Saturday, 11 January 2020

کیا ملا ، کیا ملے گا؟

"کیا ملا ہے ، کیا ملے گا ؟"
وہ علم و آگہی والے لوگ ، کچھ لمحے اپنی سوچ کے محور کو مسالک سے الگ کر کے سوچیں ، کہ کشا کشی نے مسلمان کو کیا دیا ؟ اور اسلام کو کہاں پہنچا دیا ؟ ہم ایک امت بنے یا گروہوں میں تقسیم ہو کر اپنی شناخت کو دھندلا دیا ؟ ہم اس راستے پر چلے جس کی منزل اللہ کی رضا تھی یا ہم نے وہ راہ اپنا لی ، جس سے اللہ راضی نہیں تھا ؟
اللہ نے حکم دیا تھا اور بالکل واضع حکم تھا ۔
" اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو "
کیا اس حکم کے بعد ہماری اپنی صوابدید کی گنجائش باقی تھی ؟ کیا اس اٹل حکم کے بعد کسی اجتہاد ، کسی فلسفہ ، کسی منطق کی گنجائش تھی کہ ہم گروہ بنا لیتے ؟
آج ہم  اس دوراہے پہ کھڑے ہیں کہ ایک دوسرے کے ایمان کی گواہی دینے کی بجائے ایک دوسرے کو  کافر ثابت کرنے پہ تلے بیٹھے ہیں ۔
مساجد کیلئے حکم تھا کہ یہ اللہ کا گھر ہیں ، ہم نے اسے مسالک سے منسوب کر دیا ۔
کبھی سوچا کہ جنہوں نے اپنی پوری علمیت اس تحقیق پہ لگا دی کہ اپنے مخالف مسلک کے کون کون سے عیب اور کون کون سی کمزوریوں سے اپنے حمایت یافتگاں میں اضافہ کرنا ہے ۔ انہوں نے کونسی خدمت انجام دی ؟ کونسا اجتہاد کیا کہ منافرت پھیلا دی ۔ اس منافرت سے ممالک کی بھی حدود بندی کر دی گئی ۔ یہ وہ المیہ ہے جس سے کافر ، مشرک اور ملحد کو تقویت ملی ۔ وہ ہمیں مسلمان کہہ کر مارتا رہا اور ہم شیعہ سنی کے چکر میں اپنے ہی کلمہ گو بھائی کی درگت بنتے دیکھتے رہے ۔
اگر ہم نے منافرت کو پھیلانے کا سلسلہ یونہی جاری رکھا تو نہ اللہ کی رضا نصیب ہو گی اور اگر اللہ راضی نہیں تو اللہ کی نصرت کبھی نہیں ملے گی ۔ اور نہ ہی دنیا میں عزت سے جی سکیں گے ۔ سوچنا ہوگا کہ ہمیں مسالک کی جنگ سے کیا ملا؟
آزاد ھاشمی
١١ جنوری ٢٠٢٠ 

No comments:

Post a Comment