Tuesday, 26 November 2019

مرنے کے بعد کی زندگی

" مرنے کے بعد کی زندگی "
موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے ، جس سے جتنا بھی بھاگ لو ، ایک نہ ایک روز دبوچ ہی لیتی ہے ۔ جس روز یہ آن سامنے کھڑی ہوتی ہے تو ۔۔۔
" راز فطرت کے کھول سکتا ہوں
میں پہاڑوں کو تول سکتا ہوں
موت نے جب کہا خاموش !
نہ سکت ہے ، نہ بول سکتا ہوں "
سارے دعوے ، ساری طاقت ، ساری تدبیریں اور سارے راستے بند ہو جاتے ہیں ۔ جو کچھ اس بے ثبات دنیا میں جمع کیا تھا ، نہ کسی پہ حق رہتا ہے اور  نہ کچھ  ساتھ دینے جاتا ہے ۔
اگلا سفر کیسا ہے ، اللہ جانتا ہے اور یا پھر مسافر کو پتہ ہوتا ہے کہ اس کے دامن میں کتنے اعمال ہیں ، کتنی استراحتیں ہیں جو وہ ساتھ لے جا رہا ہے ۔ یا کتنی اذیتیں ہیں جو منوں مٹی تلے اسکی منتظر ہیں ۔ کوئی نہیں جانتا ۔ ہم نے زندگی بھر سارے ساماں اس لئے جمع کر رکھے ہوتے ہیں ، کہ لوگوں میں ناموری ہو ۔ ہمیشہ کیلئے جینے کا سامان اور اسے دانشمندی سمجھتے ہیں ۔  مگر مرنے کے بعد کی زندگی کا کوئی انتظام کرنا یاد ہی نہیں ہوتا ، یہی حماقت  ہے ۔
 کچھ ایسے بختاور بھی ہوتے ہیں ، جو اپنا تسلسل اس دنیا سے اسطرح قائم کر لیتے ہیں ، کہ وہ کبھی نہیں مرتے ۔ انکو کبھی موت نہیں آتی ۔  وہ دنیا سے جا کر بھی اس دنیا میں بستے رہتے ہیں ۔ انکے اعمال کا پہیہ چلتا رہتا ہے اور نیکیوں کا سلسلہ انکے کھاتے میں جمع در جمع ہوتا رہتا ہے ۔ ایسے لوگوں کی اولاد انہیں بھول بھی جائے تو دنیا والے کبھی فراموش نہیں کر پاتے ۔ انکے نام کی تختی ، کسی سنگ بنیاد کے طور پر نہ بھی ہو ، پھر بھی بیشمار دلوں پہ انکا نشان کندہ رہتا ہے ۔
یہ بختاور ، وہی ہوتے ہیں جو اپنی ذات سے زیادہ اللہ کے بندوں سے پیار کرتے ہیں ۔ جو دوسروں کے درد اپنی ذات کا حصہ بنا کر جیتے ہیں ۔ یہ ہے زندگی کی معراج اور یہ ہے موت کی دلکشی ۔
قادر مطلق کے ہاں ایسے نصیب مل جانا ، ایک انعام ہے ، ایک اعزاز ہے ، اللہ کے کرم کا بیمثال خزانہ ہے کہ انسان منوں مٹی تلے بھی استراحت میں رہے ۔ ہر ہر لمحہ نیکیاں اسکے اعمال کا حصہ بنتی رہیں ۔
کیا ایسی زندگی اور ایسی موت قابل رشک اور قابل تقلید نہیں ؟ کیا ہمارا نصیب اس معراج پر ہے کہ اللہ ہمیں بھی اسی انعام سے نواز دے ؟ کیا ہم اس راہ کے راہی بننے کی آرزو کرتے ہیں ؟ کیا ہم اللہ سے اس راستے پر چلنے کیلئے جھولی پھیلاتے ہیں ؟
آئیے سوچتے ہیں۔
آزاد ھاشمی
٢۵ نومبر ٢٠١٩ 

No comments:

Post a Comment