Sunday, 12 November 2017

حضور صل اللہ علیہ وسلم کی شادیاں

🌹🌸 *حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے متعدد نکاح کیوں فرمائے؟ٌ*🌸🌹
✍ کافی عرصہ کی با ت ہے کہ جب میں لیاقت میڈیکل کالج جامشورو میں سروس کر رہا تھا تو وہاں لڑکوں نے سیرت النبی ﷺ کانفرس منعقد کرائی اور تمام اساتذہ کرام کو مدعو کیا۔
چنانچہ میں نے ڈاکٹر عنایت ﷲ جوکھیو (جو ہڈی جوڑ کے ماہر تھے) کے ہمرا ہ اس مجلس میں شرکت کی۔ اس مجلس میں ایک اسلامیات کے لیکچرار نے حضور اقدس ﷺ کی پرائیویٹ زندگی پر مفصل بیان کیا اور آپ کی ایک ایک شادی کی تفصیل بتائی کہ یہ شادی کیوں کی اور اس سے امت کو کیا فائدہ ھوا۔ یہ بیان اتنا موثر تھا کہ حاضرین مجلس نے اس کو بہت سراہا۔
کانفرس کے اختتام پر ہم دونوں جب جامشورو سے حیدر آباد بذریعہ کار آ رہے تھے تو ڈاکٹر عنایت ﷲ جوکھیو نے عجیب بات کی ۔ ۔ ۔ اس نے کہا کہ آج رات میں دوبارہ مسلمان ھوا ھوں !!
میں نے تفصیل پوچھی تو اس نے بتایا کہ آٹھ سال قبل جب وہ FRCS کے لیے انگلستان گیا تو کراچی سے انگلستا ن کا سفر کافی لمبا تھا، ھوائی جہاز میں ایک ائیر ہوسٹس میرے ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔ ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی کے بعد اس عورت نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟ میں نے بتا یا، اسلام۔ ہمارے نبی ﷺ کا نام پو چھا، میں نے حضرت محمد ﷺ بتایا، پھر اس لڑکی نے سوال کیا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ تمہارے نبی ﷺ نے گیارہ شادیاں کی تھیں؟
میں نے لاعلمی ظاہر کی تو اس لڑکی نے کہا یہ بات حق اور سچ ہے۔ اس کے بعد اس لڑکی نے حضور ﷺ کے بارے میں دو تین اور باتیں کیں، جس کے سننے کے بعد میرے دل میں (نعوذ باﷲ) حضور ﷺ کے بارے میں نفرت پیدا ہوئی۔ جب میں لندن کے ھوائی اڈے پر اترا تو میں مسلمان نہیں تھا۔ آٹھ سال انگلستان میں قیام کے دوران میں کسی مسلمان کو نہیں ملتا تھا، حتیٰ کہ عید کی نماز تک میں نے ترک کر دی۔ اتوار کو میں گرجوں میں جاتا اور وہاں کے مسلمان مجھے عیسائی کہتے تھے۔ جب میں آٹھ سال بعد واپس پاکستان آیا تو ہڈی جوڑ کا ماہر بن کر لیاقت میڈیکل کالج میں کام شر و ع کیا۔ یہاں بھی میری وہی عادت رہی۔
آج رات اس لیکچرار کا بیان سن کر میرا دل صاف ہو گیا اور میں نے پھر سے کلمہ پڑھا ہے۔ غور کیجئے ایک عورت کے چند کلمات نے مسلمان کو کتنا گمراہ کیا اور اگر ڈاکٹر عنا یت ﷲ یہ بیان نہ سنتا تو پتہ نہیں اس کا کیا بنتا۔ اس کی وجہ ہم مسلمانوں کی کم علمی ہے۔
ہم حضور ﷺ کی زندگی کے متعلق نہ پڑھتے ہیں اور نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ کئی میٹنگو ں میں جب کوئی ایسی بات کرتا ہے تو مسلمان کوئی جواب نہیں دیتے، ٹال دیتے ہیں۔ جس سے اعتراض کرنے والوں کےحوصلے بلند ہو جاتے ہیں۔ اس لیے بہت اہم ہے کہ ہم اس موضوع کا مطالعہ کریں اور موقع پر صحیح بات لوگوں کو بتائیں۔
ایک دفعہ بہاولپور سے ملتان بذریعہ بس میں سفر کر رہا تھا کہ ایک آدمی لوگوں کو حضور ﷺ کی شادیوں کے بارے میں گمراہ کر رہا تھا۔ میں نے اس کے قریب جانے کی کوشش کی اور بات شروع کی تو وہ چپ ہو گیا اور باقی لوگ بھی ادھر ادھر ہو گئے۔ لوگوں نے حضور ﷺ کی عزت و نامو س کی خاطر جانیں قربان کی ہیں کیا ہمارے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہم اس موضوع کے چیدہ چیدہ نکات کو یاد کر لیں اور موقع پر لوگوں کو بتائیں۔
اس بات کا احساس مجھے ایک دوست ڈاکٹر نے دلایا جو انگلستان میں ہوتے ہیں اور یہاں ایک جماعت کے ساتھ آئے تھے۔ انگلستان میں ڈاکٹر صاحب کے کافی دوست دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے تھے، وہ ان کو اس موضوع پر صحیح اطلا ع کرتے رہتے ہیں۔ انہو ں نے چیدہ چیدہ نکات بتائے، جو میں پیش خدمت کر رہا ہو ں۔
اتوار کے دن ڈاکٹر صاحب اپنے دوستو ں کے ذریعے ” گرجا گھر“ چلے جاتے ہیں، وہاں اپنا تعارف اور نبی کریم ﷺ کا تعارف کراتے ہیں۔ عیسائی لوگ خاص کر مستورات آپ کی شادیوں پر اعتراض کرتی ہیں۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب کے جوابات مندرجہ ذیل ہیں :
1⃣ میرے پیا رے نبی ﷺ نے عالم شبا ب میں (25 سال کی عمر میں) ایک سن رسیدہ بیوہ خاتون حضرت خدیجہ ؓ سے شادی کی۔ حضرت خدیجہ ؓ کی عمر 40 سال تھی اور جب تک حضرت خدیجہ ؓ زندہ رہیں آپ نے دوسری شادی نہیں کی۔ 50 سال کی عمر تک آپ نے ایک بیوی پر قناعت کی۔ (اگر کسی شخص میں نفسانی خواہشات کا غلبہ ہو تو وہ عالم ِ شباب کے 25 سال ایک بیوہ خاتون کے ساتھ گزارنے پر اکتفا نہیں کرتا) حضرت خدیجہ ؓ کی وفات کے بعد مختلف وجوہات کی بناء پر آپ ﷺ نے نکاح کئے ۔ پھر اسی مجمع سے ڈاکٹر صاحب نے سوال کیا کہ یہاں بہت سے نوجوان بیٹھے ہیں ...... آپ میں سے کون جوان ہے جو 40 سال کی بیوہ سے شادی کرے گا....؟ سب خاموش رھے۔ ڈاکٹر صاحب نے ان کو بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے یہ کیا ہے، پھر ڈاکٹر صاحب نے سب کو بتایا کہ جو گیارہ شادیاں آپ ﷺ نے کی ہیں سوائے ایک کے، باقی سب بیوگان تھیں۔ یہ سن کر سب حیران ہوئے۔
پھر مجمع کو بتایا کہ جنگ اُحد میں ستر صحابہ ؓ شہید ہوئے۔ نصف سے زیادہ گھرانے بے آسرا ہو گئے، بیوگان اور یتیموں کا کوئی سہارا نہ رہا۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ کو بیوگان سے شادی کرنے کو کہا، لو گوں کو ترغیب دینے کے لیے آپ ﷺ نے حضرت سودہ ؓ ، حضرت ام سلمہ ؓ اور حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ سے مختلف اوقات میں نکاح کیے۔ آپ کو دیکھا دیکھی صحابہ کرام ؓ نے بیوگان سے شادیاں کیں جس کی وجہ سے بے آسرا گھرانے آباد ہوگئے۔
2⃣ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ عربوں میں دستور تھا کہ جو شخص ان کا داماد بن جاتا اس کے خلاف جنگ کرنا اپنی عزت کے خلاف سمجھتے۔ ابوسفیان ؓ اسلام لانے سے پہلے حضور ﷺ کا شدید ترین مخالف تھا۔ مگر جب ان کی بیٹی ام حبیبہ ؓ سے حضور نبی کریم ﷺ کا نکاح ہوا تو یہ دشمنی کم ہو گئی۔ ہوا یہ کہ ام حبیبہ ؓ شروع میں مسلمان ہو کر اپنے مسلمان شوہر کے ساتھ حبشہ ہجر ت کر گئیں، وہا ں ان کا خاوند نصرانی ہو گیا۔ حضرت ام حبیبہ ؓ نے اس سے علیحدگی اختیار کی اور بہت مشکلا ت سے گھر پہنچیں۔ حضور ؓ نے ان کی دل جوئی فرمائی اور بادشاہ حبشہ کے ذریعے ان سے نکاح کیا.
3⃣ حضرت جویریہ ؓ کا والد قبیلہ معطلق کا سردار تھا۔ یہ قبیلہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان رہتا تھا۔ حضور ﷺ نے اس قبیلہ سے جہاد کیا، ان کا سردار مارا گیا۔ حضرت جویریہ ؓ قید ہو کر ایک صحابی ؓ کے حصہ میں آئیں۔ صحابہ کرام ؓ نے مشورہ کر کے سردار کی بیٹی کا نکاح حضور ﷺ سے کر دیا اور اس نکاح کی برکت سے اس قبیلہ کے سو گھرانے آزاد ہوئے اور سب مسلمان ہو گئے۔
4⃣ خیبر کی لڑائی میں یہودی سردار کی بیٹی حضرت صفیہ ؓ قید ہو کر ایک صحابی رضی ؓ کے حصہ میں آئیں۔ صحابہ کرام ؓ نے مشورے سے ان کا نکاح حضور اکرم ﷺ سے کرادیا۔ اسی طر ح میمونہ ؓ سے نکاح کی وجہ سے نجد کے علاقہ میں اسلام پھیلا۔ ان شادیوں کا مقصد یہ بھی تھا کہ لوگ حضور ﷺ کے قریب آسکیں، اخلاقِ نبی کا مطالعہ کر سکیں تاکہ انہیں راہ ہدایت نصیب ہو۔
5⃣ حضرت زینب بنت حجش سے نکاح مبتنی کی رسم توڑنے کے لیے کیا۔ حضرت زید ؓ حضور ﷺ کے متبنی کہلائے تھے، ان کا نکاح حضرت زینب بنت حجش سے ہوا۔ مناسبت نہ ہونے پر حضرت زید ؓ نے طلا ق دے دی تو حضور ﷺ نے نکاح کر لیا اور ثابت کر دیا کہ متبنی ہر گز حقیقی بیٹے کے ذیل میں نہیں آتا۔
اپنا کلام جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ علوم اسلامیہ کا سر چشمہ قرآنِ پاک اور حضور اقدس ﷺ کی سیرت پاک ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت پاک کا ہر ایک پہلو محفوظ کرنے کے لیے مردوں میں خاص کر اصحاب ِ صفہ ؓ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ عورتوں میں اس کام کے لیے ایک جما عت کی ضرورت تھی۔ ایک صحابیہ سے کام کرنا مشکل تھا۔ اس کام کی تکمیل کے لیے آپ ﷺ نے کئی نکاح کیے۔ آپ نے حکماً ازواجِ مطہرات ؓ کو ارشاد فرمایا تھا کہ ہر اس بات کو نوٹ کریں جو رات کے اندھیرے میں دیکھیں۔ حضرت عائشہ ؓ جو بہت ذہین، زیرک اور فہیم تھیں، حضور ﷺ نے نسوانی احکام و مسائل کے متعلق آپ کو خاص طور پر تعلیم دی۔ حضور اقدس ﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے (موت) کے بعد حضرت عائشہ ؓ 45 سال تک زندہ رہیں اور 2210 احادیث آپ ؓ سے مروی ہیں۔ صحابہ کرام ؓ فرما تے ہیں کہ جب کسی مسئلے میں شک ہوتا ہے تو حضرت عائشہ ؓ کو اس کا علم ہوتا۔ اسی طرح حضرت ام سلمہ ؓ کی روایات کی تعداد 368 ہے۔ ان حالات سے ظاہر ہوا کہ ازدواجِ مطہرات ؓ کے گھر، عورتوں کی دینی درسگاہیں تھیں کیونکہ یہ تعلیم قیامت تک کے لیے تھی اور سار ی دنیا کے لیے تھی اور ذرائع ابلاغ محدود تھے، اس لیے کتنا جانفشانی سے یہ کام کیا گیا ہو گا، اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
آخر میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یہ مذکورہ بالا بیان میں گرجوں میں لوگوں کو سناتا ہوں اور وہ سنتے ہیں۔ باقی ہدایت دینا تو ﷲ تعالٰی کے ہاتھ میں ہے۔ اگر پڑھے لکھے مسلمان ان نکات کو یاد کر لیں اور کوئی بدبخت حضور ﷺ کی ذات پر حملہ کرے تو ہم سب اس کا دفاع کریں۔ ﷲ تعالٰی ہم سب کو توفیق دے اور عمل کرنے والا بنائے۔ (آمین)
{منقول}

No comments:

Post a Comment