا اور اپنے شوہر کے بارے میں چند منفی جملے بول دئیے تو مجموعی ریمارک ہوتا ہے ۔
" بہن یہ مرد ذات ہوتی ہی بے وفا اور منافق ہے " پھر جو خرابیاں ایک موصوفہ کے شوہر میں تھیں ، سب کے شوہروں میں آجائیں گی ۔ نکمے ،چڑچڑے ، چریا ، ٹھرکی اور نہ جانے کیا کیا تمغات دےڈالتی ہیں ۔ جو بہت سگھڑ یا انتہائی مکار ہوتی ہیں ، وہ القاب دینے سے گریز کر لیتی ہیں مگر مسکرا کر اقرار ضرور کرتی ہیں کہ جو بھی کہا گیا ہے
" سچ ہےاور سچ کے سوا کچھ نہیں "
گویا دونوں طرف ایک جیسی آگ کا دھیما دھیما الاو دونوں طرف ہوتا ہے ۔
آزادھاشمی
٢۵ دسمبر ٢٠١٩
No comments:
Post a Comment