Thursday, 10 October 2019

اللہ کے نیک بندے "

" اللہ کے نیک بندے "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سورہ الدھر میں اپنے نیک بندوں کی کچھ نشانیاں بیان فرمائی ہیں ۔ اس سے ایک تو ہم اپنا احتساب بھی کر سکتے ہیں کہ اللہ کے ہاں ہم کس مقام پہ کھڑے ہیں اور دوسروں کے بارے حاننے میں آسانی ہو جاتی ہے ۔ قرآن کی معراج ہے کہ اسے پڑھنے اور سمجھنے کے بعد کوئی ابہام باقی نہیں رہتا ۔
فرمایا
"وہ لوگ منتیں (نذر)پوری کرتے ہیں ،  اور اس دن سے ڈرتے ہیں ، جس کی مصیبت ( چاروں طرف) پھیلی ہوئی ہوگی "
پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ منت یا نذر کا مفہوم کیا ہے ؟ 
ہر وہ نیک عمل انسان پر واجب نہ ہو اور انسان اس کو اپنے اوپر واجب کرلے ، اس کو ’’ نذر ‘‘ کہتے ہیں ، جیسے نفل نماز واجب نہیں ہے ، لیکن کسی نے اپنے ذمہ واجب کرلیا تو اب اس کا پورا کرنا واجب ہے ۔ تو اللہ کے نیک بندے وہ تمام نیک عمل بھی پورے کرتے ہیں ، جو واجب تو نہیں مگر انہوں نے اپنے لئے واجب کر رکھے ہیں ۔ اور نہایت باقاعدگی سے پورے کرتے ہیں ۔ اگلی ہی آیت میں کچھ ایسے واجب کا ذکر فرمایا گیا جو اللہ کے ان نیکو کار لوگوں اپنے اوپر لازم کر رکھے ہیں ۔ فرمایا ۔
" اور خود چاہت رکھنے کے باوجود محتاج ، یتیم اور قیدی کو کھلاتے ہیں "
اپنے ضرورت سے زاید کی خیرات اور اپنی ضرورت کو پس پشت ڈال کر دوسرے حاجت پوری کرنا ، دونوں میں بہت فرق ہے ۔ یہی وہ عمل ہے جسکا ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ کے یہ نیک بندے اپنی بھوک کو روک کر بھی محتاج یعنی جو خود سے اپنی ضروریات  پوری نہیں کر سکتا ، یتیم جو اپنے وسائل پر قادر نہیں کو کھلا دیتے ہیں ۔ انہی میں قیدی کا ذکر کرنے میں بہت بڑی بلاغت ہے ۔قیدی معاشرے میں بحیثیت مجرم سمجھا اور پہچانا جاتا ہے ۔  ایک مجرم کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ کم ترین سطح پہ چلا جاتا ہے ۔ اللہ کے نیک بندے وہی ہیں جو کسی بھی شخص کے کردار سے زیادہ اس کی ضروریات زندگی پر نظر رکھتے ہیں اور معاشرے کے دھتکارے ہوئے شخص کو بھی اپنی بھوک کاٹ کر کھانا فراہم کرتے ہیں ، وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ۔ اگلی آیت میں فرمایا ۔
" اور وہ کہتے ہیں : ہم تم کو اللہ ہی کی خوشنودی کے لئے کھانا کھلا رہے ہیں ، نہ ہم تم سے بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ ۔ہمیں اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر لگا رہتا ہے جو ہولناک اور سخت دن ہوگا "
یعنی اس ساری نیکی کے پیچھے کوئی ستائش طلب نہیں ہے ۔ نہ یہ عمل کسی احسان کی نظر سے کیا جا رہا ہے بلکہ سب اللہ کی رضا کیلئے ہے کہ کہیں روز جزا اللہ اس بات پر نہ پکڑ لے کہ اسکے ضرورت مند بندوں کا خیال کیوں نہیں رکھا گیا ۔ یہ ساری کیفیت خشییت کی ہے اور اللہ کی رضا کی طلب سے ہے ۔
آزاد ھاشمی
٧ اکتوبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment