ہمیں اسلام جیسے نظام زندگی کو چھوڑ کر دوسرے نظام زندگی کیوں اپنانے پڑے - اگر یہ ایک سوال سمجھ آ جاے , تو بہت سارے
مسائل
کا حل خود بخود سمجھ آ جاے گا - یہ سمجھنا قطعی مشکل نہیں ہو گا , کہ
اسلام سے دور رکھنے کی سازش کے اصل محرک کون لوگ ہیں - اور انہوں نے ایسا
کیوں کیا -
ہم سب نے اپنی آنکھوں پر فرقہ پرستی کی پٹی باندھ رکھی ہے - اور مذہبی لیڈر اس سے بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں -
اس
وقت دہشت گردی میں جتنی بھی تنظیموں کا نام لیا جاتا ہے , ابتدائی طور پر
سب کی سب مذہبی مدارس سے منسلک رہی ہیں , جنھیں نہ تو قران پاک کی تعلیمات
دی گئیں اور نہ اسوہ حسنہ کا درس ملا - سب کو جہاد کے رستے سے جنت میں
پہنچنے کا درس دیا - اور جہاد کے مفھوم کو سرا سر تبدیل کر دیا - خود کشی
کے ذریعے سے اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کو قتل کرنا - نہ تو قران کا سبق ہے
نہ اسوہ حسنہ کا طریقه -
پھر ان ملاؤں سے پوچھنے
والا کوئی نہیں , کہ تم ان مدرسوں میں نہ قران کی تعلیم دے رہے اور نہ الله
کے حبیب کی سنت سکھا رہے ہو تو یہ کونسا مذھب ہے , جس کو تم لوگوں نے
اسلام کا نام دے رکھا ہے -
یہ اسلام کی تعلیمات سے
نا واقف نوجوان کونسا جہاد کر رہے ہیں - اب انہی احمقانہ ڈگر پہ وہ لوگ بھی
شامل ہو گئے ہیں , جن کا مشن ہی اسلام کو دہشت کا مذھب قرار دینا ہے -
اسلام کا پیغام امن اور محبت ذہنوں سے نکالنا ان لوگوں کا خصوصی ٹارگٹ ہے -
اگر دیانت داری سے دیکھا جاے تو یہ لوگ کافی حد تک کامیابی پا چکے ہیں -
ہر
مسلمان کے ماتھے پہ بربریت کا نام لکھ دیا گیا ہے - جہاد جیسا مقدس فریضہ
اپنی اصل شناخت کھو چکا ہے - اگر کوئی مکتبہ فکر یہ کہے کہ اب جہاد بالسیف
کی نہیں جہاد بالقلم , جہاد بالنفس کی ضرورت ہے , تو اسے کفر کے فتوے مل
جاتے ہیں -
ہمیں حقائق کو سمجھنا ہو گا -
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment