Tuesday, 10 December 2019

مشاہدہ

" مشاہدہ "
زندگی کے نشیب و فراز سے گذرتے عمر بیت گئی ۔ کٹھن دور بھی دیکھا اور ایک لمبی مدت تک دیکھنا پڑا ۔ وہ لمحے بھی نہیں بھول پایا ، جب رشتے بکھرتے اور اجنبی ہو جاتے ہیں ۔ جب ہر کوشش ناکام ہونے لگتی ہے اور لوگ کردار پر شک کرنے لگتے ہیں ۔ پھر قدرت کی رحمت ہوئی اور وہ سب مل گیا ، جسے زمانہ پوجتا ہے ۔ اجنبی بھی رشتوں کیطرح قریب ہوتے گئے ۔ دونوں صورتوں میں ، دل میں ایک ہیجان برپا رہا ۔ حرص نے اپنا مرید بنائے رکھا ، جس طرف چکا چوند نظر آئی ، ادہر دوڑ لگا دی ۔ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ تھکن بھی ہوتی ہے ۔ حرص و ہوس کی غلامی کر لی جائے تو بندہ اپنی ذات سے بے خبر ہو جاتا ہے ۔  پھر اسے اللہ بھی پیسے میں دکھائی دیتا ہے اور ایمان بھی ۔ یہ دور بھی بہت دیکھا اور جی بھر کے دیکھا ۔
اب جو مشاہدہ ہورہا ہے ، وہ زندگی بھر کے تجربات سے مختلف بھی ہے ، اطمینان بخش بھی اور راحت آمیز بھی ۔ حرص سے دامن چھوٹ گیا ، قناعت سے تعلق گہرا ہوگیا ۔ اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی کے تابع کر دیا تو ایک سکون سا مل گیا ۔ جو مل گیا اسے مقدر مان لیا اور جو نہیں ملا اسکے لئے نہ دکھ ہوا اور نہ شکایت ۔
میری زندگی کا یہ  دور ، سب سے خوبصورت اور دل فریب دور ہے ۔ اولاد اور رشتے جتنے بھی ہوں ، ایک حد تک محدود ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ قربتیں ماند پڑتی ہی رہتی ہیں ۔ رفتہ رفتہ اپنے خون کے تعلق بھی اجنبی ہو جاتے ہیں ۔ یہی ابد سے چلی ہوئی روایت ہے ۔ مگر جب کوئی شخص اس تعلق سے ہٹ کر انسانوں کیلئے سوچنے لگتا ہے ، اپنی ذات سے دوسروں کی ضرورتیں عزیز ہونے لگتی ہیں ، بے بسوں کی بے بسی پر کچھ بے چینی محسوس ہوتی ہے اور اس کے لئے کچھ کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے تو اسکا خاندان ، اسکے رشتے دار ، اسکے چاہنے والے لا تعداد ہو جاتے ہیں ۔ جب وہ دوسروں کے درد کیلئے تڑپتا ہے تو اسکے درد پر لا تعداد  ہاتھ اٹھ جاتے ہیں ۔ جو اسے موت کے منہ سے چھین لاتے ہیں ۔ میرے ساتھ یہ مشاہدہ کئی بار ہوا اور میرا ایمان بن گیا کہ
خلق خدا کی خدمت سے بہتر ، شاید کوئی عبادت بھی نہیں ، شاید کوئی ریاضت بھی نہیں اور شاید اس سے ملنے والے سکون سے بہتر کہیں اور سکون بھی نہیں ۔
اس نسبت سے ملنے والے رشتے ، خون کے رشتوں سے کہیں زیادہ مخلص ، وفا شعار اور بے لوث ہوتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
١٠ دسمبر ٢٠١٩ 

No comments:

Post a Comment