Monday, 7 October 2019

قرآن جمع کرنے کی ذمہ داری "

"قرآن جمع کرنے کی ذمہ داری "
قرآن کی بلاغت کا بہترین ثبوت ہے کہ جو بھی سوال  غلط فہمی پیدا کر سکتا ہے ، ہر اس سوال کا جواب چودہ سو سال پہلے سے نزول قرآن کے ساتھ ہی موجود ہے ۔ 
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ۔
" قرآن کا جمع کرنا اوراس کا پڑھانا ہمارے ذمہ ہے ،تو جب ہم قرآن پڑھا کریں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں ۔پھر اس کی تشریح کرنا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے "
اس مضمون سے متعدد باتیں معلوم ہوتی ہیں ، اول یہ کہ ایسا نہیں ہے کہ قرآن مجید آپؐ کے بعد جمع ہوا ہو ، بعد کو جمع کئے جانے کی حقیقت صرف اس قدر ہے کہ قرآن کو کتابی شکل میں لکھا گیا ، ورنہ تو قرآن خود اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے سینے میں جمع کردیا تھا اور اسی کے مطابق آپؐ نے قرآن کو لکھوایا تھا ، دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ قرآن جس لب و لہجہ میں پڑھا جاتا ہے اور جس طرح آپ نے صحابہ کو پڑھنا سکھایا ہے ، وہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے ، یعنی قرآن کے الفاظ بھی اور اس کے پڑھنے کا اُسلوب بھی من جانب اللہ محفوظ ہے ۔  قرآن کی بلاغت ہے کہ ہر آیت  اورہر حکم  کو ساتھ ساتھ کھول کھول کر بیان کیا گیا ۔  جس حکم کی بار بار ضرورت تھی اسے بار بار دہرایا جاتا ہے ۔ یہی اسلوب ہے جسکا ذکر مذکورہ آیات میں کر دیا گیا ۔
اسلامی تاریخ کا المیہ ہے کہ بنو امیہ کے حکمرانوں نے بیشمار اختراعات پیدا کر دیں ۔ احادیث کے نام پر بیشمار بے سروپا روایات کو ہادئی کائنات سے منسوب کر دیا گیا ۔ جس ہستی کا وجود ہی اسلئے تھا کہ ہر پیچیدگی کو حل کر دیا جائے تاکہ امت مسلمہ دنیا میں بہترین امت ثابت ہو ۔ اسی ہادئی برحق کے نام سے متضاد احادیث بنا کر ایک گھمبیر صورت پیدا کر دی گئی ۔ اسی ضمن میں تدوین قرآن کی پیچیدگی نے جنم لیا ۔ کہا گیا کہ قرآن کی تدوین اور ترتیب خلفاء راشدین کے دور میں ہوئی مگر کوئی ٹھوس دلائل سامنے نہیں آسکے کہ کس دور خلافت سے حتمی طور پر جوڑا جا سکے ۔ اگر اسے تسلیم کر لیا جائے کہ قرآن ٹکڑوں کی صورت میں کبھی پتوں پر لکھا گیا ، کبھی چمڑے کے ٹکڑے پر اور کبھی کسی کاغذ پر ۔  جو بعد میں جمع کی گئیں اور قرآن کی کتابی شکل میں تدوین ہوئی تو قرآن مجید کی اس آیت سے صریح انکار ہے ، جسکا تذکرہ اوپر کیا گیا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٦ اکتوبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment