Sunday, 11 June 2017

یہ غوغا کیوں

" یہ غوغا کیوں "
شور ہے کہ بھارت نے چال چلی اور ایک جاسوس کا کیس عالمی عدالت میں لے گیا ۔ شور ہے کہ عالمی عدالت نے انصاف نہیں کیا ۔
بات یہ نہیں کہ بھارت مکار ہے ، اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم احمق ہیں ۔ 
بھارت نے سعودیہ میں اپنے قدم جمانے کا ارادہ کیا اور قدم جما رہا ہے ۔  یو اے ای ، میں مندر بنانا چاہے بنا لئے ۔ ایران کو اپنی لائن پر لگانا چاہا ، لگا لیا ۔ اپنا ڈنڈا افغانستان کے ہاتھ میں دے دیا کہ ہمیں مارتے رہو ، وہ مار رہے ہیں ۔ یعنی گائے کے پجاریوں نے ایک اللہ کے ماننے والوں میں کامیابی سے نفاق کا بیج بو دیا ۔ پودا اگ آیا ہے ، جلد درخت بن جائے گا ۔
کفر اور شرک کا اتحاد تو رہے گا ، یہ ہمارے رب کا وعدہ ہے ۔ یہ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے ، یہ رب کا فیصلہ ہے ۔ میدان کوئی بھی ہو ، جہاں بھی کفر ہو گا ، فیصلہ کفر کے حق میں  جائے گا ۔
ہم نے اللہ کو چھوڑ دیا ، اللہ نے ہمیں چھوڑ دیا ۔ معاملہ صاف ہے ۔ ہماری  کوتاہیاں ارادوں کی کمزوریاں ہیں ، ایمان کی کمزوریاں ہیں ۔ اور ایسی قوموں کے پاس خفت اور رسوائی رہ جاتی ہے ۔ جن کس ایمان  بھی کمزور ہو اور ارادے بھی ۔
وہ لوگ ، جو وطن سے باہر ہیں ، اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے سفیر ، مطلق العنان بادشاہوں سے کم نہیں ہوتے ۔ اپنے دفتروں میں بیٹھ کر کاروائیوں  سے زیادہ کچھ نہیں کرتے ۔ ہم پردیس میں بیٹھنے والے کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی نہیں کرتے ۔ جبکہ ہر بھارتی ، ہر وہ کام کرتا جس سے انکا وطن فائدہ اٹھا سکے ۔ ہمارا وکیل فیس لیتا ہے اور جی بھر کے لیتا ، اسے وطن سے کوئی سروکار نہیں ، اسے دھرتی ماں کی آغوش کی عصمت کا کوئی لحاظ نہیں ، بھارت کا وکیل اپنے وطن کی ساکھ کے لئے لڑتا ، اپنا فرض سمجھ کر اور وہ جیت جاتا ہے ۔
کیا اس جذبے کے لوگ ہار سکتے ہیں ، کبھی نہیں ۔
ہم ہر میدان میں شکست کھانے کے عادی ہو گئے ہیں ، اب نہ غیرت جاگتی ہے اور نہ شرم آتی ہے ۔ ہمارا مزاج بن گیا ہے ۔
سوشل میڈیا کا شور و غوغا ، چند ذہنوں میں جاگتی حریت ہے ، جسے لبرل سلانے کی کوشش میں ہیں ۔

No comments:

Post a Comment