" رکشے والا بادشاہ "
قدرت کا نظام بھی عجیب ہے ، کبھی سب کچھ دے کر بھی غریب رکھتا ہے اور کبھی کچھ نہ دے کر بھی تونگر بنا دیتا ہے ۔ تونگری پیسے سے نہیں ملتی ، دل سے ملا کرتی ہے ۔ یہی کہانی ہے ، میرے دوست ، میرے محسن اور میرے بہادر بھائی " طارق جاوید " کی ۔ شناسائی چند سال پہلے ابتدائی تعارف سے اسی طرح ہوئی ، جسطرح سوشل میڈیا کی روایت ہے ۔ جہاں ہم ایک دوسرے کو سرسری سا جانتے ہیں ، اس سے زیادہ نہ ضرورت محسوس کرتے ہیں اور نہ قربت بڑھانے کے خواہاں ہوتے ہیں ۔ جس جس کو جو جو جنون ہے ، اسی میں لگا رہتا ہے ۔ نا معلوم ، مجھے اس دوست میں کوئی خاص بات محسوس ہوئی ، جب پہلا تعارف ہوا ۔ پھر بات آئی گئی ہوئی اور یہ بہادر دوست میرے ہزاروں دوستوں کی قطار میں کہیں کھو گیا ۔ نہ اس نے تلاش کی اور نہ میں نے ڈھونڈھا ۔ پھر اچانک خیال آیا اور دوبارہ تلاش کی اور آج فخر سے گردن اکڑائے بیٹھا ہوں کہ میرے دوستوں میں سب سےبلندی پر اور قربتوں میں سب سے قریب یہی " رکشے والا بادشاہ " ہے ۔ سوچتا ہوں کہ اللہ پاک نے اسے اتنا قد اور کاٹھ دے رکھا ہے کہ میں اسکے سامنے ، چند بالشت کا بونا لگ رہا ہوں ۔ جہاں سے اسکے گھٹنے شروع ہوتے ہیں وہاں میرا قد ختم ہو جاتا ہے ۔ میری ساری زندگی کی کمائی اسکی چند لمحوں کی کمائی سے بھی کم ہے ۔ ساری زندگی رکشے پہ سواریوں کے نخرے اٹھا کر چند سکوں پر اپنا گزارہ ہی نہیں کیا بلکہ سب کا سب غریبوں اور مستحق بچوں کا مستقبل سنوارنے میں لگا دیا ۔ خودداری کا یہ پہاڑ نہ کبھی گھبرایا ، نہ اللہ سے شکوہ کیا ۔ اللہ کی رحمتیں لوٹنے والے اس انسان کو اللہ نے جو " ملکہ " عطا کی ، اسکا بھی وہی مزاج جو بادشاہ کا ۔ خود نمک اور پانی میں روٹی ڈبو کر کھا لی اور دوسروں کو مرغی کھانے کے راستے سکھا دئیے ۔ اللہ کے اپنے ارادے اور فیصلے ہوتے ہیں ۔ انسان کو کبھی سمجھ آ جاتے ہیں اور کبھی بھول بھلیوں میں پڑا رہتا ہے کہ ایسا کیوں اور ایسا کیوں نہیں ۔ اولاد کی خواہش ہر شخص کو ہوتی ہے ، اس ملکہ اور بادشاہ کو بھی تھی ۔ مگر اللہ نے اس نعمت سے محروم رکھ کے اب سینکڑوں بچے نواز دئیے ۔ جو یہاں آتے رہے ، آتے رہیں گے ۔ تعلیم کا ایک روشن چراغ جلانے والا یہ بادشاہ گذشتہ نو دس سال سے تنہا اپنے مشن کو جاری رکھے بیٹھا ہے ۔ نہ کسی سے مدد کا سوال ، نہ کسی سے مدد کی امید ۔ بڑھتی زندگی کے ساتھ ساتھ صرف ایک فکر کہ
"اگر مجھے اللہ نے بلا لیا تو میرے خواب ادھورے نہ رہ جائیں "
میں نے خود کو اسی ترازو پہ تولا تو میرا وزن اسکے سامنے ہیچ تھا ۔ وہ کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی جیت گیا اور ہم سب کچھ رکھ کر بھی ہار گئے ۔ وہ اللہ کی رضا لے گیا اور ہم دنیا کے پیچھے خوار ہوگئے ۔
اے کاش ! یہ فکر اور ولولہ ہمیں بھی مل جائے ۔
اے کاش! اللہ رحیم و کریم مجھ جیسے دنیا پرست کو بھی اس لذت سے نواز دے ۔
اے کاش ! ہم بھی اللہ کیطرف سے کسی ایسی خدمت کیلئے چنے جائیں ۔
اے کاش ! اے کاش !
آزاد ھاشمی
٨ اکتوبر ٢٠١٩
Thursday, 10 October 2019
رکشے والا بادشاہ "
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment