" بڑے لوگ "
کبھی کبھی اپنے ناقص العقل ہونے کا یقین ہو جاتا ہے ۔ کہ جن کو اکثر " بڑے لوگ " کہا جاتا ہے ۔ سمجھ نہیں آتا کہ وہ کیا پیمانہ ہے جو کسی کو چھوٹا اور کسی کو بڑا کر دیتا ہے ۔ یہ بڑے لوگ کیا اور کیوں ہوتے ہیں ۔ شاید جس کے پاس دنیا کا مال و متاع زیادہ ہوتا ہے ، اسے " بڑے لوگ " ہونے کا اعزاز مل جاتا ہے ، یا شاید جس کے پاس کرسی اور اقتدار آجائے وہ بڑا ہو جاتا ہے ۔ میں نے تو جو سیکھا اور جو پڑھا اس میں ، قارون کے پاس اتنی دولت تھی جس تک کسی دوسرے کو رسائی نہیں ملی ، اس سے زیادہ بدبخت دنیا میں کوئی دوسرا نہیں ہوا ۔ اقتدار تو فرعون کو بھی ملا ، نمرود کو بھی ، یزید کو بھی ۔ یہ سب کے سب تو ملعون ہوئے اور آج ہر کوئی تحقیر سے یاد کرتا ہے ۔ معلوم یہ ہوا کہ دولت اور اقتدار کسی کو بڑا نہیں بناتے ۔ ہم تو پستی کے اس درجے پہ آگئے ہیں ، ہر کردار باختہ کو بھی " بڑے لوگ " کہنے لگ گئے ہیں ۔ قوم کا خون چوس کر اپنا جاہ و جلال قائم رکھنے والوں کیلئے مناسب ترین نام " لٹیرا " ہے ۔ ہم لٹیروں کو بڑے لوگ کہہ کر اپنی عقل اور فہم کا از خود مذاق بناتے ہیں ۔ اور یہ ایک گھٹیا سوچ ہے کہ ہم انہیں " بڑے لوگ " کہتے ہیں جو انتہائی " نیچ اور کمینے " ہوتے ہیں ۔
بڑا وہ ہوتا ہے جس سے اللہ خوش ہو ۔ جو اللہ کے حکم پر چلے ، جو اسوہ حسنہ سے رہنمائی لیکر زندگی کا تعین کرے ۔ بڑا وہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے کسی کو آزار نہ پہنچے ۔ بڑا وہ ہوتا ہے جو یتیم کے سر پہ ہاتھ رکھے ، جس کے اردگرد کوئی بھوکا نہ سوئے ۔ بڑا وہ ہوتا ہے جو کفر اور ایمان میں تمیز رکھتا ہو ۔ بڑا وہ ہوتا ہے جس سے عجز و انکساری نظر آتی ہو ۔ تکبر اور رعونت تو چھوٹا پن ہے ۔ بڑا وہ ہے جو خود کو چھوٹا سمجھے ۔
آزاد ھاشمی
٢٨ دسمبر ٢٠١٨
Sunday, 30 December 2018
بڑے لوگ
Saturday, 29 December 2018
تجسس
" تجسس "
اکثر تنہائی میں سوچتا ہوں کہ اللہ تعالی نے مجھے اور مجھ سے بے شمار انسانوں کی تخلیق کس لئے کی . میری زندگی کا کیا مقصد تھا . اس دنیا میں ایک عمر گذار لینے کے بعد آخر میں نے کونسا ایسا کام کیا , جس سے انسانیت کو , اللہ کے دین کو اور دنیا کے کو کوئی فائدہ ہوا ہو . عبادت بھی اس خضوع و خشوع سے نہیں کر سکا , جو اللہ کی رضا کے عین مطابق ہوتی . اپنی زندگی کے آخری سفر کا زاد راہ دیکھتا ہوں تو تہی دامن ہوں . ایک امید , ایک یقین کہ رب کی ذات غفور ہے رحیم ہے . بس یہی ایک تشفی ہے جو ڈھارس بندھائے رکھتی ہے . بہت تمنائیں تھیں , اس بچے کیطرح جو پہلی کلاس تو پڑھ نہیں سکا اور ڈگری اعلی تعلیم کی مانگے . اللہ نے جو امتحان ڈالا , پتہ نہیں کہ کامیابی ہوئی بھی کہ نہیں .
عمر کا لمبا سفر , جہاں مہمان کیطرح آیا تھا , ہمیشہ کا سامان باندھنے میں لگا رہا , جہاں لمبا عرصہ قیام کرنا ہے وہاں کیلئے کچھ بھی پلے نہیں باندھا .
تجسس کی کشمکش کہ میری زندگی کا مقصد کیا تھا . اب حساب کرتا ہوں تو ساری ساری رات آنکھوں میں گذر جاتی ہے . حسرت ہوتی ہے ان پر , جن کو اللہ اپنے کسی بڑے مقصد کے ساتھ زندہ رکھتا ہے , جن کو کسی خدمت کیلئے چن لیتا ہے . ان کی قسمت پر رشک کرتا ہوں . تو چند ٹھنڈی سانسوں کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا . نہ جانے منوں مٹی اوڑھنے سے پہلے مجھے اپنی زندگی کا کوئی مقصد سمجھ بھی آئے گا کہ نہیں , نہ جانے مجھ سے کوئی خدمت لی جائے گی کہ نہیں . نہ جانے وہ کیسی دعا ہوتی ہے جو اللہ رد نہیں کرتا . یہ تجسس ایک بے چینی سی بنتا جا رہا ہے .
ازاد ھاشمی
30 دسمبر 2017
Thursday, 27 December 2018
خوفزدہ قوم
" خوفزدہ قوم "
ہم اس امت سے وابستگی کے دعویدار لوگ ہیں ، جس کے اسلاف بھوک ، افلاس اور وسائل کے مکمل انحطاط کے باوجود قیصر و کسریٰ کیلئے خوف کی علامت ہوا کرتے تھے ۔ جو دین کیلئے ہتھیاروں کا فکر کئے بغیر اللہ پر توکل کی طاقت سے کار زار میں اتر جاتے تھے ۔ ہم اس جذبے سے محروم ہوگئے ہیں ، جو فتح کی بنیاد بنتا ہے اور وہ ہے ایمان کا غیر متزلزل جذبہ ۔
آج آزاد خیالی کے لباس میں طاغوت کا جن بوتل سے باہر آگیا ہے ۔ دین سے وابستگی کے دعویدار کونوں میں دبک گئے ہیں ۔ مذہب کے نام پر بھڑکیں مارنے والے خاموش ہو گئے ہیں ۔ جن کی سیاست کا نعرہ ہی دین کی سربلندی تھا ، وہ موضوع سے ہٹ کر مہنگائی وغیرہ کی رٹ لگانے لگ گئے ہیں ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے راستے آزاد خیالی کیطرف موڑے جارہے ہیں ۔ اور ہم گبھرائے ہوئے اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ اللہ کسی مسیحا کو ضرور بھیجے گا جو اس طاغوتی یلغار کا راستہ روکے گا ۔ ہم ان چھوٹے چھوٹے خس و خاشاک کیطرح ہیں جوسیلاب کے پانی کی سطح پر تیرتے ہوئے سیلاب کی مرضی سے بہاو کیطرف بہہ جاتے ہیں ۔ سیلاب کا راستہ روکنے والے پتھر بننے کی جرات نہیں کرتے ۔
آزاد خیالی نے ہماری اقدار ، ہماری ثقافت ، ہماری تہذیب ، ہماری جرات اور ہماری سوچ تک چھین لی ہیں ۔ اب ہم ایک سہمی ہوئی ، ڈری ہوئی ، خوف سے مغلوب قوم ہیں ۔ اس ہزاروں بھیڑوں کے ریوڑ کیطرح ، جن سے درندے اپنی مرضی کی بھیڑ اٹھا لیتے ہیں اور دوسری بھیڑیں شکار ہونے والی کو سہمی نظروں سے دور تک دیکھتی رہتی ہیں ۔
اگر یہی حال رہا تو کیا کبھی ہم سر اٹھا کر چلنے کی امید رکھ سکتے ہیں ؟ شاید کبھی نہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ دسمبر ٢٠١٨
Wednesday, 26 December 2018
شاباش داڑھی والو
" شاباش داڑھی والو"
کہتے ہیں کہ افغانستان میں تئیس ملکوں کا اتحاد رسوائی کی شکست کا شکار ہو گیا ہے ۔ امریکہ بہادر جس کی ایک بھڑک سے بڑی بڑی مسلمان ریاستوں کے حکمران کانپ جاتے ہیں ، افغانستان کے قدامت پرستوں کے سامنے دو زانو ہو گیا ہے ۔ کہتے ہیں ان کے کندھے پہ لٹکی ہوئی بندوق نے ٹینکوں کو زیر کر لیا ہے ۔
اس فتح اور شکست کے پیچھے ، مذہب ہے ۔ جیتنے والے نے اللہ کے سامنے جھکنے والی جبین کو , کفر کے سامنے جھکنے کی بجائے موت کو ترجیح دی ۔ اور ہارنے والا اس لاعلمی میں شکست کھا گیا کہ اللہ کی طاقت سے بے خبر تھا ۔ اور یہ نہیں جانتا تھا کہ جو اللہ کیلئے سر پر کفن باندھ لیتے ہیں ، انکو اللہ کبھی تنہا نہیں چھوڑتا ۔
یہ ایک ایسی مثال ہے ان کیلئے جو اللہ سے دوری اختیار کرنے کو وقت کی ضرورت سمجھنے لگے ہیں ۔ جو خدا کی رضا کی پرواہ کرنے کی بجائے طاغوت کی اطاعت میں لگے ہیں ۔۔۔ مجاہد کے پسینے کی بدبو اور گرد آلود لباس اللہ کی نظر میں زیادہ پسندیدہ ہے ۔ ۔۔۔
مبارک باد کے مستحق ہیں یہ مدرسوں سے پڑھے ہوئے داڑھی والے ، جنہوں نے اعلی تعلیم یافتہ قوموں کا غرور خاک میں ملا دیا ۔ شاباش ہے ان خرقہ پوشوں کو ۔ سلام ہے اس جہالت کو جس نے اللہ کا نام بلند کیا ۔
آزاد ھاشمی
٢٦ دسمبر ٢٠١٨
Tuesday, 25 December 2018
پتھر ہیں پتھر
" پتھر ہیں پتھر "
بھرے بازار میں ایک عمر رسیدہ شخص چھوٹی سی اونچائی پہ کھڑا بول رہا تھا ۔
" ارے ہیرے جواہرات اکٹھا کر کے کیا کرو گے ؟ کہاں لے جاوگے ؟ کبھی غور تو کرو ان میں رکھا کیا ہے ؟ یہ بیکار پتھر ہیں ؟ کسی کام نہیں آتے ؟ ان سے لاکھ درجہ بہتر ہیں وہ پتھر جو تمہارے قدموں لیٹ کے ہموار سڑک بن جاتے ہیں ۔ جن سے تم اپنے گھر بنا لیتے ہو ، جن کو سیلاب کے پانی کا زور توڑنے کیلئے استعمال کر لیتے ہو ۔ تم انسان دیوانے ہوگئے ہو ۔ بیکار چمکتے پتھروں پہ جان دیتے ہو "
دیہاتی رنگ ڈھنگ میں بولنے والا شکل و صورت سے نہ پاگل دکھائی دے رہا تھا اور نہ عالم نظر آ رہا تھا ۔ لوگ اسکی باتیں سن کر اشاروں کی زبان میں اسے پاگل کہہ رہے تھے ۔
" بابا چریا ہو گیا ہے "
" پھرکی گھوم گئی ہے "
اکثریت کی مشترکہ رائے تھی ۔
" ارے دیوانو ، جس سونے کے پیچھے خوار ہو ، اس سے لوہا بہتر ہے ، کم از کم اپنے استعمال میں لاتے ہو ، تمہیں فائدہ دیتا ہے ، تمہاری صنعتیں چلاتا ہے ۔ سونے سے کیا کیا بنا سکتے ہو ؟ "
نیا فلسفہ ، نئی سوچ اور نیا رنگ ۔
" بڑے میاں ! آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ؟ "
ایک نوجوان نے ناگواری سے پوچھا
" یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تم لوگوں کو شیطان نے گمراہ کر دیا ہے ۔ ہیرے جواہرات اور سونا چاندی کے پیچھے لگا دیا ہے ۔ یہ پرانے بادشاہوں کی ہوس پرستی کے شوق تھے ۔ اللہ والوں کو کبھی اس سے رغبت نہیں رہی ۔ یہی کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ والے بن جاو ۔ یہ سب چکا چوند بے معنی ہو جائے گی ۔ اس کے پیچھے بھاگنا چھوڑو گے تو اللہ کیطرف قدم بڑھنے لگیں گے ۔ آخرت کی فکر ہوگی ۔ اپنا بھلا کر لو گے ۔ فلاح کیطرف بڑھنے لگو گے ۔ اسے اپنے دماغوں سے نکال کر تو دیکھو "
بڑے میاں کی بات میں ایک چبھتا ہوا اور اکثریت کیلئے نا قابل قبول سچ تھا ۔ ہم نے اسی دوڑ میں ، اصل سفر کو بھلا دیا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٠ دسمبر ٢٠١٨
اسے منافقت کہتے ہیں
" اسے منافقت کہتے ہیں "
اگر برےارادوں کو اچھے عمل کے پردے میں پروان چڑھانے کا مقصد چھپا ہوا ہو تو اسے منافقت کہتے ہیں ۔ ابھی چند دن پہلے کی بات ہے جب ایک شہزادہ ، بادشاہ بننے کیلئے عوام کے سامنے آیا کرتا تھا تو اپنی تقریر کا آغاز " ایاک نعبد و ایاک نستعین " سے کیا کرتا تھا ۔ جب وہ کہتے نہیں تھکتا تھا کہ ملک سے غربت کا ایسا خاتمہ کرے گا کہ کوئی زکوٰة لینے والا نہیں ملے گا ۔ پاکستان کا نظام مدینہ کی ریاست کے انداز پر چلے گا ۔ قوم کو امید تھی کہ " عزم و استقلال " کا یہ مرد مجاہد ایسا کر گذرے گا ۔ لوگ سوچتے تھے کہ آزاد خیالی میں زندگی گذارنے والا شخص ایسے کیسے بدل جائے گا ۔ مگر مدینہ المنورہ کی گلیوں میں عقیدت کی مثال ننگے پاوں چل کر قائم کر دینے سے یقین آ جانا مسلمان کا ایمانی جذبہ ہے ۔ مدارس کو مالی مدد کے اعلانات ، علماء کی تنخواہوں کا تقرر ، تعلیمی نصاب میں ناظرہ اور با ترجمہ قرآن کی تعلیم کو شامل کرنے کا اعلان وغیرہ وغیرہ کافی ثبوت تھے کہ بادشاہ سلامت کی اسلام سے لگن نہایت پختہ ہے ۔ یہ ابھی چند ماہ پہلے کی باتیں ہیں ۔ بد قسمتی یہ ہے کہ اس ملک میں جو بھی حکمران آتا ہے ، وہ ملک کو باپ کی وراثت سمجھ لیتا ہے اور بادشاہ بن کر بیٹھ جاتا ہے ۔ چند درباری " بھونکنے " پہ لگا دئیے جاتے ہیں ، چند لوٹنے پہ ، قاضی بادشاہ کا میراثی بن جاتا ہے اور ملک کا داروغہ آزاد ہو جاتا ہے ۔ پھر کمزور کی گردن پہ پھندے کسنے شروع ہو جاتے ہیں ۔ محلات کے راستے میں آنے والے غرباء کے گھونسلے یا تو اچانک آگ میں جلتے نظر آتے ہیں یا تجاوزات کہہ کر بلڈوزر گرانے آجاتے ہیں اور پھر انہی پلاٹوں پر نئے پلازے تعمیر ہوتے ہیں ۔ پہلے بھی یہی ہوا ، اب بھی یہی ہو گا ۔
مدینہ کی ریاست کے قیام کی بات کرنے والوں کو شراب پر پابندی پسند نہیں ۔ آزادی خیال میں جس کا دل کرے ناموس رسالت کی تضحیک کر ڈالے ، اور جو اس پر احتجاج کرے اسے پکڑو اور جیل میں ڈال دو ۔ ریاست کے مزاج کے مطابق گیارہ سو سینما ہونے چاہئیں ، اسکی تیاری شروع کرنے کا عندیہ مل گیا ہے ۔ کوئی بھی درباری کسی بھی شہری کے منہ پہ تھپڑ مار دے اور چند لوٹے ہوئے سکے اس خزانے میں جمع کرادے جو خزانہ خود انہی لوگوں کے استعمال آئے گا ۔ بات ختم ۔ قاضی کی مرضی ہے کہ جس کی چاہے سر عام پگڑی اچھال دے ۔ معاہدہ کرو اور مکر جاو کیونکہ آپ بادشاہ ہیں ۔
ارے جناب اسی قول و فعل کے تضاد کو منافقت کہتے ہیں اور منافق پر اعتبار قوموں کو لے ڈوبتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢١ دسمبر ٢٠١٨
Wednesday, 19 December 2018
بیوپاری
" بیوپاری "
تجارت انبیاء کا پیشہ ہے اور ایماندار تاجر کیلئے جنت کی بشارت ہے ۔ یہاں موضوع " تاجر " نہیں ، بلکہ "بیوپاری " ہے ۔ بیوپاری معتبر بھی ہو سکتا ہے اور گھٹیا بھی ۔ اسکا انحصار پیشے اور جنس کے لین دین پر ہے کہ کوئی معتبر ٹھہرتا ہے یا نیچ ۔
سیاست کا لین دین " بیوپار " ہی رہا ہے ، جسے کبھی عوام کی خدمت کہا گیا ، کبھی وطن کی اور کبھی دین کی ۔ یہ وہ بیوپاری ہیں جنہوں نے ہمیشہ گھٹیا بیوپار کیا ، کبھی لوگوں کا اعتماد خریدا اور پھر عوام کی کمر پہ ایسا خنجر گھونپا کہ لوگ دردناک موت مرتے رہے ۔ ان بیوپاریوں نے وطن کے ایک ایک فرد کو بیچ ڈالا اور معتبر ہو کر اقتدار کی کرسی جھولتے رہے ۔ انہوں نے وطن کا ایک حصہ کاٹ کر اپنے اقتدار کی سیج سجائی ۔ ان بیوپاریوں میں وہ بھی شامل ہیں ، جن کے کندھوں پر چاند ستارے سجے ہوئے تھے اور جنہوں نے وطن کے تحفظ کی قسم بھی کھا رکھی تھی اور جن کی چھاتی پر تمغے سجے ہوئے تھے ۔ وہ بھی وطن کے بہادر سپوتوں کو فرض کے نام پہ دوسرے کی آگ میں جھونکتے رہے ۔ کسی کو نہیں پتہ کہ انہوں نے کیا کمایا اور قوم نے کیا گنوایا ۔
اب نئے سیاسی بیوپاری ، اک نئے روپ میں ، ایک نئے بیوپار کے ساتھ کہ ایمان بیچو ، اسکے بدلے خوشحالی ملے گی ۔ ایک نئے اشتہار کے ساتھ کہ ایمان کی بات چھوڑو گے تو کافر امداد دیں گے ۔ کس کے ساتھ سودا ہوا ، کیا سودا ہوا ، کس کو فائدہ ملے گا ، یہ سب ابہام ہے مگر یہ واضع ہے کہ نقصان انکو ہو گا جو کہتے ہیں کہ ملک اسلام کے نام پہ حاصل ہوا ، یہاں قرآن کا قانون لاگو کرو ۔
آزاد ھاشمی
١٦ دسمبر ٢٠١٧
ہیرے اور سونا
" ہیرے اور سونا "
اسکی بوڑھی آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں ۔ ایسے لگ رہا تھا کہ وہ بہت دیر تک رویا ہوگا ۔ لباس سے غربت جھانک رہی تھی اور چہرے سے تھکن کے آثار نمایاں تھے ۔ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا وہ ہر کسی کو بہت غور سے دیکھتا اور لمبی آہ بھر کر مسجد کی چھت کو گھورنے لگتا ۔ ہم جس دور میں رہتے ہیں ، اس دور میں لمبے لمبے سجدے اور پرسوز دعائیں مانگنے والے احساس کی نعمت سے محروم ہو چکے ہیں ۔ جس کندھے کے ساتھ کندھا لگا کے رکوع سجود کرتے ہیں ، سلام پھیرنے پر اسکے چہرے کی اذیت کو نہیں پڑھتے ۔ باجماعت نماز تو فرض ہی اسلئے تھی کہ ہم ساتھ کھڑے کا دکھ اور سکھ جان لیں ، ورنہ سجدہ تو تنہائی میں بھی فضیلت رکھتا ہے اور خضوع و خشوع بھی ۔ نماز کی دعا سے پہلے وہ بوڑھا کھڑا ہو گیا ۔
" مولوی صاحب ! میں مانگنے والا بھکاری نہیں ہوں اور بندوں سے مانگ کر اللہ کی قدرت پر شک نہیں کرنا چاہتا ۔ ریٹائرڈ استاد ہوں ۔ اللہ نے میری جھولی میں تین بیٹیوں کی رحمت ڈال رکھی ہے ۔ تینوں شادی لائق ہیں ۔ تعلیم دے سکتا تھا ، وہ دی ہے ۔ رشتے آتے ہیں " وہ رونے لگا ۔
" سب کے سب میری خستہ حالت دیکھتے ہیں ، چلے جاتے ہیں پھر لوٹ کر نہیں آتے " وہ ہچکیوں سے رو رہا تھا ۔
" مولوی صاحب ! کیا تعلیم زیور نہیں ہے ، کیا کردار سونا نہیں ہوتا ؟ کیا اخلاق ہیروں سے کم ہوتا ہے ؟ سب ہے میری بیٹیوں کے پاس ۔ میں سکول ماسٹر کہاں سے لاوں جہیز ؟ کہاں سے لاوں "
وہ روتے ہوئے بیٹھ گیا ۔
" خدا کے واسطے لوگوں کو بتایا کرو ، جس نبیؐ کا کلمہ پڑھتے ہو اس نے اپنی بیٹی کو کیا دیا تھا ۔ بتایا کرو لوگوں کو ۔ مجھے صالح رشتے چاہئیں ، کوئی مالی مدد نہیں مانگتا ہوں "
کون جانے اللہ کب سن لے ۔
" بھائی ! دل چھوٹا مت کرو ۔ جس گھر میں سوال لے کر آئے ہو ، اگر پسند کرو تو اس گھر والا چاہتا ہے کہ میں تمہاری بیٹیوں کو اپنی بیٹیاں بنا کر اپنے گھر لے جاوں ۔ میرے تین بیٹے ہیں اور الحمدللہ ، صاحب روزگار ہیں "
بوڑھے استاد نے ہاتھاٹھائے ۔
" اے اللہ ! مجھے معاف کر دینا ، میرا صبر ٹوٹ گیا تھا ۔ تو نے میری سن لی "
اور اٹھ اس اللہ کے بندے کے بغلگیر ہوگیا
آزاد ھاشمی
١٨ دسمبر ٢٠١٨
Saturday, 15 December 2018
شراب اور شرابی
" شراب اور شرابی "
شنید ہے کہ ایک ہندو نے اسمبلی میں بل پیش کر دیا کہ شراب پینا ، ہر مذہب میں حرام ہے ۔ پاکستان میں دئیے گئے لایسنس منسوخ کر دئیے جائیں ۔
یوں لگتا ہے کہ یہ بھولا بھالا ہندو ، شرابیوں کے مزاج سے اگاہ ہی نہیں ۔ اور یہ بھی نہیں جانتا کہ اسمبلی میں بیٹھے پارساوں کی شراب کے بغیر صبح نہیں ہوتی ۔ یہ شراب اور شباب ہی تو ہے جو اسمبلی کے اکثر ممبران کا شوق ہے ۔ اسی پر تو انکی بہادری قائم ہے ۔ شراب نہیں پئیں گے تو رات کو اپنے کرتوت یاد کر کے سو نہیں سکیں گے ۔ بھڑکیں مارنے کیلئے تو جرات کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ جرات صرف شراب میں ہے ۔ اسلام میں تو بہت کچھ حرام ہے ، اگر شراب چھوٹ گئی تو وہ سارے حرام بھی چھوڑنے پڑیں گے ۔ مسلمانوں کو ایک غیر مسلم بتا رہا ہے کہ تمہارا رب اور تمہارا رسولؐ تمہیں اس " ام الخبائث " سے روکتا ہے ۔ اپنے وطن کو اس الائش سے پاک کرو ۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ اسلام کا دعوی کرنے والوں نے اللہ کی حرام کی ہوئی چیز کو حرام اور ممنوع قرار دینے کا بل اٹھا کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ۔ شرابیوں نے شراب کی لاج رکھ لی ۔ اللہ کے قانون کا لحاظ رکھے بغیر ،شراب کی عزت خراب نہیں کی ۔ کیا ایسے لوگوں کی دعائیں کبھی سنی جائیں گی ؟ کیا ان خبیثوں سے کوئی محاسبہ ہو گا ؟ کیا درباری ملا ، حکمرانوں کے کان میں ادب و احترام سے پھونک ماریں گے کہ صاحب شراب اسلام میں قطعی حرام ہے ۔ ہندو سچ کہہ رہا ہے ۔ یا حکمرانوں کو چسکیاں لیتے ہوئے دیکھتے رہیں گے ۔
آزاد ھاشمی
١٢ دسمبر ٢٠١٨
یہود کا فیس بک ، یہود کی پیپسی
" یہود کا فیس بک ، یہود کی پیپسی "
اگر کسی معاملے پر اسلام کا کوئی موقف دہرایا جاتا ہے تو چبا چبا کر انگریزی بولنے والے دانشور ایک مشورہ دیتے ہیں
" اگر آپ کو اسلام سے اتنا ہی پیار اور کفر سے اتنی ہی نفرت ہے تو پھر انگریز اور کفر کی ایجادات استعمال کرنا چھوڑ دیں ۔ جب آپ کی بات میں وزن ہو گا وگرنہ آپ منافق ہیں "
یہ ہے دلیل کہ اپنی زبانیں بند کر لی جائیں اور اسلام کے ساتھ ہونے والے کھلواڑ کا تماشا کیا جائے ۔ ان دانشوروں میں اکثر " ممی ڈیڈی " والے برگر ہوتے ہیں ، یا وہ جن کو انگریزوں کے در پہ نوکریاں ملی ہوئی ہیں ۔
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کا یہ رویہ کہ وہ کفار کی ایجادات کے بغیر ادھورے ہو جاتے ہیں ، تشویشناک ضرور ہے ۔ فکر کی بات ہے کہ ہم نے اسلام کو شلوار کے پائنچے ، نماز میں ہاتھ باندھنے کے طریقے اور کہانی قصوں تک محدود کر دیا ہے ۔ اسلام کو سمجھنا چاہئے تھا کہ اصل پیغام کیا ہے ۔ جس میں ہم مسلسل کوتاہی کرتے آئے ہیں اور کرتے جا رہے ہیں ۔ مگر اسکا یہ قطعی مطلب نہیں کہ اگر ہم یہود و نصاریٰ کی ایجادات استعمال کرنے کے بعد ان پر تنقید یا اپنی مدافعت کا حق کھو بیٹھے ہیں ۔ یہ تجارت ہے اور ہم انکی اشیاء کی قیمت ادا کرتے ہیں ۔ دشمن کی ترکیب کو ناکام کرنے کیلئے اسکے ہتھیار اسی کے خلاف استعمال کرنا بھی حکمت عملی ہے ۔ اچھا تو یہی تھا کہ ہم اپنے ہتھیار خود تیار کرتے۔ فیس بک ایک سماجی ہتھیار ہے جس سے ذہن تبدیل کئے جا رہے ہیں ، اس سے بے خبری ہمارے مفاد سے ٹکراو ہے ۔ اسی ہتھیار کو مدافعت کیلئے استعمال کرنا حماقت بھی نہیں اور کمزوری بھی نہیں بلکہ دانشمندی ہے ۔
ہونا یہ چاہئے کہ مسلمانوں کو اس طرف مائل کیا جائے کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی حاصل کریں ، نہ کہ یہ کہا جائے کہ اسلام کی رٹ لگانا بند کرو اور کفر کے لباس پہنتے ہو تو کفر کا عقیدہ ، عادات و اطوار بھی اختیار کر لو ۔ طاغوت کو موقع دو کہ وہ تمہاری گردن دبوچ لے ۔
آزاد ھاشمی
١٢ دسمبر ٢٠١٨
گناہ میں شراکت داری
" گناہ میں شراکت داری "
قانون ساز اسمبلی میں ایک بل پیش ہوتا ہے ، بل پیش کرنے والا ہندو ہے جو بہت سارے خداوں کو اپنا معبود مانتے ہیں ۔ وہ اقرار کرتا ہے کہ " شراب " ایک برائی ہے اور اس برائی سے اللہ بھی روکتا ہے ، رسول اللہ بھی ، قرآن بھی ۔ بائبل بھی ، گیتا بھی اور سکھوں کی گرنتھ بھی ۔ مگر اسمبلی والوں سے رائے لی جاتی ہے کہ اللہ کے قانون کو لاگو کرتے ہوئے ، اس پر پابندی لگائی جائے ۔ اسمبلی میں اللہ کے ماننے والے ، رسولؐ کی رسالت کی گواہی دینے والے ، جن کے کانوں نے پہلی آواز " اللہ اکبر " سنی تھی ۔ اللہ کے حکم کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اصل قانون " انسانوں کی اکثریت " کا ہے ۔ پس ہم انکار کرتے ہیں کہ شراب پر پابندی نہیں لگائیں گے ۔ اور یہ مان لیا جاتا ہے ۔
دیکھنا یہ ہے کہ اسمبلی میں بیٹھے لوگ ، یہاں اس اختیار کے ساتھ کس نے بٹھا رکھے ہیں ۔ ان کی طاقت کے پیچھے کونسا ہاتھ ہے کہ یہ اللہ کے حکم کو " رد " بھی کرتے ہیں اور معتبر بھی ٹھہرتے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کفر میں شراکت دار کون کون ہے ؟
میری رائے میں وہ تمام جو ان کو ووٹ دیکر یہاں لائے ہیں ، اس انکار کے مجرم ہیں ۔ میرے خیال میں وہ قانون مجرم ہے جو انکو اسلام کے منافی قانون بنانے کا اختیار دیتا ہے ۔ میری رائے میں ہر وہ شخص مجرم ہے جو اس فیصلے کی اعانت کرتا ہے ، وہ بھی اس گناہ میں شریک ہے جو خاموش رہتا ہے ۔
اگر ایسے معاشرے کو زوال آ جاتا ہے ، تو اس میں تعجب نہیں ہونا چاہئے ، کیونکہ جس نے بھی اللہ کے قانون سے ٹکر لی ہے وہ معتوب ہوا ہے ، اسے دنیا میں نشان عبرت بنایا گیا ہے ۔
اپنا اپنا احتساب کیا جانا چاہئے کہ ہم اس جرم میں شریک ہیں یا نہیں ؟ دیکھنا ہو گا کہ اگر میرا نمائندہ اس جرم میں شامل ہے تو میں بھی شریک ہوں ، کیونکہ میں بھی اسکی طاقت کا ایک حصہ ہوں ۔
آزاد ھاشمی
١٣ دسمبر ٢٠١٨
اکثریت کیا چاہتی ہے؟
" اکثریت کیا چاہتی ہے ؟ "
جمہوریت ، اکثریت کا نام ہے ، جو اکثریت چاہے گی ، وہی قانون ہے ، وہی روایت ہے اور وہی اصول ہے ۔ اگر ہم اکثریت ہی کے فیصلوں کو ماننے لگیں تو اکثریت ووٹ ہی نہیں دیتی ۔ ایک تہائی کے لگ بھگ ووٹ ڈالے جاتے ہیں اور دو تہائی ووٹ سے کوئی دلچسپی ہی نہیں رکھتے ۔ اکثریت کی رائے ہی کو مان لیا جائے تو ووٹ کا کھیل ناکام ہے ۔
جب سے انسان کا وجود ہے ، تب سے اکثریت باطل کی رہی ، اقتدار اور طاقت بھی اکثریت کے ہاتھ میں رہی ، حق ہمیشہ اقلیت میں رہا اور ہمیشہ دباو کا شکار رہا ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی اصلاح کیلئے انبیاء کا طویل سلسلہ جاری رکھا ۔ مگر کبھی نہیں ہوا کہ اکثریت انبیاء کیطرف آن کھڑی ہوئی ہو ۔ حضرت نوحؑ سینکڑوں سال حق کیطرف بلاتے رہے ، انجام کہ چند لوگ کشتی میں سوار ہوئے اور باقی سب غرق ہوگئے ۔ یہی چند کشتی والے بھی طوفان تھمنے تک ساتھ رہے ۔ حضرت عیسیٰؑ کے ساتھ کل بارہ ساتھی اور وہ بھی حکمرانوں کے خوف سے خاموش کونوں میں دبک گئے ۔ اللہ کے آخری نبیؐ کے ساتھ بھی اقلیت اور ان میں بھی زیادہ تر کسمپرسی کی حالت میں ۔ کہ کبھی آپؐ کو شعب ابی طالب میں پناہ لینا پڑی ، کبھی طائف پہ پتھر کھانے کی نوبت آئی ، حتی کہ اپنا ابائی گھر بار چھوڑنا پڑا ۔ حضرت حسینؑ کے ساتھ لگ بھگ سو لوگ اور یزید کے ساتھ ایک ان گنت افراد کا لشکر ، جانتے ہوئے بھی کہ نواسہ رسولؐ حق پہ ہیں ، عوام کی رائے یزید کے ساتھ ہوگئی بھلے وہ خوف سے تھی ، مصلحت کے تحت تھی یا سیاست کے تحت یزید نے حاصل کی ۔ گویا اکثریت ہمیشہ طاغوت کے ہاتھ میں رہی ۔ اور حق ہمیشہ امتحان میں ۔
اسوقت بھی اکثریت آزاد خیالی کے ساتھ کھڑی ہے اور اقلیت اللہ کے نظام پر تھوڑا بہت واویلا کرتی رہتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز فتح حق ہی کو نصیب ہوگی ۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ " ایک روز " کب آئے گا ۔ اگر جہد مسلسل کی بجائے معجزوں کی تلاش جاری رکھی تو شاید وہ " ایک روز " ہم بھی نہ دیکھ سکیں اور ہماری نسلوں کو بھی نصیب نہ ہو ۔
اگر جمہوریت یعنی اکثریت کی رائے کا نظام قبول کئے رکھا تو وہ دن بھی شاید زیادہ دور نہیں ، جب دین کے ہر فیصلے اکثریت رائے سے ہوا کریں گے ، آج شراب کو قبول کیا ، کل زنا پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا ، پرسوں اگر قاتل طاقتور ہے تو اسے قتل کی اجازت بھی مل جائے گی ۔ گناہ اسوقت تک گناہ ہے جب تک اللہ کا قانون لاگو ہے ، جب اکثریت کے فیصلے پر سر جھکانے کی عادت پکی ہوگئی تو گناہ ، گناہ نہیں ثواب بن جائے گا ۔ ناچ گانا ثقافت ہو جائے گا اور نماز روزہ پرانے وقتوں کی مجبوری کہلائے گا ۔
کیا ہم اس کا انتظار کرتے رہیں گے؟ یا اسے روکنے کا تردد بھی کریں گے ؟
آزاد ھاشمی
١٤ دسمبر ٢٠١٨