Monday, 28 May 2018

جہالت کیا ہوتی ہے

" جہالت کیا ہوتی ہے ؟ "
نہ بہت ساری کتابیں پڑھ لینا علمیت اور دانائی ہوتی ہے ۔  نہ بہت ساری ڈگریوں سے محرومی جہالت ۔ شعور کی آنکھ کا بند ہونا جہالت ہے ۔ روشنی اور اندھیرے کا فرق نہ کر سکنا ، جہالت ہے ۔ ہدایت اور گمراہی میں تمیز نہ ہونا بھی جہالت ہے ۔ اخلاق باختگی بھی جہالت ہی کی ایک شکل ہے ۔  ابو جہل ، مکہ کا دانا ، فیصلے کرنے والا سردار اور قریش کا ایک معتبر نام تھا ۔ پھر اسکو جہالت کا باپ کیوں کہا گیا ۔ صرف اسلئے کہ وہ اسلام کی سچائی ،
رسول خدا کی صداقت اور امانت ،بتوں کی حقیقت سے پوری طرح اگاہ تھا ۔  ضد تھی کہ وہ اپنے باپ دادا کی گمراہی کو کیسے چھوڑے ۔ یہ اسکے عزت نفس کا زوال تھا ۔ عزت نفس کو بچاتے بچاتے گمراہی کے کنویں میں گر جانا جہالت کا عروج ہے ۔  آج ہم مسلمان کہاں کھڑے ہیں ؟
ہم مانتے ہیں کہ قرآن رشد وہدایت  اور بنی نوع انسان کی بہترین رہنماء کتاب ہے ۔  مانتے ہیں کہ اللہ کا کلام ہے اور اسکا ایک ایک حرف ہدایت ہے ۔ مانتے ہیں کہ اسلام دنیا کا مہذب ترین نظام  ہے ۔  مانتے ہیں کہ قرآن کا ایک ایک لفظ سچ ہے اور ہر عیب سے پاک ہے ۔
مانتے ہیں کہ ارض  و سما کا ہر علم اسکے احاطہ میں ہیں ۔ مانتے ہیں کہ یہ فلاح کا راستہ ہے ۔  اس سب کچھ کے بعد اس کے نظام سے پہلو تہی کرتے ہیں ۔ کیا یہ جہالت نہیں ؟ کیا یہ ابوجہل والی سوچ نہیں ۔ اللہ رحیم و کریم نے ہمیں سیدھی راہ کیطرف بلایا ، منزل پر پہنچنے کا آسان اور کم طوالت والا راستہ سیدھا راستہ ہوتا ہے ۔ ہم ٹیڑھا راستہ اختیار کرنے کی ضد اپنا رکھی ہے ۔ 
آج اس ٹیڑھے راستے نے ، جسے جمہوریت اور انگریز کا وضع کردہ قانون کہتے ہیں ،  ہمیں کہاں پہنچا دیا ہے ۔
آج کیفیت یہ ہے کہ عدل و انصاف نام کی کوئی چیز باقی نہیں - ہم جنگل کے درندوں جیسی حالت میں ہیں - جس کا زور ہے اس کا قانون ہے - جو کمزور ہے اسے جینے کا حق صرف اس صورت میں حاصل ہے کہ وہ جنگل کے ہر درندے کی مرضی سے جی سکتا ہے - کیا ہم جہالت کی دلدل میں نہیں پھنس چکے ۔ فکر کی ضرورت ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٨ مئی ٢٠١٨

1 comment: