Monday, 12 June 2017

نماز ، اللہ سے رابطہ

" نماز ، اللہ سے رابطہ "
ہم اللہ کی کون کونسی نعمت کا شمار کریں ۔ اللہ چاہتا ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ اسکے قریب رہیں ۔ زیادہ سے زیادہ اسکے ذکر میں محو رہیں ۔ حالانکہ اسکی بے نیاز ذات کو ہماری نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ احتیاج ۔ ہماری عبادات نہ اسکی شان کو بڑھا سکتی ہیں اور نہ ہماری سرکشی اسکی شان میں کمی لا سکتی ہے ۔
وہ چاہتا ہے کہ اسکا  بندہ ، اور نہیں تو کم از کم پانچ بار پورے اہتمام سے اسکی  طرف رجوع کرے ۔ اس  سےاقرار کرے کہ "میں تیری ذات کے بغیر کسی کی عبادت نہیں کرتا , تیرے سوا کسی کی مدد نہیں مانگتا ، تو ہی رحمان ہے تو ہی رحیم ہے ، سارے جہانوں کے نظام کو چلانے والا تو ہی ہے ۔"
اللہ چاہتا ہے کہ بندہ اس سے مدد مانگے اور کہے
" اے اللہ میں تیری سیدھی راہ پر چلنا چاہتا ہوں ، ان لوگوں کی پیروی کرنا چاہتا ہوں ، جن پر تو نے اپنی رحمتیں عطا کیں ، جن کو تو نے اپنے انعامات سے سرفراز فرمایا ۔ اے اللہ ان لوگوں سے اور ان لوگوں کے رستے سے بچنا چاہتا ہوں ، جو سرکشی ، تیری حکم عدولی ، اپنے تکبر اور رعونت کے باعث گمراہی کے گڑھے میں گر گئے ۔ جو تیری رحمت کی بجائے تیرے غضب کا شکار ہو گئے "
اللہ چاہتا ہے کہ اسکا  بندہ دن میں بار بار اسکے  پاس آئے ، اس  سے مانگے اور وہ  اسے عطا کرے  ۔ اللہ چاہتا ہے کہ بندہ پوری عاجزی ، پورے انہماک اور پورے اہتمام سے اس سے مانگنے آئے ۔ اس یقین سے آئے کہ میں لینے جا رہا ہوں ، اس بھروسے سے آئے کہ میں لیکر جاوں گا ۔
جو رب بندے کو خود بلارہا ہے ،  کیا بندہ کچھ مانگے گا تو وہ نہیں دے گا ۔  وہ تو بلاتا ہی اسلئے ہے کہ بندہ اس سے مانگے ۔ مگر ہم نہ تو اسکے پاس انہماک سے جاتے ہیں ، نہ یقین سے مانگتے ہیں ۔ ہم نے تو نماز کو ایک مسلط کیا ہوا فرض بنا دیا ہے ۔ جسے نہ کیا تو سالوں کی سزا مقدر ہے ۔
اللہ کی رضا تو اپنے بندے کی حاجات سننا تھیں ، اسکی زبانی ، اسکے یقین کو دیکھنا تھا ، رب کی ذات پہ بھروسے کو دیکھنا تھا ۔ انسان میں بندگی دیکھنی تھی ۔  ہم تو فرض نبھانے لگے ، جیسے تیسے نبھایا جائے ۔ نماز تو  اللہ سے پانچ بار بلاواسطہ رابطہ ہے ۔ کہو ، جو کہنا ہے ، مانگو جو تمنا ہے ۔ خزانوں کا مالک خزانے کھولے بیٹھا ہے ۔
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment