Wednesday, 14 June 2017

مظلوم شوہروں کا عالمی دن

مظلوم شوہروں کا عالمی دن "
کچھ سالوں سے مسلسل عالمی دن منانے کا رحجان بڑھتا جا رہا ہے ۔ جب ان عالمی دنوں کو ترتیب وار دیکھتا ہوں ، تو زیادہ دنوں کا تعلق صنف نازک سے ہے ۔ صنف ظالم یعنی ابن آدم سے شاید ہی کوئی ایک دن ہو ۔ ہر طرف حوا کی بیٹی ہی نظر آتی ہے ۔ یہاں بھی آدم کے بیٹے مات کھا گئے ۔
میری سمجھ نہیں آتا کہ آخر مردوں کو دن منانے سے کیوں ڈر لگتا ہے ۔ سال میں ایک دن بھی مردوں کے لئے نہیں ۔ حالانکہ مظلوم شوہروں کو بھی حق ہے کہ وہ ایک دن تو آزادی سے بینر اٹھا کر سڑکوں پہ نکل سکیں ۔
باہم مل بیٹھ کے اپنی اپنی داستانیں کہیں ۔ آزادی کے چند گھنٹے منا کر تاریخ کا رخ موڑ دیں ۔
حقوق تو ہر زندہ انسان کے ہوتے ہیں ، عورتیں جب دل کرتا ہے دھڑلے سے حقوق مانگنے نکل پڑتی ہیں ، مگر ہر مرد اسوقت تک بہادر ہوتا ہے ، جب تک شادی کے شکنجے سے آزاد ہوتا ہے ۔ ادھر شادی ہوئی ، ادھر سب بہادری ختم ۔ شاید اسی وجہ سے کہ ہر شوہر کو پتہ ہے کہ شام کو تو گھر جانا ہی ہے ۔ پھر ایک دن کا جشن منا کے سارے سال کی مصیبت لینے کی بیوفوفی کیوں کی جائے ۔
پھر بھی ایک بار ہمت تو کر کے دیکھنی چاہئے ۔ مظلوم شوہروں کا دن نہیں تو آدھا دن ہی منا لیں ۔
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment