Wednesday, 14 June 2017

ایمان

ہمارے ایمان کے لئے لازم ہے کہ ہم الله کی قدرت پر یقین رکھیں , اور اسے بغیر کسی سوال کے مان لیں کہ الله ہر چیز پر قادر ہے -
یہ بھی ایمان ہے کہ الله اپنے ہر وعدے کو پورا فرماتا ہے -
یہ بھی ایمان ہے جب بھی خلوص دل سے کوئی سوال کیا جاے , تو اسکی رحمت اپنے بندے کو مایوس نہیں کرتی  -
یہ بھی ایمان ہے کہ ہم الله کے حبیب کی امت ہیں اور الله نے  اپنی توحید کا علم بلند کرنے کا فرض ہمیں سونپ رکھا ہے -
یہ بھی ایمان ہے کہ الله ہمیں مشرکوں , کافروں , ملحدوں کے سامنے رسوا نہیں کرے گا اور ہر میدان کار زار میں ہماری نصرت کرے گا -
اب صرف ایک بات سمجھ آتی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان , جہاں جہاں ہیں , انفرادی اور اجتماعی طور الله سے نصرت مانگ رہے ہیں , کعبه میں گڑگڑا کر مدد مانگتے ہیں , مساجد میں الله کو پکارتے ہیں , مسجد نبوی  میں جھولیاں پھیلاے بیٹھے ہیں - ہر قدر کے دن اور رات کو اپنی بپتا سناتے ہیں - کوئی شنوائی نظر نہیں آتی - کوئی امید پوری نہیں ہوتی - کفر , مشرک  اور ملحد اپنے پاؤں مسلمانوں کی گردنوں پر سے ہٹانے کو تیار ہی نہیں - اپنے زور اور طاقت سے اپنے طور طریقے , نظام اور مذھب مسلمانوں پر لمحہ بہ لمحہ ٹھونس رہے ہیں -
ایسا کیوں ہے , جس امت سے قیصر و کسری لرزاں تھے , وہ امت اتنی بے بس ہے  کہ چند کروڑ یہودی انکے لئے خوف کی علامت بنے بیٹھے ہیں -
اس ساری الجھن کی ایک ہی وجہ سمجھ آتی ہے کہ ہم نے اپنا نام مسلمان رکھ لیا ہے - اسلام اور ایمان کو اپنے کردار اور عمل سے الگ کر لیا ہے - جب ہم عمل میں مسلمان ہی نہیں رہے تو پھر الله کا عہد کیسے ہمارا حق ہو گا - ہمیں الله کی تاید کیسے حاصل ہو گی , جب ہم نے نہ اسکے احکامات کو مانا اور نہ وہ عمل کیے جو ہمارے فرائض تھے - ہم نے اسکی رضا چھوڑ کر ناراضگی لے لی - الله کی تائد اسی صورت ممکن ہے کہ ہم عملی طور پر اس راستے پر چلیں , جس کا حکم ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment