Wednesday, 14 June 2017

معصوم کے ہاتھ

معصوم کے ہاتھ "
خبر ہے کہ کسی متکبر چودہرانی نے اپنے کم عمر نوکر کے دونوں ھاتھ ٹوکے سے کاٹ ڈالے . اور اسے زندگی بھر کے لئے معذور کر دیا .
بے حس پولیس اہلکاروں سے سوال کرنا , بے سود ہے کیونکہ یہ تو امراء کے کاسہ لیس ہیں . ان چوہدری , وڈیروں اور سرداروں کی بھیک سے انکی شان بنی رہتی ہے . عدل کی کرسی پہ بیٹھے قاضیوں کا ضمیر تو کرسی پہ بیٹھتے ہی سو جاتا ہے . ان سے بھی امید رکھنا حماقت ہے . اس علاقے کے ایم پی اے , ایم این اے , کونسلر اور سیاسی لوگوں سے بھی کیا توقع کی جا سکتی ہے کیونکہ وہ چوہدری سے محاذ آرائی کر کے وہ اپنے ووٹ کیوں ضائع کریں گے .
مگر ان لوگوں سے پوچھنا بنتا ہے , جو اسی گاوں , اسی علاقے میں رہتے ہیں کہ اگر یہ بے لگام چوہدرانی کل تمہارے بچوں کے ہاتھ کاٹ دے تو تم کیا کرو گے . کیا اس ظلم کی روایت کو زندہ رکھ کے تم خود محفوظ رہ سکو گے . کیا تم سب بھی قانون نافذ کرنے والوں کیطرح بے حس ہو . تم سب کیا سمجھتے ہو کہ تمہاری خاموشی پر اللہ خوش ہو گا . کیا سمجھتے ہو کہ اس بربریت پر خاموشی تمہاری غیرت پر سوال نہیں بن جائے گی .
اس علاقے کے ملا سے سوال بنتا ہے کہ اسلام کا درس نہیں کہ ظالم کا ہاتھ روکنا جہاد ہے . پھر تمہیں اس جہاد سے کیا چیز روکے بیٹھی ہے .
وزیر اعلی سے سوال بنتا ہے کہ کیا تیری ذمہ داری نہیں تھی کہ تحفظ کی ضمانت ہر شہری کو دے . وزیر اعظم سے سوال بنتا ہے کہ دیس کی غریب کی بے بسی تیرے لئے عذاب نہیں بن جائے گی .
تمام میڈیا سے سوال بنتا ہے کہ مجرم کو سزا تک خاموشی کیوں .
قبروں پر موم بتیاں جلانے والے انکل اور آنٹیوں سے سوال بنتا ہے کہ ان کٹے ہاتھوں پر شمعیں کب جلاو گے .
قابل شرم ہے میرے اور آپکے لئے کہ ہم کس معاشرے کو پروان چڑھتا دیکھ رہے ہیں . اور کچھ کرنے کی نہ تحریک کرتے ہیں اور نہ خود آگے بڑھنے کی جرات .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment