" تیرا گھر آباد رہے "
باپ کی آنکھوں کا سمندر بیٹے کو دکھائی نہیں دے رہا تھا . بیٹا مسلسل اپنے نئے گھر کی تفصیل میں گم تھا.
" ابا یہ کمرہ ہمارا ہے , سارا سامان اٹلی سے منگوایا ہے . یہ دو کمرے بچوں کے , یہ مہمانوں کے لئے , یہ سرونٹ کوارٹر اور ...."
اسکی
بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ ڈاکٹر صاحب آگئے . چیک کیا اور ایک لمبی لسٹ
ادویات کی تھما دی . اس نے لسٹ کو تکئے کے نیچے رکھا اور التجا بھری نظروں
سے بیٹے کیطرف دیکھا . نئے گھر کی کہانی ختم تھی . زمانے کی ستم ظریفی ,
اخراجات کا بوجھ , بچوں کی تعلیم اور مہنگائی کا رونا شروع ہو گیا .
"
ابا ! آپ کا وقت ٹھیک تھا , تھوڑی سی تنخواہ میں گذر اوقات ہو جاتی تھی .
ہم پڑھ بھی رہے تھے اور آپ ہمیشہ خوش نظر آتے تھے . مگر ہم لوگ تو عذاب میں
ہیں . ابھی میں گھر سے نکلا تو مشکل سے گاڑی کے پٹرول کے پیسے تھے . "
باپ کا ضبط برقرار تھا , مگر ماں کی برداشت حد سے تجاوز کر گئی .
"
تو کیا سمجھتا ہے , ہم تم سے ادویات کے پیسے مانگیں گے . تیرے آگے ہاتھ
پھیلائیں گے . تجھے تیرا گھر مبارک . باپ ایک روز مر جائے گا . دفن کرنے
آجانا "
وہ چیخ چیخ کر رو رہی تھی .
" ماں ! یہ ہسپتال ہے لوگ دیکھ رہے ہیں "
بیٹے نے بنچ سے اٹھتے ہوئے کہا
"
یہ لوگ تو روز دیکھتے ہیں , جب ڈاکٹر پوچھتا ہے کہ آج پھر دوائی نہیں لی .
اور روز یہ ساتھ والا مریض دوائی منگوا دیتا ہے . تم کیسی اولاد ہو . باپ
مر رہا ہے تم گھر بنا رہے ہو . حال پوچھنے سے پہلے اپنے گھر کا ذکر سنانے
لگتے ہو . جاو اللہ تمہارا بھلا کرے . اب مت آنا , جس دن یہ مر جائے گا
اطلاع کر دونگی "
ماں نے منہ دوسری طرف کرتے ہوئے آنسو پونچھے اور بیٹا کمرے سے باہر نکل گیا . باپ کے رکے ہوئے آنسووں کا سیلاب بہہ نکلا .
" اے اللہ تو گواہ ہے ,میں نے تو رزق حلال کھلایا تھا ان کو . اچھی تربیت کی تھی . پھر ایسا کیوں "
باپ کا ضبط ٹوٹا اور سانس اکھڑ گیا .
ازاد ھاشمی
No comments:
Post a Comment