Saturday, 11 January 2020

کیا ملا ، کیا ملے گا؟

"کیا ملا ہے ، کیا ملے گا ؟"
وہ علم و آگہی والے لوگ ، کچھ لمحے اپنی سوچ کے محور کو مسالک سے الگ کر کے سوچیں ، کہ کشا کشی نے مسلمان کو کیا دیا ؟ اور اسلام کو کہاں پہنچا دیا ؟ ہم ایک امت بنے یا گروہوں میں تقسیم ہو کر اپنی شناخت کو دھندلا دیا ؟ ہم اس راستے پر چلے جس کی منزل اللہ کی رضا تھی یا ہم نے وہ راہ اپنا لی ، جس سے اللہ راضی نہیں تھا ؟
اللہ نے حکم دیا تھا اور بالکل واضع حکم تھا ۔
" اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو "
کیا اس حکم کے بعد ہماری اپنی صوابدید کی گنجائش باقی تھی ؟ کیا اس اٹل حکم کے بعد کسی اجتہاد ، کسی فلسفہ ، کسی منطق کی گنجائش تھی کہ ہم گروہ بنا لیتے ؟
آج ہم  اس دوراہے پہ کھڑے ہیں کہ ایک دوسرے کے ایمان کی گواہی دینے کی بجائے ایک دوسرے کو  کافر ثابت کرنے پہ تلے بیٹھے ہیں ۔
مساجد کیلئے حکم تھا کہ یہ اللہ کا گھر ہیں ، ہم نے اسے مسالک سے منسوب کر دیا ۔
کبھی سوچا کہ جنہوں نے اپنی پوری علمیت اس تحقیق پہ لگا دی کہ اپنے مخالف مسلک کے کون کون سے عیب اور کون کون سی کمزوریوں سے اپنے حمایت یافتگاں میں اضافہ کرنا ہے ۔ انہوں نے کونسی خدمت انجام دی ؟ کونسا اجتہاد کیا کہ منافرت پھیلا دی ۔ اس منافرت سے ممالک کی بھی حدود بندی کر دی گئی ۔ یہ وہ المیہ ہے جس سے کافر ، مشرک اور ملحد کو تقویت ملی ۔ وہ ہمیں مسلمان کہہ کر مارتا رہا اور ہم شیعہ سنی کے چکر میں اپنے ہی کلمہ گو بھائی کی درگت بنتے دیکھتے رہے ۔
اگر ہم نے منافرت کو پھیلانے کا سلسلہ یونہی جاری رکھا تو نہ اللہ کی رضا نصیب ہو گی اور اگر اللہ راضی نہیں تو اللہ کی نصرت کبھی نہیں ملے گی ۔ اور نہ ہی دنیا میں عزت سے جی سکیں گے ۔ سوچنا ہوگا کہ ہمیں مسالک کی جنگ سے کیا ملا؟
آزاد ھاشمی
١١ جنوری ٢٠٢٠ 

Friday, 10 January 2020

قرآنی معلومات

ناقابل یقین انفارمیشن ..

قرآن حکیم کا دعوی ہے کہ اس   میں کوئی باطل بات داخل نہیں ہوسکتی۔ 
اس لئے  کہ قرآن حکیم کا ایک ایک حرف اتنی زبردست کیلکو لیشن اور اتنے حساب و کتاب کے ساتھ اپنی جگہ پر فٹ ہے کہ اسے تھوڑا سا ادھر ادھر کرنے سے وہ ساری کیلکو لیشن  درھم برھم ہوجاتی ہے  جس   کے ساتھ قرآنِ پاک کی اعجازی شان نمایا ں ہے ۔
 اتنی بڑی کتاب میں اتنی باریک کیلکولیشن کا کوئی  رائٹر تصور بھی نہیں کرسکتا۔  بریکٹس میں دیے گئے یہ الفاظ بطور نمونہ ہیں ورنہ قرآن کا ہر لفظ جتنی مرتبہ استعمال ہوا ہے وہ تعداد اور اس کا پورا بیک گراؤنڈ اپنی جگہ خود علم و عرفان کا ایک وسیع جہان ہے۔ دنیا کا لفظ اگر 115 مرتبہ استعمال ہوا ہے تو اس کے مقابل آخرت کا لفظ بھی 115 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ وعلی ھذ القیاس۔
  (دنیا وآخرت:115)  (شیاطین وملائکہ:88)( موت وحیات:145)(نفع وفساد:50)(اجر فصل108) (کفروایمان :25)(شہر:12)کیونکہ شہر کا مطلب مہینہ اور سال میں 12 مہینے ہی ہوتے ہیں ( اور یوم کا لفظ 360مرتبہ استعمال ہوا ہے  اتنی بڑی کتاب  میں اس عددی مناسبت کا خیال رکھنا کسی بھی انسانی مصنف کے بس کی بات نہیں۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔۔۔
جدیدترین ریسرچ کے مطابق  قرآن حکیم  کے حفاظتی نظام میں 19 کے عدد کا بڑا عمل دخل ہے  ،اس حیران کن دریافت کا سہرا ایک مصری ڈاکٹر راشد خلیفہ کے سر ہے جوامریکہ کی ایک یونیورسٹی میں کیمسٹری کے پروفیسر تھے۔1968 ء میں انہوں نے مکمل قرآنِ پاک کمپیوٹر پر چڑھانے کے بعد قرآنِ پاک کی آیات  ان کے الفاظ و حروف میں کوئی تعلق تلاش کرنا شروع کردیا رفتہ ،رفتہ اور لوگ بھی اس ریسرچ میں شامل ہوتے گئے حتی کہ 1972ء میں یہ ایک باقاعدہ سکول بن گیا۔ریسرچ کے کاکام جونہی آگے بڑھا ان لوگوں پر  قدم قدم پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ، قرآنِ حکیم کے الفاظ و حروف میں انہیں ایک ایسی حسابی ترتیب نظر آئی جس کے مکمل ادراک کیلئے اس وقت تک کے بنے ہوئے کمپیوٹر ناکافی تھے۔
کلام اللہ میں 19 کا ہندسہ صرف سورہ مدثر میں آیاہے جہاں اللہ نے فرمایا:دوزخ پر ہم نے انیس محافظ فرشتوں کو مقرر کر رکھا ہے اس میں کیا حکمت ہے یہ تو رب ہی جانے لیکن اتنا اندازہ ضرور ہوجاتا ہے کہ 19 کے عدد کا تعلق اللہ کے کسی حفاطتی انتظام سے  ہے پھر ہر سورت کے آغاز میں قرآنِ مجید کی پہلی آیت بسم اللہ   کو رکھا گیا ہے  گویا کہ اس کا تعلق  بھی قرآن کی حفاظت سے ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں بسم اللہ کے کل حروف بھی 19 ہی  ہیں پھر یہ دیکھ کر مزید حیرت میں اضافہ ہوتا ہے کہ بسم اللہ میں ترتیب کے ساتھ  چار الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور ان کے بارے میں ریسرچ کی تو ثابت ہوا کہ اسم  پورے قرآن میں 19 مرتبہ استعمال ہوا ہے لفظ  الرحمن 57 مرتبہ استعمال ہوا ہے جو3×19 کا حاصل  ہے اور  لفظ الرحیم   114 مرتبہ استعمال ہو ہے جو 6×19 کا حاصل ہے اور لفظ اللہ پورے قرآن میں 2699 مرتبہ استعمال ہوا ہے 142×19 کا حاصل ہے لیکن یہاں بقیہ ایک رہتا ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ اللہ کی ذات پاک کسی حساب کے تابع نہیں ہے وہ یکتا ہے۔ قرآن مجید کی سورتوں کی تعداد بھی 114 ہے جو 6×19 کا حاصل ہے سورہ توبہ کےآغاز میں بسم اللہ نازل نہیں ہوئی  لیکن سورہ نمل  آیت نمبر 30 میں مکمل بسم اللہ نازل کرکے  19 کے فارمولا کی تصدیق کردی اگر ایسا نہ ہوتا تو حسابی قاعدہ فیل ہوجاتا۔
اب  آئیے حضور علیہ السلام پر اترنے  والی پہلی وحی کی طرف : یہ سور علق کی پہلی 5 آیات ہیں :اور یہیں سے 19 کے اس حسابی فارمولے کا آغاز ہوتا ہے! ان 5 آیات  کے کل الفاظ 19 ہیں اور ان 19 الفاظ کے کل حروف  76 ہیں جو ٹھیک 4×19 کا حاصل ہیں لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی جب سورہ علق   کے کل حروف کی گنتی کی گئ تو عقل تو  ورطہ حیرت میں ڈوب گئی کہ اسکے کل حروف 304 ہیں جو 4×4×19 کا حاصل ہیں۔    اور سامعین کرام ! عقل  یہ دیکھ کر حیرت کی اتھاہ گہرائیوںمیں مزید ڈوب جاتی ہے کہ قرآنِ پاک کی موجودہ ترتیب  کے مطابق سورہ علق قرآن پاک کی 96 نمبر سورت ہے اب  اگر قرآن کی آخری سورت والناس کی طرف سے گنتی کریں تو اخیر کی طرف سے سورہ علق کا نمبر 19 بنتا ہے اور اگر قرآن کی ابتدا سے دیکھیں تو اس 96 نمبر سورت سے پہلے 95 سورتیں ہیں جو ٹھیک 5×19 کا حاصل ضرب ہیں جس سے یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ  سورتوں کے آگے پیچھے کی ترتیب بھی انسانی نہیں بلکہ  اللہ تعالیٰ کے حسابی نظام کا ہی ایک حصہ ہے۔ قرآنِ پاک کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت  سورہ نصر ہے یہ سن کر  آپ پر  پھرایک مرتبہ  خوشگوار حیرت  طاری ہوگی کہ اللہ پاک نے یہاں بھی 19 کا نظام برقرار رکھا ہے پہلی وحی کی طرح آخری وحی سورہ نصرٹھیک 19 الفاظ پر مشتمل ہے یوں کلام اللہ کی پہلی اور آخری سورت ایک ہی حسابی قاعدہ سے نازل ہوئیں۔
سورہ فاتحہ کے بعد قرآن حکیم کی پہلی سورت  سورہ بقرہ کی کل آیات 286 ہیں   2 ہٹادیں تو مکی سورتوں کی تعداد سامنے آتی ہے  6ہٹا دیں تو مدنی سورتوں کی تعداد سامنے آتی ہے۔86 کو 28 کے ساتھ جمع کریں تو کل سورتوں کی تعداد 114 سامنے آتی ہے۔
آج جب کہ عقل وخرد کو سائنسی ترقی پر بڑا ناز ہے  یہی قرآن پھر اپنا چیلنج  دہراتا ہے حسابدان، سائنسدان، ہر خاص وعام مومن کافر سبھی سوچنے پر مجبور ہیں کہ آج بھی کسی کتاب میں ایسا حسابی نظام  ڈالنا انسانی بساط سے باہر ہے طاقتور کمپوٹرز کی مدد سے بھی اس جیسے حسابی نظام کے مطابق  ہر طرح کی غلطیوں سے پاک کسی کتاب کی تشکیل  ناممکن ہوگی لیکن چودہ سو سال پہلے  تو اس کا تصور ہی محال ہے لہذا کوئی بھی صحیح العقل آدمی اس بات کا انکارنہیں کرسکتا کہ قرآنِ کریم  کا حسابی نظام اللہ کا ایسا شاہکار معجزہ ہے جس کا جواب قیامت تک کبھی بھی نہیں ہوسکتا ..، جزاک اللهﷻ

Friday, 27 December 2019

کائنات کا حساب

 ﺳﻮﺭﺝ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻘﺮﺭ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭘﺮ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺍﺭﺏ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﭼﮫ ﺳﻮ ﻣﯿﻞ ﻓﯽ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ، ٩ ﺳﯿﺎﺭﮮ ، 27 ﭼﺎﻧﺪ ﺍﻭﺭ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﻣﯿﮍﺍﺋﭧ ‏( Meteorite ‏) ﮐﺎ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﺍﺳﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺗﮭﮏ ﮐﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺭە ﺟﺎﮰ ﯾﺎ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍِﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﮰ۔ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍە ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔
 ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ، ﮈﯾﺰﺍﯾﻦ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺫﯾﺰﺍﺋﻨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ، ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﻮ ﻧﺎﻓﺬ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﮨﮯ،ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻨﭩﺮﻭﻟﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺲ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ؟
 ﭼﺎﻧﺪ ﺗﯿﻦ ﻻﮐﮫ ﺳﺘﺮ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺍﺭﺑﻮﮞﮑﮭﺮﺑﻮﮞ ﭨﻦ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺩﻭ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﺪﻭ ﺟﺰﺭ ﺳﮯ ﮨﻼﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﮯ ﻟﮱ ﮨﻮﺍ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ، ﭘﺎﻧﯽ ﺻﺎﻑ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ،ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﻔﻦ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺳﺎﺣﻠﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻏﻼﻇﺘﯿﮟ ﺑﮩﮧ ﮐﺮ ﮔﮩﺮﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﺘﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔
 ﯾﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﺭﺍ ﮨﮯ۔ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺗﯿﻦ ﺍﺭﺏ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺯﯾﺎﺩە ﻧﮧ ﮐﻢ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮍﮮ ﺳﺐ ﺁﺑﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺗﯿﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻻﺷﻮﮞ ﺳﮯ ﺑُﻮ ﻧﮧ ﭘﮭﯿﻠﮯ۔ﺍﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺳﻄﺢ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮭﺎﺭﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﮨﻮ ﮰ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﻏﯿﺐ ﭘﺮﺩە ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﺭﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮭﺎﺭﺍ۔
 ﺍﺱ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﻋﻘﻞ ﮨﮯ ؟ ﺍﺱ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ ؟
ﮐﯿﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﻮﭺ ﺗﮭﯽ ﯾﺎ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ؟
 ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﻮﺩە ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﺐ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮎ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺻﺤﺮﺍﺯﺩە ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﮑﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻟﺞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺍُﭨﮫ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﮨﯿﮟ ۔ " ﻭﺍﺷﻤﺲ ﻭﺍﻟﻘﻤﺮ ﺑﺤﺴﺒﺎﻥ " ‏( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺁﯾﺖ ۵ ‏)
 ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮔﮩﺮﺍﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ " ﺑﯿﻨﮭﻤﺎ ﺑﺮﺯﺥ ﻻ ﯾﺒﻐﯿٰﻦ " ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺮﺯﺥ ‏( Barrier ‏) ﮨﮯ ﺟﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ " ۔ ‏( ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺁﯾﺖ ٢٠ ‏)
 ﺟﺐ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻟﭩﮑﮯ ﮨﻮﮰ ﭼﺮﺍﻍ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ " ﻭﮐﻞ ﻓﯽ ﻓﻠﮏ ﯾﺴﺒﺤﻮﻥ " ﯾﻌﻨﯽ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﺗﯿﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ‏( ﺳﻮﺭە ﯾٰﺴﯿﻦ ﺁﯾﺖ ۴٠ ‏)
 ﺟﺐ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﻮ ﺳﺎﮐﻦ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ " ﻭﺍﻟﺸﻤﺲ ﺗﺠﺮﯼ ﻟﻤﺴﺘﻘﺮﻟﮭﺎ " ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻘﺮﺭﺷﺪە ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺠﺎﻧﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﭼﻼ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ‏( ﺳﻮﺭە ﯾٰﺴﯿﻦ ﺁﯾﺖ ٣٨ ‏)
 ﺟﺐ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﻣﺪ ﺁﺳﻤﺎﻥ ‏( ﭼﮭﺖ ‏) ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﭘﮭﯿﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ " ﻭﺍﻧﺎ ﻟﻤﻮﺳﻌﻮﻥ " ‏( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﺬﺭﯾﺎﺕ،  ‏)
 ﻭە ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﻮﺍﻧﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﻟﺒﺮﭦ ﺁﺋﻦ ﺳﭩﺎﺋﻦ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ " ﻗﻮﺍﻧﯿﻦ ﻗﺪﺭﺕ ﺍﭨﻞ ﮨﯿﮟ " ﭘﺮ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﺎ ﺑﺎﻧﯽ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ " ﻣﺎﺗﺮﯼ ﻓﯽ ﺧﻠﻖ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﻣﻦ ﺗﻘٰﻮﺕ " ﺗﻢ ﺭﺣﻤٰﻦ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻭٴ ﮔﮯ۔ ‏( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﻤﻠﮏ ﺁﯾﺖ ٣ ‏)
 ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﯽ ﺍﻥ ﻗﺎﺑﻞِ ﻓﺨﺮ ﺩﺭﯾﺎﻓﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﻮﺩە ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﺮﺩە ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﺲ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﮭﺎ؟ ﮐﺲ ﻟﯿﺒﺎﺭﭨﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ؟ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺪﺍﺋﯽ ﻋﻘﻞ ﺗﮭﯽ ﯾﺎ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺻﺮﻑ ﺣﺎﺩﺛﮧ ؟
 ﻧﻮﻣﻮﻟﻮﺩ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﮭﻮﮎ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺭﻭ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺒﺬﻭﻝ ﮐﺮﺍﮰ؟ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺧﻄﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﯿﻨﮧ ﺳﭙﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﮰ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﯽ ﭼﮍﯾﺎ ﺷﺎﮨﯿﮟ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﭘﺮ ﺍﺗﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ،ﯾﮧ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺍﺳﮯ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ ؟ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺍﻧﮉﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺣﯿﻮﺍﻧﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﮑﮭﺎﮰﻣﺎﻭٴﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﻭﺩﮪ ﮐﮯ ﻟﮱ ﻟﭙﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﻮﻥ ﺳﮑﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ؟ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﻮﻧﭽﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﻻ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﻧﮩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﯿﮟ ؟ ﯾﮧ ﺁﺩﺍﺏِ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﮯ؟
ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺧﺪﺍﻧﮩﯿﮟ ! ؂
ﺑﺲ ﺍﺭﺗﻘﺎٴ ‏( Evolution ‏) ﮨﮯ؟
 ﺷﮩﺪ ﮐﯽ ﻣﮑﮭﯿﺎﮞ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﺑﺎﻏﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﭘﮭﻮﻝ ﺳﮯ ﺭﺱ ﭼﻮﺱ ﭼﻮﺱ ﮐﺮ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺍﯾﻤﺎﻧﺪﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﻻ ﮐﺮ ﭼﮭﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮨﺮ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﭘﮭﻮﻝ ﺯﮨﺮﯾﻠﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﯽ،ﺍﯾﮏ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺷﮩﺪ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻡ ﮐﻮ ﻋﻠﯿﺤﺪە ﻋﻠﯿﺤﺪە ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﻦ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ۔ﺟﺐ ﮔﺮﻣﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺷﮩﺪ ﮐﻮ ﭘﮭﮕﻞ ﮐﺮ ﺑﮩﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﮱ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﭘﻨﮑﮭﺎ ﭼﻼ ﮐﺮ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ،ﻣﻮﻡ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺁﺭﮐﯿﭩﯿﮑﭧ ﺑﮭﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﺯﺩە ﮨﯿﮟ۔ﻻﮐﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻨﻈﻢ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺜﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ، ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﺭﺍﮈﺍﺭ ﻧﻈﺎﻡ ﻧﺴﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭە ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻮﻟﺘﯿﮟ۔ ﺍﻧﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﯾﮧ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺳﮑﮭﺎﮰ ؟ﺍﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﻋﻘﻞ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ؟ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮ۔
ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ،ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﺣﺎﺩﺛﮧ ؟ ﺻﺮﻑ ﻋﻤﻞ ﺍﺭﺗﻘﺎٴ ! ؂
 ﻣﮑﮍﺍ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﮧ ﮐﮯ ﻟﻌﺎﺏ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﭘﮑﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﺎﻝ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺪﯾﺪ ﭨﯿﮑﺴﭩﺎﺋﻞ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺑﻨﺎﻭﭦ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﻔﯿﺲ ﺩﮬﺎﮔﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺎﺻﺮ ﮨﯿﮟ۔
ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﭼﯿﻮﻧﭩﯽ ‏( Antt ‏) ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮌﮮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ،ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﻨﻈﯽ ﺳﮯ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﻧﻈﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺻﻮﻝ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺣﺪ ﺗﮏ ﮐﺎﺭﻓﺮﻣﺎ ﮨﯿﮟ۔
 ﭨﮭﻨﮉﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﭽﮭﻠﯿﺎﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﮉﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻃﻦ ﺳﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﮔﺮﻡ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﭽﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﻭﻃﻦ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﻧﮩﯿﮟ، ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﮑﭩﯿﺮﯾﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﻘﺎ ﮐﻮ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﯿﮟ؟
 ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮔﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺳﮑﮭﺎﮰ؟ ﻣﻌﺎﺷﺮﺗﯽ ﻧﻈﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺣﺼﻮﻝ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺲ ﻧﮯ ﭘﮍﮬﺎﮰ؟
ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ؟
 ﮐﯿﺎ ﺯﻣﯿﻦ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﻟﯿﻞ ﻭ ﻧﮩﺎﺭ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ، ﺧﻮﺩ ﺑﺨﻮﺩ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﻮﺭ ﭘﺮ -67 1/2 ﮈﮔﺮﯼ ﺟﮭﮏ ﮔﺌﯽ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻝ ﻣﻮﺳﻢ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮩﺎﺭ ، ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺮﻣﯽ، ﮐﺒﮭﯽ ﺳﺮﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﺰﺍﮞ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﮎ ﺳﺒﺰﯾﺎﮞ ، ﭘﮭﻞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻝ ﻣﻠﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ؟
 ﺯﻣﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺷﻤﺎﻟًﺎ ﺟﻨﻮﺑًﺎ ﺍﯾﮏ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺴﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﮨﯽ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺠﻠﯿﺎﮞ ﮐﮍﮐﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻮﺍ ﮐﯽ ﻧﺎﺋﭩﺮﻭﺟﻦ ﮐﻮ ﻧﺎﺋﭩﺮﺱ ﺁﮐﺴﺎﺋﮉ ‏( Nitrous Oxide ‏) ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﭘﻮﺩﻭﮞ ﮐﯿﻠﮱ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﮐﮭﺎﺩ ﻣﮩﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ، ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﺤﺮﯼ ﺟﮩﺎﺯ ﺁﺑﺪﻭﺯ ‏( Submarine ‏) ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺍﻭٴﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮌﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻃﯿﺎﺭﮮ ﺍﺱ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺲ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭘﺎﺋﯿﮟ، ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﮩﻠﮏ ﺷﻌﺎﺋﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺴﯿﭽﮭﺖ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭧ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺯﻣﯿﻨﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﮩﻠﮏ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﮯ۔

 ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ، ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻘﻞ ﻧﮩﯿﮟ، ﮐﻮﺋﯽ ﮈﯾﺰﺍﺋﻦ ﻧﮩﯿﮟ؟ ﯾﺎ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﻮﭺ ﺗﮭﯽ؟
ﻣﺰﯾﺪ ﺩﯾﮑﮭﯿﮯ ! ؂ ﺯﻣﯿﻦ ،ﺳﻮﺭﺝ،ﮨﻮﺍﻭٴﮞ،ﭘﮧﺍﮌﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﺎ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺁﺑﯽ ﺑﺨﺎﺭﺍﺕ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﮔﮯ،ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﭨﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺵ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﻻﺋﯿﮟ ﮔﯽ،ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﯾﮉﯾﺎﺋﯽ ﺫﺭﮮ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻗﻄﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺧﺸﮏ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﮱ ﺑﺮﺳﮯ ﮔﺎ،ﺟﺐ ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﮐﻢ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﮔﯽ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﺮﻑ ﮐﮯ ﺫﺧﯿﺮﮮ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺎﮰ ﮔﺎ، ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺯﯾﺎە ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﮔﯽ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭘﮕﮭﻞ ﮐﺮ ﻧﺪﯼ ﻧﺎﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎﻭٴﮞ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮰ ﻭﺍﭘﺲ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﮰ ﮔﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﻣﺘﻮﺍﺯﻥ ﻧﻈﺎﻡ ﺟﻮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔
 ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ۔ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺳﻮﭺ ﺗﮭﯽ؟
ﮐﯿﺎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﮯ؟ ﮨﻤﺎﺭﮮ  Pancreas ‏( ﻟﺒﻠﺒﮯ ‏) ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺷﻮﮔﺮ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﮯ ، ﺩﻝ ﮐﺎ ﭘﻤﭗ ﮨﺮ ﻣﻨﭧ ﺳﺘﺮ ﺍﺳﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﺑﻐﯿﺮ ﺁﺭﺍﻡ ﺑﻼ ﺗﮭﮑﺎﻥ ﺧﻮﻥ ﭘﻤﭗ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ٧۵ ﺳﺎﻟﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﻼ ﻣﺮﻣﺖ ‏( Maintenance ‏) ﺗﻘﺮﯾﺒًﺎ ﺗﯿﻦ ﺍﺭﺏ ﺑﺎﺭ ﺩﮬﮍﮐﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﺮﺩﮮ ‏( Kidneys ‏) ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺑﮯﻣﺜﻞ ﺍﻭﺭ ﻋﺠﯿﺐ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﺴﻢ ﮐﯿﻠﮱ ﺟﻮ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯﻭە ﺭﮐﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﮨﮯ ﻓﻀﻼﺕ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﻌﺪە ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﮐﯿﻤﯿﮑﻞ ﮐﻤﭙﻠﯿﮑﺲ ‏( Chemical Complex ‏) ﮨﮯ ﺟﻮ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺳﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺨﺶ ﺍﺟﺰﺍ ﻣﺜﻠًﺎ ﭘﺮﻭﭨﯿﻦ ،ﮐﺎﺭﺑﻮﮨﺎﺋﯿﮉﺭﯾﭧ ﻭﻏﯿﺮە ﮐﻮ ﻋﻠﯿﺤﺪە ﮐﺮﮐﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﻀﻼﺕ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔
 ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮﻧﮓ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺷﺎﮨﮑﺎﺭ، ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺑﮯ ﻣﺜﻞ ﻧﻤﻮﻧﮯ، ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻻﺟﻮﺍﺏ ﻓﯿﮑﭩﺮﯾﺎﮞ ، ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﺑﻦ ﮔﮱ ﺗﮭﮯ؟
ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮈﯾﺰﺍﺋﻨﺮ ‏( Designer ‏) ، ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ‏(  Maker ‏) ، ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ‏( Oprator ‏) ، ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﻋﻤﻞ ﺍﺭﺗﻘﺎٴ؟
 ﺩﻣﺎﻍ ﮐﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ؟ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪ ، ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺗﯿﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻋﻘﻞ ﮐﺎ ﺧﺰﺍﻧﮧ، ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﮐﺎ ﺳﭩﻮﺭ،ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﮐﺎ ﻣﺮﮐﺰ، ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ، ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﻭﭦ ﺍﻭﺭ ﮈﯾﺰﺍﺋﻦ ﮐﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﯾﺎ، ﻻﮐﮫ ﮐﻮﺷﺸﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﺫﮨﻦ ﮐﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﭙﺮ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻋﺸﺮ ﻋﺸﯿﺮ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺘﺎ۔
ﮨﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮭﺮﺑﻮﮞ ﺧﻠﯿﺎﺕ ‏( Celll ‏) ﮐﺎ ﻣﺠﻤﻮﻋﮧ ﮨﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﺭﺩﺑﯿﻦ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ،ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﻮﮞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺧﻠﯿﮧ ﺷﻌﻮﺭ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻣﮑﻤﻞ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﮯ ۔ ﺍﻥ ﺟﯿﻨﺰ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﭘﻮﺭﯼ ﻗﺴﻤﺖ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺱ ﺑﻨﺪ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﮐﮭﻠﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ، ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻋﻘﻞ ﻭ ﺩﺍﻧﺶ ، ﻏﺮﺽ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺍﻥ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺟﺎ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﮐﺲ ﮐﯽ ﻟﮑﮭﺎﺋﯽ ﮨﮯ؟
 ﺣﯿﻮﻧﺎﺕ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﯿﺞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﻘﺸﮧ ﺑﻨﺪ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﮐﺲ ﮐﯽ ﻧﻘﺸﮧ ﺑﻨﺪﯼ ﮨﮯ؟
ﺧﻮﺭﺩﺑﯿﻦ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺳﯿﻞ ‏( Celll ‏) ﺍﯾﮏ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺗﻮﺍﻧﺎ ﻋﻘﻞ ﻭ ﮨﻮﺵ ﻭﺍﻻ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﮐﺲ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﻭﭦ ﮨﮯ ؟
 ﮨﻮﻧﭧ، ﺯﺑﺎﻥ، ﺍﻭﺭ ﺗﺎﻟﻮ ﮐﮯ ﺍﺟﺰﺍ ﮐﻮ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﮐﺖ ﺩﯾﻨﺎ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ؟
 ﺍﻥ ﺣﺮﮐﺎﺕ ﺳﮯ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﮐﻮﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ؟
ﺍﻥ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﻨﯽ ﮐﻮﻥ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ؟
ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﻭﺭ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﺎﻟﻖ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﮯ ! ؂ ! ؂ ! ؂ ؟
ﻣﺤﺾ ﻋﻤﻞِ ﺍﺭﺗﻘﺎٴ ﮨﮯ ! ؂ ! ؂
ﻻ ﺍﻟﮧٰ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﻪ
ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﯼ ﺣﻘﯿﻘﺖ ہے..!!

Thursday, 26 December 2019

دکھیارے شوہر ، ظالم بیویاں

" دکھیارے شوہر ، مظلوم بیویاں "
میاں بیوی کا سفر ، بہت طویل اور بہت ہمت کیش ہوتا ہے ۔ دونوں زندگی کے اس سفر کی شروعات بہت سارے خوابوں اور ارمانوں سے کرتے ہیں ۔ دونوں میں سے جس کا بھی دوسرے پر دل آجائے تو پھر  دنیا اسی سے شروع ہوتی ہے اور اسی پر ختم ہو جاتی ہے  ۔اسکے علاوہ تو سب جھمیلہ ہی جھیلہ نظر  آتا ہے ۔  اگر وہ ہم سفر بن جائے تو پھر استراحت کے سارے سامان اسی ہم سفر کے ساتھ منسوب ہو جاتے ہیں ۔ پھر کچھ ہی عرصے کے بعد سارےچونچلے چٹکیاں کاٹنے لگتے ہیں ، نہ عشوے باقی رہتے ہیں اور نہ ادائیں دل کو بھاتی ہیں ۔
بیوی کو دنیا بھر کے عیب شوہر کی ذات میں نظر آنے لگتے ہیں ۔ جب جی چاہے جو جی چاہے ، شوہر کا نام رکھ دے ۔ جب چاہے شوہر کیلئے عدالت لگا لے ۔ شوہر باہر کتنا بھی سورما کیوں نہ ہو ، گھر کی چار دیواری  میں سر جھکائے جھڑکیاں سننے والا ہوجاتا ہے ۔ اگر کوئی مرد شادی کے چند سال بعد بھی بیوی کو " جانو ، ہنی یا ڈارلنگ " کہہ کر بلا رہا ہے تو صرف تین وجہ ہو سکتی ہیں ، ایک یہ کہ دماغی توازن کھو بیٹھا ہے یا کمال کی منافقت رکھتا ہے یا پھر بہت خوفزدہ ہے ۔
اگر شوہر کی اندرونی کیفیت کا بخوبی اندازہ کرنا ہو تو اسکے سامنے بیگمات کے بارے میں کوئی لطیفہ سنا کر دیکھیں ، اگر تو باچھیں کھل جائیں تو سمجھ لیں کہ اسکے دل کی عکاسی ہوئی ہے ۔
کچھ ایسا ہی حال ، بیگمات کا بھی ہے ۔ اگر ایک نے کہا اور اپنے شوہر کے بارے میں چند منفی جملے بول دئیے تو مجموعی ریمارک ہوتا ہے ۔
" بہن یہ مرد ذات ہوتی ہی بے وفا اور منافق ہے " پھر جو خرابیاں ایک موصوفہ کے شوہر میں تھیں ، سب کے شوہروں میں آجائیں گی ۔  نکمے ،چڑچڑے ، چریا ، ٹھرکی اور نہ جانے کیا کیا تمغات دےڈالتی ہیں ۔ جو بہت سگھڑ یا انتہائی مکار ہوتی ہیں ، وہ القاب دینے سے گریز کر لیتی ہیں مگر مسکرا کر اقرار ضرور کرتی ہیں کہ جو بھی کہا گیا ہے
" سچ ہےاور سچ کے سوا کچھ نہیں "
گویا  دونوں طرف ایک جیسی آگ کا دھیما دھیما الاو دونوں طرف ہوتا ہے ۔
آزادھاشمی
٢۵ دسمبر ٢٠١٩ 

Monday, 23 December 2019

سورہ کوثر

سورۃ الکوثر میں عددی معجزہ 
 کیا یہ ایک اتّفا ق ہے  یا لُغوی حساب ہے ؟
- سورۃ الکوثر قرآن کی سب سے چھوٹی سورت ہے اور اس سورۃ کے جملے الفاظ 10ہیں۔
- سورۃ الکوثر کی پہلی آیت میں 10 حروف ہیں۔
- سورۃ الکوثر کی دوسری آیت میں 10 حروف ہیں۔
- سورۃ الکوثر کی تیسری آیت میں 10 حروف ہیں۔
- اس پوری سورت میں جو سب سے زیادہ تکرار سے حرف آیا ہے وہ  حرف  "ا" الف ہے جو 10 دفعہ آیا ہے۔
- وہ حروف جو اس سورت میں صرف ایک ایک دفعہ آئے ہیں انکی تعداد 10 ہیں۔
- اس سورت کی تمام آیات کا اختتام حرف "ر" راء پر ہوا ہے جو کہ حروفِ ہجا میں 10 واں حرف شمار ہوتا ہے۔
- قرآن مجید کی وہ سورتیں جو حرف "ر" راء پر اختتام پذیر ہو رہی ہیں ، انکی تعداد  10 ہے جن میں سورۃ الکوثر سب سے آخری سورت ہے۔
- سورت میں جو 10 کا عدد ہے اسکی حقیقت یہ ہے کہ وہ  ذو الحجہ کے مہینے کا 10واں دن ہے جیسے کہ اللہ تعالی نے فرمایا " فصل لربک وانحر"   "پس نماز پڑہو اور قربانی کرو"۔ وہ دراصل قربانی کا دن ہے۔
- اللہ کی شان کے یہ سب  کچھ قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورت ، جو ایک سطر پر مشتمل ہے ، میں آگیا۔ آپکا  کیا خیال ہے بڑی سورتوں کے متعلق!!!
اللہ تعالی نے واقعی سچ فرمایا" ہم نے اپنے بندے پر جو کچھ نازل کیا ہے اگر تمہیں اس میں شک ہو تو اس جیسی ایک سورت ہی لے آؤ"  اللہ تعالی مجھے اور آپ کو حوضِ کوثر سے ایسا مبارک پانی پلائے جسکے بعد ہمیں کبھی پیاس نہ لگے۔ آمین
اسے پھیلائیے  اور اللہ آپکو اسکا اجر عطا فرمائے۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

Tuesday, 10 December 2019

مشاہدہ

" مشاہدہ "
زندگی کے نشیب و فراز سے گذرتے عمر بیت گئی ۔ کٹھن دور بھی دیکھا اور ایک لمبی مدت تک دیکھنا پڑا ۔ وہ لمحے بھی نہیں بھول پایا ، جب رشتے بکھرتے اور اجنبی ہو جاتے ہیں ۔ جب ہر کوشش ناکام ہونے لگتی ہے اور لوگ کردار پر شک کرنے لگتے ہیں ۔ پھر قدرت کی رحمت ہوئی اور وہ سب مل گیا ، جسے زمانہ پوجتا ہے ۔ اجنبی بھی رشتوں کیطرح قریب ہوتے گئے ۔ دونوں صورتوں میں ، دل میں ایک ہیجان برپا رہا ۔ حرص نے اپنا مرید بنائے رکھا ، جس طرف چکا چوند نظر آئی ، ادہر دوڑ لگا دی ۔ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ تھکن بھی ہوتی ہے ۔ حرص و ہوس کی غلامی کر لی جائے تو بندہ اپنی ذات سے بے خبر ہو جاتا ہے ۔  پھر اسے اللہ بھی پیسے میں دکھائی دیتا ہے اور ایمان بھی ۔ یہ دور بھی بہت دیکھا اور جی بھر کے دیکھا ۔
اب جو مشاہدہ ہورہا ہے ، وہ زندگی بھر کے تجربات سے مختلف بھی ہے ، اطمینان بخش بھی اور راحت آمیز بھی ۔ حرص سے دامن چھوٹ گیا ، قناعت سے تعلق گہرا ہوگیا ۔ اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی کے تابع کر دیا تو ایک سکون سا مل گیا ۔ جو مل گیا اسے مقدر مان لیا اور جو نہیں ملا اسکے لئے نہ دکھ ہوا اور نہ شکایت ۔
میری زندگی کا یہ  دور ، سب سے خوبصورت اور دل فریب دور ہے ۔ اولاد اور رشتے جتنے بھی ہوں ، ایک حد تک محدود ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ قربتیں ماند پڑتی ہی رہتی ہیں ۔ رفتہ رفتہ اپنے خون کے تعلق بھی اجنبی ہو جاتے ہیں ۔ یہی ابد سے چلی ہوئی روایت ہے ۔ مگر جب کوئی شخص اس تعلق سے ہٹ کر انسانوں کیلئے سوچنے لگتا ہے ، اپنی ذات سے دوسروں کی ضرورتیں عزیز ہونے لگتی ہیں ، بے بسوں کی بے بسی پر کچھ بے چینی محسوس ہوتی ہے اور اس کے لئے کچھ کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے تو اسکا خاندان ، اسکے رشتے دار ، اسکے چاہنے والے لا تعداد ہو جاتے ہیں ۔ جب وہ دوسروں کے درد کیلئے تڑپتا ہے تو اسکے درد پر لا تعداد  ہاتھ اٹھ جاتے ہیں ۔ جو اسے موت کے منہ سے چھین لاتے ہیں ۔ میرے ساتھ یہ مشاہدہ کئی بار ہوا اور میرا ایمان بن گیا کہ
خلق خدا کی خدمت سے بہتر ، شاید کوئی عبادت بھی نہیں ، شاید کوئی ریاضت بھی نہیں اور شاید اس سے ملنے والے سکون سے بہتر کہیں اور سکون بھی نہیں ۔
اس نسبت سے ملنے والے رشتے ، خون کے رشتوں سے کہیں زیادہ مخلص ، وفا شعار اور بے لوث ہوتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
١٠ دسمبر ٢٠١٩ 

Tuesday, 26 November 2019

مرنے کے بعد کی زندگی

" مرنے کے بعد کی زندگی "
موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے ، جس سے جتنا بھی بھاگ لو ، ایک نہ ایک روز دبوچ ہی لیتی ہے ۔ جس روز یہ آن سامنے کھڑی ہوتی ہے تو ۔۔۔
" راز فطرت کے کھول سکتا ہوں
میں پہاڑوں کو تول سکتا ہوں
موت نے جب کہا خاموش !
نہ سکت ہے ، نہ بول سکتا ہوں "
سارے دعوے ، ساری طاقت ، ساری تدبیریں اور سارے راستے بند ہو جاتے ہیں ۔ جو کچھ اس بے ثبات دنیا میں جمع کیا تھا ، نہ کسی پہ حق رہتا ہے اور  نہ کچھ  ساتھ دینے جاتا ہے ۔
اگلا سفر کیسا ہے ، اللہ جانتا ہے اور یا پھر مسافر کو پتہ ہوتا ہے کہ اس کے دامن میں کتنے اعمال ہیں ، کتنی استراحتیں ہیں جو وہ ساتھ لے جا رہا ہے ۔ یا کتنی اذیتیں ہیں جو منوں مٹی تلے اسکی منتظر ہیں ۔ کوئی نہیں جانتا ۔ ہم نے زندگی بھر سارے ساماں اس لئے جمع کر رکھے ہوتے ہیں ، کہ لوگوں میں ناموری ہو ۔ ہمیشہ کیلئے جینے کا سامان اور اسے دانشمندی سمجھتے ہیں ۔  مگر مرنے کے بعد کی زندگی کا کوئی انتظام کرنا یاد ہی نہیں ہوتا ، یہی حماقت  ہے ۔
 کچھ ایسے بختاور بھی ہوتے ہیں ، جو اپنا تسلسل اس دنیا سے اسطرح قائم کر لیتے ہیں ، کہ وہ کبھی نہیں مرتے ۔ انکو کبھی موت نہیں آتی ۔  وہ دنیا سے جا کر بھی اس دنیا میں بستے رہتے ہیں ۔ انکے اعمال کا پہیہ چلتا رہتا ہے اور نیکیوں کا سلسلہ انکے کھاتے میں جمع در جمع ہوتا رہتا ہے ۔ ایسے لوگوں کی اولاد انہیں بھول بھی جائے تو دنیا والے کبھی فراموش نہیں کر پاتے ۔ انکے نام کی تختی ، کسی سنگ بنیاد کے طور پر نہ بھی ہو ، پھر بھی بیشمار دلوں پہ انکا نشان کندہ رہتا ہے ۔
یہ بختاور ، وہی ہوتے ہیں جو اپنی ذات سے زیادہ اللہ کے بندوں سے پیار کرتے ہیں ۔ جو دوسروں کے درد اپنی ذات کا حصہ بنا کر جیتے ہیں ۔ یہ ہے زندگی کی معراج اور یہ ہے موت کی دلکشی ۔
قادر مطلق کے ہاں ایسے نصیب مل جانا ، ایک انعام ہے ، ایک اعزاز ہے ، اللہ کے کرم کا بیمثال خزانہ ہے کہ انسان منوں مٹی تلے بھی استراحت میں رہے ۔ ہر ہر لمحہ نیکیاں اسکے اعمال کا حصہ بنتی رہیں ۔
کیا ایسی زندگی اور ایسی موت قابل رشک اور قابل تقلید نہیں ؟ کیا ہمارا نصیب اس معراج پر ہے کہ اللہ ہمیں بھی اسی انعام سے نواز دے ؟ کیا ہم اس راہ کے راہی بننے کی آرزو کرتے ہیں ؟ کیا ہم اللہ سے اس راستے پر چلنے کیلئے جھولی پھیلاتے ہیں ؟
آئیے سوچتے ہیں۔
آزاد ھاشمی
٢۵ نومبر ٢٠١٩